فتی اعظم کانپور مفتی رفاقت حسین اشرفی امین شریعت اول مرکزی ادارہ شرعیہ بہار کے لیے ایصال ثواب
آج بتاریخ 3 ربیع الآخر1443ھ مطابق 9 نومبر 2021 عیسوی ، برائے ایصال ثواب مفتی رفاقت حسین اشرفی علیہ الرحمہ، ادارہ شرعیہ بہار کی مرکزی بلڈنگ میں قرآن خوانی اور محفلِ میلاد کا انعقاد ہوا۔اس روح پرور پروگرام کی سرپرستی الحاج شاکر رضا نوری ناظم ادارہ شرعیہ بہار نے سنبھالی۔ جس میں ادارہ شرعیہ کے تمام اساتذہ شریک محفل تھے۔جن کے اسماء یہ ہیں:۔ فقیہ ملت مفتی حسن رضانوری صدرمفتی ادارہ شرعیہ ،قاضی امجدرضاامجدقاضی شریعت ادارہ شرعیہ،قاری نوازش کریم صاحب پرنسپل ادارہ ہذا،سید احمد رضا ،مولانا غلام جیلانی،
مفتی غلام سرور۔شیخ الحدیث مولانا جمال انور رضوی ۔مفتی عبد الباسط صاحب۔ ڈاکٹر ممتاز،حافظ جاوید،حافظ فخرالدین صاحب۔حافظ معراج احمد ۔نیز تخصص فی الفقہ کےتمام علماءکرام،درس نظامی اور شعبہ حفظ کے تمام طلبہ بھی شریک محفل تھے۔۔ مولانا غلام رسول اسماعیلی نے تلاوت کلام پاک سے محفل میلاد کی ابتداء کی۔۔ بعدہ حافظ فرید نے نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسین گلدستہ پیش کیا ۔ اس کے بعد حافظ آمین صاحب نے اپنی مترنم آواز سے محفل کو گل گلزار بنا دیا۔ پھر مولانا بدرعالم فیضی کھڑے ہوئے اور نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاپرخلوص نذرانہ پیش کر کے ہم سامعین سے رخصت ہوگئے۔۔
اسی طرح شعراء آتے گئے اور نعت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہدیہ پیش کرتے رہے۔بعدہ ڈاکٹر امجد رضا امجد نے مفتی رفاقت حسین اشرفی مفتی اعظم کانپورعلیہ الرحمہ کے علمی مقام پر بہترین خطاب فرمایا۔۔
محفل کے اخیر میں حضور فقیہ ملت مفتی حسن رضا نوری صدر مفتی مرکزی ادارہ شرعیہ بہار نے حضرت امین شریعت اول مفتی رفاقت حسین اشرفی مفتی اعظم کانپور کی حیات و خدمات پر مختصر روشنی ڈالی۔۔ اور آپ نے فرمایا کہ اگر علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ ادارہ شرعیہ کے بانی تھے تو مفتی رفاقت حسین اشرفی علیہ الرحمہ ادارہ کے روح رواں۔۔ان ہی کی انتھک کوششوں سے آج ہند وپاک میں ادارہ شرعیہ کی ایک الگ پہچان ہے۔۔۔۔ بلکہ یہیں تک محدود نہیں ،مفتی رفاقت حسین اشرفی صاحب کی ذات، علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ سے کئی گناہ زیادہ بارعب تھی۔ مفتی حسن رضا نوری نے مزید بیان فرمایا کہ مفتی رفاقت حسین اشرفی علیہ الرحمہ باشرع ،متقی، اور حد درجہ شرم و حیا کے پیکر تھے۔ایک مرتبہ آپ کا گزر پٹنہ کی گلیوں سے ہوا۔ آپ نے چند بے حیا، بے پردہ عورتوں کو دیکھا تو آپ نے خود اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور فرمایا کہ میں تو اتنے کثیر لوگوں کو گناہوں سے نہیں روک سکتا لیکن اپنے آپ کو ضرور بآسانی گناہوں سے روک سکتا ہوں۔فقط انہیں چند جملوں کے ساتھ مفتی حسن رضا نوری نے اپنی تقریر ختم فرمائی۔بعدہ صلاۃ و سلام اور دعا خوانی ہوئی اور محفل کا اختتام ہوا ۔اللہ تعالی ان کی مرقد پرانوار پر گہر باری فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
__________________
معراج احمد رضوی مصباحی


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں