![]() |
| بارش نہ ہونے کے اسباب |
بارش نہ ہونے کے اسباب
بارش نہ برسنا اور قحط سالی واقع ہونے کا سبب احکام خدا وندی کی خلاف ورزی اور اپنی بد اعمالیاں ہیں ، بالخصوص زنا کاری ، حق تلفی، غربا، مساکین اور حاجت مندوں کی امداد نہ کرنا،ناپ تول میں کمی کرنا یہ قحط سالی کے اصل اسباب ہیں ۔حدیث شریف میں ہے جولوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں وہ قحط سالی میں ، موت کی سختی میں اور حکام کے ظلم میں مبتلا ہوتے ہیں ۔
ایک دوسری حدیث میں ہے۔ ما من قوم یظھر فیھم الزنا الا اخذ بالسنة او کما قال علیہ السلام۔
حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی کہ بنی اسرائیل سات برس قحط میں مبتلا رہے یہاں تک کہ مردوں اور بچوں کو کھا گئے اور وہ اللہ تعالیٰ سے پہاڑوں میں جا کر تضرع وزاری کیا کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کے نبیوں کو وحی بھیجی کہ میں نہ تمہاری دعا قبول کروں گا اور نہ تمہارے کسی رونے والے پر رحم کروں گا جب تک کہ تم حق داروں کے حقوق ادا نہ کردو۔ پس انہوں نے حق ادا کئے تو مینھ برسائی
خشک سالی کے طبعی اسباب ہیں اور ان میں بھی انسان ہی کی شامت اعمال کو دخل ہے لیکن اس کے علاوہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اس کائنات میں جو بھی واقعات پیش آئیں وہ اتفاقی نہیں ہیں؛ بلکہ انسان کے اعمال اور احوال کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر مبنی ہیں ، انسان کی اطاعت و فرماں برداری اور معصیت ونافرمانی سے بارش کا غیبی نظام متعلق ہے ،
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پروردگار فرماتا ہے کہ اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں رات میں ان پر بارش برساوں اور دن میں ان پر دھوپ نکلا کرے ، اسی لئے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جب جمعہ کے دن بارش کی دعا کرنے کی خواہش کی گئی تو بعض روایتوں میں ہے کہ آپ ﷺنے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور صحابہ کرام سے فرمایا کہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو کہ وہ بڑا مغفرت کرنے والا ہے ،
غرض ، خشک سالی ، قحط سامانی اور موسم کی غیر معمولی تمازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تنبیہ ہے کہ انسان اپنا بھولا ہوا سبق یاد کرے ، خدا فراموشی سے باز آئے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرے کہ اس میں نہ صرف ان کی آخرت کی بھلائی ہے بلکہ ان کی دنیوی فلاح بھی اس سے متعلق ہے ، کم سے کم مسلمانوں کے لئے تو یہ حقیقت جزءایمان ہے ، اگر مصیبتیں اور آفتیں بھی انسان کو خدا کی طرف متوجہ کرنے سے قاصر رہیں تو اس سے زیادہ کم نصیبی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔
انا فی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا
مولی تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے یا رب العالمین اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے باران رحمت نازل فرما۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
از قلم:تلمیذ محدث کبیر عبدالرشید امجدی اشرفی دیناجپوری



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں