تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 18 نومبر، 2021

سرکاری دھان پرچیز سنٹر میں بدعنوانی کا الزام لگاکر کسانوں نے کیااحتجاج

 سرکاری دھان پرچیز سنٹر میں بدعنوانی کا الزام لگاکر کسانوں نے کیااحتجاج

سرکاری دھان پرچیز سنٹر میں بدعنوانی کا الزام لگاکر کسانوں نے کیااحتجاج

 سرکاری دھان پرچیز سنٹر میں بدعنوانی کا الزام لگاکر کسانوں نے کیااحتجاج




نیوزٹوڈے اردو: سرکاری دھان پرچیز سنٹر میں دلالوں کے سرگرم ہونے کی وجہ سے عام کسان مختلف سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔ مقامی سریکھا رائس مل اور دلالوں کی سازش اور سرکاری ملازمین کی ملی بھگت سے علاقے کے کسانوں کو دھان مناسب قیمت پر فروخت کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دھان کی خریداری مرکز پر کسانوں کو پرچیاں تقسیم کرنے سے لے کر دیگر کاموں میں دلالوں کا ٹولہ سرگرم ہے۔ملی جانکاری کے مطابق دھان خریداری مرکز کے کچھ سرکاری افسران نے ان سے ہاتھ ملایا ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ علاقے کی ایک رائس مل اس کرپشن میں مدد کر رہی ہے۔واضح رہے کہ ریاستی حکومت ریاست کے مختلف حصوں میں کسانوں سے کم از کم امدادی قیمت پر دھان خرید رہی ہے۔ مالدہ کے ہریش چندر پوردو نمبر بلاک علاقے میں بھی دھان کی خریداری شروع ہو گئی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے علاقے کے کھنٹا پرائمری اسکول میں واقع سرکاری دھان پرچیز سنٹر میں کسانوں میں پرچیاں تقسیم کی جا رہی ہیں لیکن علاقے کے کسانوں کی شکایت ہے کہ زیادہ تر معاملات میں انہیں پرچیاں نہیں دی جارہی ہیں جس کے خلاف آج انہوں نے احتجاج کیا۔ کسانوں کے احتجاج سے علاقے میں کہرام مچ گیا۔ دوسری جانب علاقے کی حکمراں جماعت کے گرام پنچایت کے اراکین نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ وہ علاقے کے کسانوں سے کم قیمت پر دھان خرید رہے ہیں۔ ساتھ ہی بتایا جا رہا ہے کہ دھان پرچیز سنٹر کی پرچیاں 200 سے 300 روپئے لے کر تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دھان پرچیز سینٹر کے اہلکاروں کی مدد سے علاقے کے کسانوں کو محروم کرکے ان کے نام پرچیاں جاری کی جارہی ہیں۔ تاہم انتظامیہ کے افسران نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کیمپ ابھی شروع ہوا ہے۔ روزانہ 40 کسانوں کے نام کی سلپس جاری کی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف ہریش چندر پوردو نمبر بلاک کے بی ڈی او وجے گری نے الزامات کی جانچ کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad