تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 17 جنوری، 2022

نووی ممبئی میں دارالقضاء کا افتتاح

نووی ممبئی میں دارالقضاء کا افتتاح
 نووی ممبئی میں دارالقضاء کا افتتاح


 نووی ممبئی میں دارالقضاء کا افتتاح

مسلمان اپنے گھریلوتنازعات کےحل لئےدارالقضاء سے رجوع کریں۔

    مولانا عتیق احمد قاسمی آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کی طرف سے مورخہ١۶/جنوری ٢۰٢٢ء کوکوپرکھیرنے سیکٹر نمبر١٤جامع مسجد میں دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا، جس کاافتتاح ندوۃ العلماء لکھنؤکے استاذحدیث اور بورڈکی دارالقضاء کمیٹی کے کنوینرحضرت مولانا عتیق احمد قاسمی بستوی نے کیا، آپ نے یہاں پر مفتی محمد فیاض عالم قاسمی کو ہفتہ میں ایک دن یعنی اتوارکے لئے قاضی مقررکیا، اوران سےقرآن وسنت کے مطابق فیصلہ کرنے کا حلف بھی لیا۔

    قضاء کی اہمیت پر کلیدی خطاب کرتے ہوئے قاضی مطیع الرحمٰن قاسمی قاضی شریعت دارالقضاء بھیونڈی نے کہاکہ گھریلوتنازعات کوقرآن وسنت کے مطابق حل کرنا ایک شرعی اور دینی فریضہ ہے،انھوں نے کہا کہ دارالقضاء اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہندوستانیوں کے لئے ایک عظیم نعمت ہے، کیوں کہ یہ سرکاری عدالتوں کامعاون ومددگارہے، قاضی موصوف نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ہماری سرکاری عدالتوں میں تین کروڑ سے زائد مقدمات زیرالتواءہیں، اگر کورٹ نیامقدمہ لینا بند کردے اورصرف زیرالتواء مقدمات ہی کو حل کرناچاہے تو بھی دو سو سال لگیں گے۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ کورٹ میں ایک مقدمہ حل کرنے میں حکومت کے اوسطاً آٹھ لاکھ روپئے خرچ ہوتے ہیں، اس لحاظ سےدارالقضاء یقینا ً حکومت کا بھی معاون ومددگارہے۔

    مولانامحمود دریاآبادی رکن تاسیسی آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دارالقضاء چلاناہرکس وناکس کی بات نہیں ہے کیوں کہ عہدہ قضاء ایک بڑی اہم ذمہ داری ہوتی ہے، قاضی کی نظر میں صرف اللہ کی رضاہوتی ہے انھیں کسی کی ناراضگی کاپرواہ نہیں ہوتاہے،قاضی کا فیصلہ منتظمہ کمیٹی کی رائے کے خلاف بھی ہوسکتاہے۔ ایسی صورت میں انتظامیہ کا امتحان ہوتاہے کہ وہ فیصلہ کو قبول کرتی ہے یانہیں؟ حالاں کہ ایسی صورت میں بھی قاضی کے فیصلہ کو قبول کرلینا ایمان کی علامت ہے، اسی میں عافیت ہے کہ ہم قاضی کے فیصلہ کوبلاچوں وچرا قبول کرلیں۔

    خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے حضرت مولاناعتیق احمد قاسمی بستوی کنویردارالقضاء کمیٹی آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈنے کہاکہ مظلوموں کی دادرسی کرنا،اورانھیں عدل وانصاف فراہم کرنا ایمانی تقاضہ ہے،یہ ایک شرعی ذمہ داری ہے، جس کو اہلیان نوی ممبئی نے اداکرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ اس میں کسی بھی طرح کا تعاون کرنا کارثواب ہے۔ آپ نے اس کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پورےہندوستان میں دارالقضاء کانظام شریعت اور ملکی قانون کے مطابق چل رہاہے،اللہ کا شکرہے کہ کورٹ کےجج حضرات بھی اس کو سراہتے ہیں کیوں کہ اس میں نوے فیصد سے زیادہ معاملات مل بیٹھ کر آپسی رضامندی سےحل ہوجاتے ہیں۔

    جناب مولاناحیات اللہ قاسمی صدرجمعیۃ علماء نوی ممبئی نے نظامت کے فرائض بحسن خوبی انجام دئے ۔خیرامت فاؤنڈیشن اورانجمن خیرالاسلام ٹرسٹ جو اس دارالقضاء کی انتظامیہ ہے نے مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔افتتاحی اجلاس میں جناب مولانا صادق صاحب قاسمی،(مہتمم معراج العلوم چیتاکیمپ)،مولانابدرالدجیٰ قاسمی،مفتی آزاد بیگ قاسمی،قاضی عبداللہ نورصاحب قاسمی، قاضی محمد ریاض ارمان قاسمی، ،قاضی جسیم اختر ،مفتی اسامہ صاحب،اوردونوں ٹرسٹ کے ذمہ دارجناب قریش احمدصدیقی صاحب،آفاق احمدخان،احمدداؤدفرفرے،کمال پاشا،مقبول احمد شیخ،عمرجمادات،عباس صاحبان اور علاقہ کی سرکردہ شخصیات اورائمہ مساجد وغیرہم نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ یہ دارالقضاء ہر اتوار کو صبح دس بجے سے شام چاربجے تک جاری گا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad