| مختصر سوانح حیات حضور عالی سید شاہ نور علی رحمۃ اللہ علیہ |
مختصر سوانح حیات حضور عالی سید شاہ نور علی رحمۃ اللہ علیہ
ولادتِ باسعادت:
آپ کی ولادت 1328 ھ 1907 ء میں اپنے آبائی وطن دیہہ سادات ضلع زرمت افغانستان میں ہوئی۔
نام و نسب:
آپ کا نام سید نورعلی ہے ۔عرف حضور عالی۔ بڑے حضور اور لقب سراج الاولیاء ہے۔والد ماجد :اپ کے والد ماجد حضرت سید شاہ عبدالعلی علیہ الرحمہ ہیں.
شجرہ نسب:
آپ حسینی سادات سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب 36 واسطے سے امام عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے اور ان کے واسطے سے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم تک۔
تعلیم و تربیت:
آپ نے عربی فارسی اور دینیات کی ابتدائی تعلیم افغانستان میں اپنے آبائی وطن میں حاصل کی تقریباً 14 سال کی عمر ہوئی تو اپنے والد ماجد اور عم محترم کے ہمراہ افغانستان سے دربھنگہ تشریف لائے اور پھر دربھنگہ کے ایک معروف دینی ادارے دارلعلوم حمیدیہ قلعہ گھاٹ میں معقولات و منقولات کی کتب متداولہ کی اعلی تعلیم کی تکمیل کی اپ خود خیرآبادی سلسلہ تدریس کے تلامذہ میں شمار کر تے تھے آپ فرماتے تھے کہ میں خیرآبادی ہوں اور خیر پھیلانا میرا کام ہے.
بیعت و ارادت:
آپ کے پیر و مرشد شیخ طریقت و معرفت حضرت سید میرا جان آغا رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن سے آپ کو سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں اجازت و خلافت حاصل تھی سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے علاوہ آپ کے والد ماجد نے آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ کی اجازت و خلافت مرحمت فرمائی تھی مزید برآں آپ کو سلسلہ چشتیہ کی اجازت و خلافت حاصل تھی.
افغانستان سے ہندوستان دربھنگہ میں آمد:
آپ پہلی مرتبہ 14 سال کی عمر میں تقریباً 1921ء میں اپنے والد ماجد اور عم محترم کے ہمراہ افغانستان سے ہندوستان آئے اور یہاں دربھنگہ کی معروف تاریخی درسگاہ دارلعلوم حمیدیہ میں علوم عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کی اس کے بعد اپ افغانستان واپس چلے گئے اور اپنے پیر و مرشد شیخ طریقت حضرت سید میرا جان آغا رحمۃ اللہ علیہ سے سلوک و معرفت کے اعلیٰ منازل و مقام طے کیے سلوک و معرفت کے منازل کی تکمیل کے بعد اپ کے پیر و مرشد نے آپ کو آپ کے جد امجد کی خانقاہ سنبھالنے کے لیے ہندوستان جانے کا حکم دیا اور ادھر جد امجد حضرت مولانا سید شاہ فدا عبد الکریم بانی خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ کی جانب سے بھی روحانی اشارہ ہوا چنانچہ آپ دوبارہ ہندوستان تشریف لائے جب آپ دوبارہ ہندوستان تشریف لائے تو اس وقت آپ کے والد ماجد حضرت سید شاہ عبدالعلی علیہ الرحمہ اور عم محترم ہادئ شریعت و طریقت سید شاہ عبد الہادی علیہ الرحمہ وصال کر چکے تھے خانقاہ میں تشریف لانے کے بعد اپنے پیر و مرشد کے حکم کی تعمیل میں اور جد کریم کی روحانی اجازت سے آپ نے خانقاہ کی سجادگی سنبھالی اس بار آنے کے بعد خلق خدا کی رشد و ہدایت کے لئے مکمل طور سے یہیں مقیم ہو گئے اور آپ اپنے وطن افغانستان اپنے اہل وعیال سے ملنے مہمان کے طور پر جاتے.
سجادگی سنبھالنے کے بعد آپ نے خانقاہ مسجد اور روضہ مولانا سمرقندی علیہ الرحمہ کی تعمیر جدید کی اپنے والد ماجد اور عم محترم کے مزارات کی ایک روضے کی شکل میں تعمیر کرائی اور ایک دینی درسگاہ دارلعلوم فدایہ خانقاہ سمرقندیہ کی بنیاد ڈالی دارلعلوم میں فضیلت تک کی تعلیم کا انتظام کر کے اسے ایک اعلیٰ دینی تعلیمی ادارہ بنایا.
دعوت و تبلیغی خدمات:
آپ کی دینی دعوتی تبلیغی اور سماجی خدمات کا زمانہ نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط ہے۔ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ کی سجادگی پر متمکن ہونے کے بعد آپ نے اپنے اسلاف کی روش پر خاموشی و سنجیدگی اور متانت کے ساتھ دین و سنیت اور تصوف کی نشر واشاعت میں خود کو لگا دیا اور سماجی اصلاحات کی بھر پور کوشش کیں آپ نے اپنے آبا و اجداد کے نقشے قدم پر دعوت و تبلیغ کے لئے بنگال و بہار کے پسماندہ علاقوں کا انتخاب کیا۔ آپ گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی تھے بولتے کم تھے اور عمل کر کے زیادہ دیکھا تے تھے آپ زمین پر اتر کر اور گھر گھر پہنچ کر دعوت و تبلیغ کرنے کے قائل تھے علاقہ اتر دیناجپور و اطراف سیمانچل میں آپ کی دعوت و تبلیغ کے زریں کارنامہ دیکھے جاسکتے علاوہ ازیں کولکاتا ممبئی دہلی بہار جھارکھنڈ حتی کہ پڑوسی ملک نیپال میں جہاں جہاں تک آپ کی رسائی ہوئی آپ نے دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیا افغانستان پاکستان میں بھی آپ نے اپنے وابستگان اور مریدین کی حتی امکان احسن طور پر اصلاح و تربیت کی شہر دربھنگہ کے لوگ بھی جہاں خانقاہ سمرقندیہ واقع ہے کثرت سے آپ سے وابستہ تھے اور آپ اپنے صوفیانہ حسن اخلاق اور دینی کردار عمل سے ان کی اصلاح و تربیت کر تے تھے اور انہیں موقع بہ موقع دین کے لئے پند و نصائح کر تے رہتے تھے جن کے اثرات ملنے والوں میں بخوبی محسوس کیے جاتے ہیں اپنے شہر میں دعوت کا کام کتنا مشکل ہوتا ہے اسے دعوت سے جڑے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں.
مدارس و مساجد کا قیام:
آپ نے دینی تعلیم کے فروغ و استحکام اور اللہ رب العزت کی خاطر عبادت و ریاضت کے لئے کثیر مدارس و مساجد کی بنیاد رکھی خصوصاً علاقہ اتر دیناجپور مغربی بنگال کے ایک مکتب کو دارلعلوم فدائیہ نوریہ کے نام سے دارلعلوم کی شکل میں تبدیل کرنے کا سہرا آپ ہی کے سر ہے جو آج علاقہ اتر دیناجپور میں دینی تعلیم کے فروغ اور نشر واشاعت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے آپ کے ذریعے قائم کردہ چند مدارس و مساجد کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
1 روحانی مسجد پاچھو رسیا
2 شمسی جامع مسجد نیپال
3 شمس جامع مسجد چھوسیا
4 روحانی جامع مسجد اسلام پور
5 جامع مسجد مونا گچھ
مدارس اسلامیہ
1 دارلعلوم فدائیہ نوریہ
2 دارلعلوم نوریہ فیض الغرباء دھرا
3 دارلعلوم شمس العلوم اسلام پوران کے علاوہ بہت سارے مدارس قائم کیے آپ نے
حج و زیارت حرمین شریفین:
آپ اپنی حیات میں تین بار کعبتہ اللہ کے حج اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے دوبار ہندوستان سے اور ایک بار افغانستان سے.
تاریخ وصال:
21 ذی الحجہ 1438ھ مطابق 12 ستمبر 2017 منگل کی شب میں 10/56 پر وہ ساعت آ ہی گئی جب آپ نے سبھوں کو ظاہری طور پر داغ مفارقت دے کر واصل بحق ہو گئے۔۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
تجہیز وتکفین:
وصال کے بعد نماز جنازہ کا اعلان 13 ستمبر بعد نماز عشاء کا کیا گیا جس میں کثرت سے مریدین و معتقدین شرکت کیے جن کی تعداد اخباری بیانات کے مطابق ڈیڑھ لاکھ سے زائد تھی تقریباً 11بج کر 15 منٹ پر اشک بار نم آنکھوں کے ساتھ لاکھوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں حضور عالی سید شاہ نور علی رحمۃ اللہ علیہ کو الوداع کہا اور اللہ کے بندے کو اللہ کے سپرد کر دیا.
ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے
۔۔۔۔۔۔۔پیش کش۔۔۔۔۔۔۔
تلمیذ محدث کبیر خلیفہ حضور شیخ الاسلام و المسلمین گدائے مخدوم و رضاعبدالرشید امجدی ارشدی دیناجپوری-
۔۔۔۔۔۔خادم۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔-
سنی حنفی دارالافتاء زیر اہتمام تنظیم پیغام سیرت مغربی بنگال
7030786828


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں