| یتی نرسنگھانند کی ضمانت کی درخواست خارج |
یتی نرسنگھانند کی ضمانت کی درخواست خارج، عدالت نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے یہ حوالہ دیا۔
نیوز ٹوڈے اردو: اتر پردیش کے ڈاسنا دیوی مندر کے چیف سنت یتی نرسنگھانند (Yati narsinghanand saraswati) ان دنوں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے ہریدوار میں ایک دھرم سنسد کا انعقاد کیا تھا، جس میں اس نے بابائے قوم مہاتما گاندھی اور ایک خاص برادری کی خواتین کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا تھا،اور کھلے عام مسلمانوں کے خلاف اپنا زہر افشانی کی تھی۔اسی معاملے میں یتی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
حالانکہ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار ایسی متنازع تقریر کر چکا ہے۔ اب اس معاملے میں یتی نرسنگھا نند کے وکلاء کی جانب سے ضمانت حاصل کرنے کے لئے درخواست دائر کی گئی تھی جسے اتراکھنڈ (ہری دوار) کی عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔
عدالت نے ایک خاص کمیونٹی کی خواتین پر توہین آمیز ریمارک کرنے کے معاملے کو سنجیدہ لیا ہے اور اسی کا حوالہ دیتے ہوئے یتی نرسنگھانند کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یتی نرسنھگا نند پر کیا الزامات ہیں؟ملعون نرسنگھانند طویل عرصے سے کئی مسائل پر متنازعہ بیانات دیتا آرہا ہے، اور مسلمانوں کو برا بھلا کہتا آیا ہے۔ اس بار اس کے جیل جانے کی وجہ سوشل میڈیا کے ذریعے اقلیتی برادری کی خواتین پر نازیبا تبصرہ کرنا ہے۔
| یتی نرسنگھانند کی ضمانت کی درخواست خارج |
نرسنگھانند کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 295A اور 509 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کیس میں اس پر الزام ہے کہ اس کی دو متنازعہ ویڈیوز ٹوئٹر اور یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی تھیں۔
الزامات کے مطابق، ویڈیو میں نرسنگھانند کو مسلم خواتین کے تئیں انتہائی نازیبا زبان میں قابل اعتراض اور تضحیک آمیز تبصرہ کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ ویڈیو میں نرسنگھا نند واضح طور پر یہ کہتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ مسلمانوں نے ہر چیز پر قبضہ کر لیا ہے۔ وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے آر ایس ایس پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ اسلام کی خدمت کے لئے ان کی خواتین اپنے مردوں کی مالکن کے طور پر کام کرتی ہیں اور وہ ان کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
نرسنگھانند کو مقدمہ درج ہونے کے بعد 16 جنوری 2022 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، ہریدوار کی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ ضمانت کی درخواست میں نرسنگھانند نے عدالت سے کہا کہ وہ مکمل طور پر بے قصور ہے اور اسے اس معاملے میں جھوٹا پھنسایا جا رہا ہے۔ ایف آئی آر رپورٹ میں اس کے خلاف کوئی خاص الزامات نہیں ہیں۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ درج ایف آئی آر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کسی کمیونٹی کے خلاف کیا ریمارکس کئے گئے اور مذکورہ بیانات سے کس کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔
عدالت نے یتی نرسنگھانند کی ضمانت کی درخواست کیوں مسترد کی؟
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ایف آئی آر درج کرنے میں کافی تاخیر ہوئی۔اس کے علاوہ درخواست گزار کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور وہ شدید بیمار ہے اس لئے اسے ضمانت پر رہا کیا جائے۔درخواست کی سماعت کے دوران سی جے ایم مکیش آریہ نے کہا کہ درخواست گزار بار بار سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی ماحول کو خراب کرنے والے ریمارکس دے رہا ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں سنگین جرم ہونے کا قوی امکان ہے۔
عدالت نے کہا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر کیا گیا جرم سنگین نوعیت کا ہے، عدالت نے خواتین کے خلاف کیے گئے ریمارکس کو مدنظر رکھتے ہوئے نرسنگھانند کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں