| بیرسٹراسدالدین اویسی کے قافلے پر جان لیواحملہ،بال بال بچے اویسی |
بیرسٹراسدالدین اویسی کے قافلے پر جان لیواحملہ،بال بال بچے اویسی
نیوزٹوڈے ا ردو:یوپی کے سیاسی وانتخابی ماحول کے درمیان آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ بیرسٹراسد الدین اویسی کے قافلے پر شرپسندوں نے جان لیواحملہ کردیا۔یہ جان لیواحملہ دہلی-
میرٹھ ایکسپریس وے پر چھجارسی ٹول پلازہ کے قریب پیش آیا۔مجلس اتحاد المسلمین کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی یوپی کے میرٹھ ، کیتھور میں انتخابی جلسے ومہم میںشرکت کے بعددہلی جارہے ہیں۔اسی دوران دہلی-میرٹھ ایکسپریس وے پر چھجارسی ٹول پلازہ کے قریب دوشرپسندوں نے ان کی گاڑی پر تین سے چار راونڈ گولیاں چلائیں۔اس جان لیواحملے میں اسدالدین اویسی اور ان کا قافلہ بال بال بچ گیا۔فائرنگ کے نشانات گاڑی پر صاف دکھائی دے رہے ہیں ،ساتھ ہی گاڑی کے ٹائر بھی پمچرہوگئے ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و ایم پی بیرسٹر اسدالدین نے اس واقعہ کی آزادانہ وغیر جاندارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز ی اور اتر پردیش کی بی جے پی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائیں اور یہ معلوم کریں کہ حملے کے پیچھے کون ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بارے میں علیحدہ انکوائری کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کو خط لکھیں گے۔
اس دوران ایس پی ہاپور دیپک بھوکر نے بتایا کہ ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جبکہ اس کے پاس سے ہتھیار برآمد کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، اس کے لئے سرچ آپریشن جاری ہے۔ مزید حقائق سامنے آنے پر ہم آپ کو اپ ڈیٹ کریں گے۔ ابھی تک کوئی بھی زخمی نہیں ہوا ہے۔ ہم سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کر رہے ہیں۔پولس افسران کے مطابق ایک شخص کو گرفتار اور دوسرے کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اویسی کے بے باک انداز اور شرپسندوں کی مذمت کرنے کی وجہ سے یہ حملہ ہوا ہے۔ پروین کمار، آئی جی رینج، میرٹھ نے کہا ہے کہ پولس نے انہیں موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر جائے وقوعہ کا معائنہ کیا ہے اور شواہد اکٹھے کئے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ایک شخص جس کی شناخت سی سی ٹی وی کی مدد سے کی گئی تھی، پکڑا گیا ہے۔ اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ہم اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔
یہ واقعہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات سے کچھ دن پہلے کا ہے۔ اویسی ریاست میں اپنی پارٹی کے لئے مہم چلا رہے ہیں۔سیاسی رد عمل،اتر پردیش کے وزیر محسن رضا نے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ کی گاڑی پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک بدقسمتی کا واقعہ ہے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
اس واقعے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کی ترجمان انیلا سنگھ نے کہا کہ حملے کے ذمہ دار سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ کے بھائی اور تلنگانہ اسمبلی کے ممبر اسمبلی اکبر الدین اویسی نے بھی اس واقعہ پر رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ ڈاسنا میں بیرسٹر اسد الدین اویسی صاحب پر جان لیوا حملہ ہوا کیونکہ ان پر کئی چکر لگائے گئے تھے۔" الحمدللہ صدر صحیح سالم ہیں، اللہ تعالیٰ صدر صاحب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔


ضرور۔۔۔۔
جواب دیںحذف کریں