| مہر کی شرعی اور سماجی حیثیت |
مہر کی شرعی اور سماجی حیثیت
عقد نکاح کی وجہ سے شوہر کو بیوی سے جماع کرنے کا حق اور ایک طرح کی ملکیت حاصل ہوتی ہے، مہر اسی حق و ملکیت کے معاوضہ کا نام ہے، جس کی ادائےگی شوہر پر شرعاً لازم ہے۔ ردالمحتار میں ہے: اسم للمال الذي یجب في النکاح علی الزوج في مقابلة البضع اھ (4/220) نکاح کی وجہ سے شوہر کو بیوی پر ایک طرح کی ملکیت حاصل ہوتی ہے، لہٰذا بیوی کو اس ملکیت کے بدلے مال دلایا جاتا ہے، اس لیے کہ عورت محترم ہے اور بغیر معاوضہ کے اس پر کوئی حق ثابت کرنے میں اس کی اہانت ہے۔ ھدایةمیں ہے : ولأنہ حق الشرع وجوبًا إظھارًا لشرف المحل اھ ․(2/324) مہر کی ادائےگی شوہر پر لازم و ضروری ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَن تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ (النساء:۲۴)
یعنی اپنے مالوں کے عوض حلال عورتیں تلاش کرو
۔بہتر یہ ہے کہ یہ مال (مہر) بیوی کو پہلی ملاقات کے وقت اس کے حوالہ کردیاجائے۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ نکاح کے وقت مہر بیوی کے ولی کےحوالہ کردیا جاۓ اور ولی منکوحہ کو وہ مہر پہنچادے-
حنفیہ کے نزدیک مہر شرعی کم سےکم دس درہم ہے حدیث شریف میں ہے:"لا مھر اقل من عشرۃدراھم
اور دس درہم کا موجودہ وزن 32/ گرام 659/ ملی گرام چاندی ہے.مورخہ 28 ' نومبر 2021ء کو چاندی کا ریٹ فی کلوباسٹھ ہزار روپے تھا- اس حساب سے دس درہم کی قیمت تقریبا دوہزار پچیس روپے (2025) ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی اس سے کم مہر مقرر کرے تو بھی اس کے ذمہ دس درہم یا اس کی قیمت واجب ہوگی۔ اور اگر زیادہ مہر باندھے تو جو مقررہو، وہی واجب ہوگا۔اور اگرخلوت صحیحہ سے پہلے عورت کو طلاق دے دے تو شوہر پر نصف مہر لازم ہوگا۔
مہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ حیثیت اور حالات کے اعتبار سے باہمی رضامندی سے جتنا چاہیں ، مقرر کر سکتے ہیں کہ قرآن حکیم میں اس کے لیے قنطار کا لفظ وارد ہے جس کا معنی ہے مال کثیر اور مال کثیر کا اطلاق کروڑوں پر بھی ہو سکتاہے، جیساکہ سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیااور اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا: عورتوں کے حق مہر زیادہ نہ دو، اگر مجھے پتہ چلا کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حق مہر ادا کیا ہے، اس کو دیا گیا تو وہ زائد مال بیت المال میں جمع کرا دوں گا، پھر منبر سے نیچے آئے تو ایک قریشی خاتون نے کہا: اے امیرالمومنین! کیا کتاب اللہ کی پیروی زیادہ حق رکھتی ہے یا آپ کا قول؟ حضرت عمر فرمانے لگے: اللہ کی کتاب، لیکن ہوا کیا؟ کہنے لگی: آپ نے ابھی لوگوں کو عورتوں کے حق مہر زیادہ دینے سے منع فرمایا جب کہ اللہ کی کتاب میں ہے: و اٰتَیْتُمْ اِحْدٰھنَّ قِنْطَارًا [النساء ٢٠]
حضرت عمر فرمانے لگے: اللھم کل احد افقہ من عمر اے اللہ ! ہر ایک عمر سے زیادہ فقیہ وسمجھ دار ہے دو یا تین مرتبہ فرمایا۔ پھر منبر کی جانب آئے اور لوگوں سے فرمانے لگے: میں نے تمہیں زیادہ حق مہر دینے سے منع کیا تھا، لیکن مرد اپنے مال میں سے جتنا دینا چاہے مہر مقرر کرسکتا ہے (سنن بیہقی حدیث نمبر 14342)مہر میں اگر چہ کثیر رقم مقرر کرنا جائز ہے،لیکن مناسب رقم مقرر کرنا شرعاً محمود ہے کہ رسولِ بے مثال صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیرھن ایسرھن صداقا یعنی عورتوں میں سب سے بہتر وہ عورت ہے جس کا مہر بہت آسانی سے ادا کیاجائے (معجم کبیر حدیث نمبر 11100)اس حدیث کی شرح میں فرمایا گیا: عورت کے مہر کا کم ہونا عورت کی برکت اور بہتری کی نشانی ہے اور یہ کامیاب نکاح کے لئے اچھا شگون ہے (فیض القدیر 4117)
مہر کی مسنون مقدار:
فریقین مہر کے معاملے میں میانہ روی سے کام لیں ، نہ اتنی زیادہ مقرر ہوں کہ مرد زندگی بھر اس کی ادائےگی سے قاصررہے ، نہ اتنی کمی کی جائے کہ اس کی وقعت واہمیت ہی ختم ہو جائے۔
مہر کے تقرر میں مہر فاطمی کا اعتبار کیاجائے۔
مہر فاطمی اس مہر کو کہا جاتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتون جنت سیدتنا حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالی عنہا کے لئے مقرر فرمایا تھا، اس کی مقدار 500 درہم چاندی تھی۔ مسلم شریف کی حدیث میں :فتلک خمس مأۃ دراھم کا لفظ آیا ہے۔
فتوی رضویہ میں ہے : عامۂ ازواج مطہرات وبنات مکرمات کا مہر اقدس پانچ سو درہم سے زیادہ نہ تھا - ( ص ٤۸٦ ج ۵ )
مہر فاطمی کی مقدار:
مہر فاطمی کی مقدار احادیث میں ساڑھے بارہ اوقیہ منقول ہے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے ، تو اس حساب سے مہر فاطمی کی مقدار پانچ سو درہم بنتی ہے ۔
مہر فاطمی کی سنت پر عمل کرنے کے لئے بہتر تو یہ ہے کہ اتنی مقدار چاندی دی جائے، لیکن اگر چاندی نہ دی جائے تو نکاح نامے میں یہ الفاظ لکھ دیۓ جائیں کہ" مہر فاطمی" بصورت سونا، یا بصورت نقد " اور پھر مہر فاطمی کی مالیت کے بقدر ہی سونا یا نقدی دی جائے تو مہر فاطمی کی سنت ادا ہوجائے گی۔
مہر فاطمی کی وضاحت:
مہر فاطمی دوطرح کاہے: مہر معجل جو وقت ملاقات پیشگی دیا گیا۔ اور مہرمقرر جس پر عقد نکاح واقع ہوا۔
مہر معجل 480/درہم تھا،جو موجودہ وزن سے ایک کلو 567/گرام 641/ملی گرام چاندی ہوتا ہے۔چاندی کی قیمت کم و بیش ہوتی رہتی ہے۔ 28 نومبر 2021ء کو چاندی کا ریٹ فی کلو 62000 روپےتھا، اس حساب سے 480 درہم کی قیمت تقریباً ستانوے ہزار، ایک سو چورانوے (97،194)روپے ہوتی ہے۔
مہر مقرر چار سو مثقال چاندی تھا, اور موجودہ وزن ایک کلو 866/گرام 240/ ملی گرام چاندی ہوتا ہے جس کی قیمت تقریباً ایک لاکھ پندرہ ہزار سات سو سات روپے (1,15707) ہوتی ہے۔(مجلس شرعی کے فیصلے)
مہر کے اقسام واحکام:
مہر چوں کہ عورت کا حق ہےآ اس لیے شریعت نے عورت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ نکاح کے وقت اگر یہ شرط لگائے کہ مجھے پورا مہر معجل (جلدی) چاہیے تو شوہر کو وہ مہر جلدی دینا پڑے گا، لیکن اگر عورت اس پر راضی ہوجائے کہ مہر کا کچھ حصہ معجل (جلدی) ہو اور کچھ حصہ مؤجل (تأخیر) سے ادا کردیا جائے یا مکمل مہر ہی مؤجل ّ(تاخیر) سے ادا کیا جائے تو پھر شوہر کے لیے مہر میں تاخیر کرنے کی گنجائش ہے-
اسی میعاد کے اعتبار سےمہر کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں:
( ۱ ) مہر معجل کہ خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہو-
( ۲ ) مہر مؤجل جس کے لئے کوئی معیاد مقرر ہو-
( ۳ ) مہر مطلق کہ جس میں نہ تو خلوت سے پہلے مہر دینا قرار پایا ہو، اور نہ ہی اس کے لئے کوئی معیاد مقرر ہو-
مہر معجل کے احکام:
مہر معجل ہونے کی صورت میں عورت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جب تک مہر وصول نہ کر لے، شوہر کو وطی اور مقدمات وطی سے باز رکھے اور شوہر کو حلال نہیں کہ عورت کو مجبور کرے اگرچہ اس سے قبل عورت کی رضامندی سے وطی وخلوت ہو چکی ہو یعنی یہ حق عورت کو ہمیشہ حاصل ہے جب وصول نہ کرے-
(١) اگر شوہر عورت کو سفر میں لے جانا چاہتا ہو ، تو عورت انکار کر سکتی ہے -
( ۳ ) مہر معجل لینے کے لئے عورت اگر وطی سے انکار کرے تو اس کی وجہ سے نفقہ ساقط نہ ہوگا -
( ٤ ) مہر معجل ادا نہ کرنے کی صورت میں عورت بلااجازت شوہر گھر سے باہر بلکہ سفر میں بھی جا سکتی ہے جب کہ ضرورت سے ہو -
مہر مؤجل کے احکام :
اگر مہر مؤجل یعنی میعادی ہے اور میعاد مجہول ہے تو مہر فوراً دینا واجب ہے . ہاں اگر مؤجل ہے اور میعادی یہ ٹھہری کہ موت یا طلاق پر وصول کرنے کا حق ہے، تو جب تک موت یا طلاق واقع نہ ہو، عورت مہر وصول نہیں کر سکتی، اور طلاق یا موت واقع ہوئی، تو اب یہ بھی معجل ہو جائے گا یعنی فی الحال مطالبہ کر سکتی ہے اگرچہ طلاق رجعی ہو ، مگر رجعی میں رجوع کے بعد پھر مؤجل ہو جاۓ گا -
( ۲ ) مہر مؤجل یعنی میعادی تھا اور میعاد پوری ہو گئی تو عورت اپنے نفس کو روک سکتی ہے - لیکن صحیح یہ ہےکہ میعاد پوری ہونے کے بعد عورت مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے ، مگر اپنے آپ کو اس کے لئے کبھی روک نہیں سکتی، خصوصاً جب کہ رخصت ہو چکی ہو، ( فتاوی رضویہ 5/522)
مہر مطلق کے احکام:
مہر مطلق کا مدار عرف اور عادت پر ہے جس خطہ میں عام طور پر یہ رواج ہو کہ مثلاً کل یا نصف یا ربع یا کسی قدر پیشگی لیتے ہیں، وہاں اتنا پیشگی دینا ہوگا، اور جہاں عرف یوں ہے کہ موت یا طلاق کے بغیر لینا دینا نہیں ہوتا - جیسا کہ عموماً ہمارے ہندوستان میں ہے
یہاں جب تک زوجین میں سے کسی کا انتقال یا طلاق واقع نہ ہو، مطالبہ کا اختیار حاصل نہ ہوگا -( فتاویٰ رضویہ5/316)
افسوس کہ آج کل مہر کے معاملہ میں بھی افراط و تفریط ہے ، بہت سے علاقوں اور برادریوں میں آج بھی 500 یا786روپے مہر مقرر کیا جاتا ہے اور بعض حضرات محض اظہار تفاخر کے طورپر کئی کئی لاکھ روپے مہر مقرر کرتے ہیں اور ادا نہیں کرتے ۔
آج کل چون کہ کرنسی کی قیمت میں استحکام نہیں اورمسلسل اتار کا رجحان ہے۔ آج سے بیس پچیس سال پہلے پانچ ہزار روپے کی اہمیت تھی لیکن آج اتنی رقم سے ایک غریب گھرانے کی زندگی بھی نہیں گذر پاتی اور ہندوستان میں نقد مہر ادا کرنے کا رواج نہیں ہے ، ان حالات میں مناسب طریقہ یہ ہے کہ مہر سونے یا چاندی میں مقرر کیا جائے۔ رسول اﷲ کے زمانہ میں درہم چاندی کا اور دینار سونے کا ہوا کرتا تھا ، کیوں کہ سونے اور چاندی کی قیمت میں ابھی بھی ایک حد تک استحکام ہے ؛ اس لئے یہ عورت کے حق میں انصاف کی بات ہوگی ۔ مثلاً اگر آج پانچ تولہ سونا مہر مقرر کیا جائے ، تو اس کی قیمت دو لاکھ یا اس سے کچھ زیادہ ہے ، اگر اگلے بیس سال کے بعد بھی مہر ادا کیا جائے تو عورت کو پانچ تولہ سونا حاصل ہوگا ، اس کے برخلاف اگر دو لاکھ مقرر ہو ، تو ممکن ہے بیس سال بعد اس سے دو ہی تولہ سونا خرید ا جاسکے ، ظاہر ہے یہ عورت کے لئے نہایت غیرمنصفانہ بات ہوگی کہ ایک تو اس کا مہر وقت پر ادا نہیں کیا گیا ، دوسرے جو مہر دیا گیا۔ اس کی بھی اب قیمت نہایت کم ہوگئی-
اس لیے میری مخلصانہ گذارش ہے کہ روپے کے بجائے چاندی یا سونے کی خاص مقدار مقرر کیا جائے تاکہ عورتوں کا خسارہ نہ ہو- یہ مسئلہ بھی ذہن میں رکھناچاہئے کہ مہر بھی دوسرے قرضوں کی طرح ایک قرض ہے ،جتنی جلدی ہوسکے اداکردیا جاۓ۔
ہمارے یہاں بیشتر لوگ دین مہر ادا نہیں کرتے ، محض رسمی طورپر مہر مقرر کرلیا جاتاہے ، جب کہ رسولﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نکاح کیا اورنیت یہ ہو کہ عورت کو مہر میں سے کچھ نہ دے گا تو جس دن وہ مرے گا ، زانی مرے گا (طبرانی بحوالہ بہار شریعت 7/32)
دوسری حدیث میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اﷲ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گنہگار وہ شخص ہے ، جو کسی عورت سے نکاح کرے ، اس سے اپنی ضرورت پوری کرلے ، پھر اسے طلاق دے دے اور اس کا مہر بھی نہیں دے۔ ( مستدرک حاکم ، عن عبداﷲ بن عمر : ۲؍۱۹۹ ، حدیث نمبر: ۲)
بعض علاقوں میں موت کے بعد بیوی سے مہر معاف کرایا جاتا ہے ، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لاش سامنے رکھی ہوئی ہے اور عورتیں اخلاقی دباؤ ڈالتی ہیں کہ مہر معاف کردو ، اس وقت رنج و الم کی فضا ہوتی ہے اور اگر اندر سے معاف کرنے پر آمادگی نہ ہو ، تب بھی حیا کے تقاضے کے تحت وہ زبان سے انکار نہیں کرپاتی ، یہ نہایت ہی ناشائستہ اور غیر شرعی طریقہ ہے ، شرعی اُصول یہ ہے کہ جب کسی کا انتقال ہو ، تو پہلے قرض داروں کا قرض ادا کیا جائے ، پھر ورثہ میں ترکہ کی تقسیم ہو ، جیسے دوسرے قرض واجب الاداء ہیں ، اسی طرح مہر بھی ایک قرض ہے اور اس کی بھی ﷲ کے پاس جواب دہی ہے ، اس لئے مہر معاف کرانے کی کوئی وجہ نہیں ، ترکہ میں سے پہلے دوسرے قرض داروں کی طرح بیوی کا بھی مہر ادا ہونا چاہئے ، اس کے بعد جو بچ جائے وہ تمام ورثہ میں تقسیم ہو۔
البتہ عورت مہر معاف کرنا چاہے تو معاف کرسکتی ہے، اس کی وجہ سے وہ ثواب کی حق دار ہوگی، مگر اس کے لئے اس پر دباؤ نہ ڈالا جائے، گزارش کی جاسکتی ہے، ویسے یہ بات مرد کی حاکمیت کے شایانِ شان نہیں کہ معمولی سی رقم کے لئے اپنی محکوم عورت سے معافی کی گزارش کرے-واللہ تعالیٰ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ازقلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد صابر عالم مصباحی
صدر مفتی وناظم تعلیمات دارالعلوم فدائیہ نوریہ پاچھو رسیا، اسلام پور،اتر دیناج پور، مغربی بنگال-
رابطہ نمبر 7001469168


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں