| ”ماہ رمضان نزول قرآن اور اس کے مقاصد“ |
”ماہ رمضان نزول قرآن اور اس کے مقاصد“
قرآن حکیم اللہ تعالیٰ عزوجل کا وہ مقدس کلام ہے،جو تغیر وتبدل اور محرف ہونے سے پاک ہے،اور صفات باری تعالیٰ کے سبب غیر مخلوق ازلی اور ابدی ہے، علوم وفنون اختراعات و ایجادات ترقیات و فتوحات دنیاوی واخروی شفائے ظاہر وباطن اور ارضی وسماوی تمام علوم کو احاطہ کیے ہے، تبیانالکل شئی اور ولارطب ولا یابس الا فی کتاب مبین کے حقائق ومعارف کا مجموعہ اور سرچشمہ ہے، دنیا میں یہ واحد کتاب ہے جو اپنے نزول سے ماقبل اور مابعد علوم وفنون واقعات وقصص سب کو جامع ہے۔
یادرہے کہ حاکم مطلق کا یہ کلام وحی کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ پر حسب ضرورت 23سالہ مدت میں تدریجا تدریجا نازل ہوکر ہم تک یوں پہونچا ہے کہ لفظ وحرف تو دور کی بات کسی نقطہ میں بھی تغیر نہ ہوا،لا تبدیل لکلمات اللہ اور انالہ لحافظون ساتھ میں اِنَّ عَلَینَا جَمعہ وَ قراٰنَہُ کی الوہی سند نے اس کے غیر متبدل ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔
اب اس پر کسی بھی طرح کی تحریف و ترمیم کی بات کرنا پاگل پنی اور سعی لاحاصل ہے، نزول قرآن کے آغاز سے لیکر اب تک پوری اسلامی تاریخ میں قرآن کی عظمت و تقدس کو مجروح کرنے کوشش کی گئی، شک و ارتیاب کے گرد چکر کاٹنے والے مریض القلب خبیث الباطن اور بتان وہم وگمان کےپرستاروں باطل قوتوں کو فاتوابسورةمن مثلہ اور ذالک الکتاب لاریب فیہ کے سامنے شکست و ہزیمت اور ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا،بس تقریب فہم کے لیے بتادوں مقولہ مشہور ہے،آفتاب آمد دلیل آفتاب، ایسے ہی قرآن آمد دلیل قرآن، اس کا ایک ایک حرف اپنے اعجاز وکمال کے اعتبار سے خدائی کلام ہونے پر دلیل ہے، یہی وجہ ہے منظم اور منصوبہ بند کوششوں کے بعد بھی زیر وزبر حرکات وسکنات کے ساتھ بھی قرآن محفوظ ہے، اور ان شاءاللہ محفوظ رہے گا معلم کائنات رسول اللہ ﷺ نے اس کتاب محفوظ کے پڑھنے پڑھانے سیکھنے سکھانے والوں کو خیار امت قرار دیا فرمایا خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ(رواہ البخاری) تم میں سب سے بہترشخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور لوگوں کو سکھائے۔
اب آئیے دیکھیں اور سمجھیں ”قرآن کی مدت نزول 23سال ہے تورمضان کو نزول قرآن کامہینہ کیسے؟
“ربانی ارشاد ہے:ترجمہ کنزالایمان:رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں (سورہ بقرہ)
اس کے علاوہ سورہ دخان کی ابتدائی آیات اور سورہ قدر یہ بتارہے ہیں کہ قرآن رمضان المبارک میں نازل ہوا، اور لیلة القدر کی تخصیص بھی موجود ہے،اس میں تطبیق کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟
مفسرین فرماتے ہیں، کہ نزول قرآن کا آغاز ماہ رمضان میں ہوا، اور شب قدر جیسی مقدس رات میں یہ صحیفہ یکبارگی آسمان دنیا پر اتارا گیا، جیساکہ امام رازی نے تفسیر کبیر سورہ بقرہ آیة185 کے تحت لکھا ہے، قرآن کریم کے نازل ہونے کی ابتداءرمضان میں ہوئی، اور تفسیر خازن میں اسی آیة کے تحت ہے، مکمل قرآن رمضان المبارک کی شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا گیا اور بیت العزت میں رہا،
نبی کریم ﷺ پر جس وقت پہلی آیت کریمہ نازل ہوئی، اس وقت آپ حرا کے غار میں تشریف فرما تھے، عمر شریف کا چالیسواں سال تھا، علم توقیت وسنین کے ماہرین نے لکھا ہے کہ رمضان المبارک کی سترہویں ۱۷تاریخ شب جمعہ اور سن عیسوی کے حساب سے اس کی تاریخ14یا 17اگست 160عیسوی قرار پائی ہے، آیت اقرا کے بعد حسب موقع تواتر وتدریج کے ساتھ آیتیں سورتیں اترتی رہیں، جن میں مکی مدنی سفری حضری لیلی ونہاری ارضی وسماوی وغیرہ مختلف حصے ہیں،
قارئین! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رمضان المبارک پورے سال میں اپنی عظمت کے اعتبار سے منفرد ہے، اور اس کے منفرد و ممتاز ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں، اس میں ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن روزہ کا اہتمام اور اس کے ضمن میں عبادت ریاضت تلاوت تراویح تسبیح وتہلیل اوراد وظائف کی کثرت ہوتی ہے، بندگان خدا رجوع الی اللہ اور اپنے اعمال وکردار کا احتساب کرتے ہیں، بارگاہ ایزدی سے اجر و ثواب اور نیکیوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے، یہ سب اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ نزول قرآن نے اس ماہ کی عظمتوں کو اور دوبالا کردیا ہے یہ نزول قرآن ہی کا صدقہ ہے کہ اس ماہ صیام کی ایک رات اپنے مقام ومرتبہ کے اعتبار سے ہزار مہینوں پر سبقت لے گئی، جسے ہم لیلة القدر کہتے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس کی برکتوں سے کتنا متمتع ہوتے ہیں، قرآنی احکام کو عملی جامہ پہنانے اپنی ذات کو رب کے تابع فرمان کے لیے صیقل کرنے اور نفس کی تربیت کا آغاز کے لیے رمضان سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے، اگر اس کے متبرک لمحات میں بھی ہم گناہوں سے باز آنے کا عزم بالجزم نہیں کرسکے تو پھر اپنے انجام کی فکر کرنی چاہئے، اور انجام آتش جہنم اور دنیاوی اخروی بربادی کے سوا کچھ بھی نہیں۔
ادھر بھی دیکھیں! رب کی شان کریمی ہی تو ہے کہ زمینی دنیا میں اپنے حبیبﷺ پر جس مہینے میں قرآن کریم کے نزول کا آغاز فرمایا،اس کو تمام مہینوں میں نمایاں کردیا، اور بطور یادگار ایک اہم فرض کی ادائیگی کا ذریعہ بناکر محترم بنادیا، اور قرآن کے لوح محفوظ سے بیت العزت پر نازل ہونے والی رات کو ہزار مہینوں سے بہتر بنادیا، اور اسی قرآن کو بتدریج نازل فرماکر دنیا و آخرت کے سارے احکام ومسائل کا حل زمانے کو بتادیا، اور ایک ایسے ابدی کامل نظام حیات سے زمانہ کو روشناس فرمایا،جو قرآن کے علاوہ کہیں متصور نہیں، اس کے علاوہ بھی اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں، آپ غور کرینگے تو سمجھ میں آئیگا، قرآن اسلام جس زمین پر آیا اور جس دور میں آیا اس دور میں یکبارگی کوئی نظام مسلط کردینا (چاہے کتنا ہی بہتر کیوں نہ ہو) بڑا دشوار ہوتا ہے، ضرورت تھی دھیرے دھیرے لوگوں پر احکام الٰہی نافذ ہوں، منکرین کے سوالات کا بروقت جواب بھی دیے جائیں، اور مشکلات میں صبر وشکر اور تسکین کے کلمات حالات کے اعتبار سے نازل ہوں، اور پھر قرآن کی امانت جسے پہاڑ اپنے دامن میں نہ لے سکے، خشیت سے لرز جائے، اس امانت کو نسل آدم کی جانب ایک بار میں منتقل کرنا بھی مناسب نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ قرآن تھوڑا تھوڑا اور وقفہ وقفہ سے نازل ہوا، اس کے بتدریج نزول نے داعیان دین مبلغین اسلام کو ایک مزاج دیا کہ وہ اپنے مدعو اور مخاطب کی اصلاح کرنے میں تدریج کا عمل اپنائے، یقیناً یہ عمل زود اثر مثبت نتائج کا حامل ہوتا ہے۔
ابتداً نازل ہونے والی سورہ اقرا جو تعلیم وتعلم اور رشد وہدایت ذات باری تعالیٰ کی خلاقیت اور بنی آدم کی خلقت پر مشتمل ہے، اور یہ قرآن حکیم کے نزول کے مقاصد جلیلہ میں سے ایک اورعرفان خداوندی انسانی زندگی کی صحیح نشو ونما کا ذریعہ ضابطہ حیات کے لیے ایک مستحکم و مضبوط مقصد ہے۔
قرآن پاک کا نزول ہوا تو عرب کی عام عادت کے مطابق نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے اسے بزبان یاد رکھا اور یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر صاحب قرآن کے ذریعہ اس کی کتابت کا بھی اہتمام عمل میں آیا، طریقہ یہ تھا کہ جس وقت کوئی آیت اترتی اسی وقت لوگوں کو یاد کرانے کے ساتھ ترتیب کے لحاظ سے آپ ﷺ اس کا مقام بتاتے اور کسی کاتب کو طلب فرماکر اسے لکھوا دیتے تھے، نبی کریم ﷺ کے بعد ہم تک پہنچانے اور اس کی حفاظت، جمع وترتیب میں خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی بڑی کاوشیں شامل ہیں، خاص کر عہد صدیقی و عثمانی میں خدمات قرآن کی تفصیلات مشہور ہیں، یہاں فی الوقت ان باتوں کا اعادہ مقصود نہیں، صرف اس حوالے سے چند باتیں بطور تبرک سپرد قرطاس کرنا مطلوب ہے کہ قرآن حکیم کے بلند وبالا مقاصد کیا ہیں؟
اس پر کم سے کم لفظوں میں بات کی جائے تو مختصر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ نزول قرآن کے صرف دو مقاصد ہیں:ایک تعمیر انسانیت اور دوسرا عرفان الٰہی، اور ان دونوں مقاصد کے حصول کی تربیت مشق و ممارست کے لیے رمضان کے پاکیزہ ایام بڑے اہم ہیں،اگر اس میں انسان معتاد اور محتاط ہو جائے، تو سال بھر کے دیگر ایام میں معمولات وعبادات کی بجا آوری آسان ہوسکتی ہے۔
بھلا کون نہیں جانتا کہ قرآن حکیم کتاب مبین نے تمام بنی نوع انسان کو اپنا مخاطب بنایا ہے اور انسانوں کے سبھی طبقات کی اصلاح ودرستگی کی خاطر زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق اس میں اصول وضوابط بتائے گیے ہیں، حق تو یہ ہے کہ اس کتاب نےمادیت اورروحانیت میں توازن قائم رکھتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کے فکری رجحانات کیا ہیں،اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے، ایک انسان بہتر انسان کیسے بن سکتا ہے،اور اسی کے ساتھ عروج وزوال کامیابی و ناکامی کے قوانین واحکام بیان کرکے فلاح ورستگاری کی تمام راہیں کھول دی ہیں۔
قرآن کے باذوق قاری وتالی جو اس کی گہرائیوں میں اتر کر قرآن کو پڑھتے ہوں، ان پر یہ انکشاف ضرور ہوگا کہ قرآن کریم ایک طرف انسانیت کی تعمیر پر ایک مکمل ضابطہ حیات پیش کررہا ہے اور دوسری طرف زمین وآسمان اور جو کچھ اس میں ہے اس کے پیدا کرنے والے خالق کے عرفان کا پتہ دے رہا ہے، اور پھر امم سابقہ کے حالات سے بھی بندوں کو آگاہ کیا جارہا ہے، یہ اس لیے بھی کہ گروہ ملائکہ نے اعتراض کیا تھا اے میرے رب تو زمین پر ایسی مخلوق پیدا کرنا چاہتا ہے جو قتل وقتال اور خون خرابا کرے،لہذا ضروری تھا کہ فرشتے دیکھیں اور ان کے لیے انسان کا بانفس کے ہوتے ہوئے اپنے معبود کے حضور سر خمیدہ ہونا اور انسانیت عبودیت کا مظاہرہ کرنا قابل رشک ہو، اور انسان ہوا وہوس میں مبتلا ہوکر ہر وہ کام نہ کرے جس کی امید فرشتوں نے جتائی تھی،اور انسانوں میں غرور و تمکنت پیدا نہ ہوں، لوگ صحیفہ ہدایت پر عمل پیرا ہوکر فلاح سے ہمکنار اور ہمیشہ کی سرفراز یوں سے شاد کام ہوسکیں، اور ? عزوجل کے عرفان میں کامیاب ہوکرتخلقوا باخلاق اللہ کا مصداق بنیں اور ثقافت انسانی کی صالح قدروں کو فروغ دے سکیں۔
کتاب الٰہی نے اپنے نزول کے مقاصد کو جابجا نہایت صاف ستھرے الفاظ میں خود ہی بتادیا ہے،اللہ تعالیٰ عزوجل نزول قرآن کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے، ترجمہ: یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے اندھیروں سے اجالے کی طرف،اس (اللہ) کے راستے کی طرف نکالو جو عزت والا ،سب خوبیوں والا ہے۔(سورة ابراہیم آیہ ۱)
نزول قرآن کا مقصد تاریکی ظلمت اور ذلت سے نکال کر نور وعزت عطا کرنا اپنے خالق حقیقی سے آشنا کرنا ہے، دوسرے مقام پر ہے،اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے“(سورہ بنی اسرائیل آیة82)
یہاں بھی ظاہر ہے قرآن مومنوں کے لیے شفا ورحمت ہے اور ظالموں کے حق دنیا و آخرت کے نقصان کا ذکر اس میں موجود ہے،اسی قرآن میں حق تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد موجود ہے، (یہ قرآن) ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں۔(سورہ ص29)
قرآن برکت رحمت سعادت والی کتاب ہے، اس پر غور فکر سے انکشافات کی دنیا وسیع ہوجاتی ہے اور رحمت وانوار اور تعمیر و ترقی کے کے بند دروازے کھلنے لگتے ہیں، انفس و آفاق کی ہر ایک شئی ذات باری تعالیٰ کی عظمتوں کے گواہ نظرآتے ہیں، انسان قرآنی اصول وضوابط پر چل کر شرک وبت پرستی بہیمانہ جابرانہ زندگی سے دائمی نجات پاسکتا ہے، (قراٰن) دلوں کی صحت (سورہ یونس57)قلب وروح اور ظاہر وباطن کی شفا اسی قرآن میں ہے، حق تو یہی ہے کہ قرآن کو جس زاوئے اور نظریے سے آپ دیکھیں گے، اس میں سب کچھ اور سارا کچھ ملے گا دنیا و آخرت بنتی سنورتی نظرآئے گی، تفکر وتدبر علم و حکمت کے بند دروازے روشن ہوتے نظر آئیںگے،
قرآن کا مقصد نزول سورہ بنی اسرائیل کہ مندرجہ ذیل آیات کی روشنی میں روشن و درخشاں ہوتی نظر آرہی ہے چشم بصیرت سے پڑھیں اور معنی و مفہوم پر غور کریں ! (سورہ بنی اسرائیل9/10)“ بےشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے اور خوشی سناتا ہے ایمان والوں کو جو اچھے کام کریں کہ ان کے لیے بڑائی ثواب ہےاور یہ کہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے“میرے بھائی توجہ کریں قرآن کے نزول کا مقصد سب سے سیدھی منزل تک پہونچانے والی راہ کی جانب رہنمائی کرنا ہے، اور اس راہ کے مسافروں کے لیے تبشیر اور بھٹکے ہووں کے لیے تبذیر جنت و دوزخ رب کی رضا اور ناراضگی کی شکل میں کیا نتائج برآمد ہونگے،
ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے، یہ ساری چیزیں قرآن حکیم نے واضح کردیے ہیں، اور اسی مقصد کے ادراک انبیائ کرام کے حالات و معجزات کی تفصیل اور امم سابقہ کے عبرت ناک واقعات کے مختلف پہلو پیش کئے گئے ہیں، اس میں جزاءوسزا کے واضح اشارات موجود ہیں، دنیا کی ناپائیداری کی طرف باربار توجہ دلائی گئی ہے، اور حلال وحرام کے حدود متعین کیے گیے ہیں، اخلاقیات عبادات اعمال و معاملات سیاسیات عمرانیات معاشیات اقتصادیات ہدایات خلوص نیت تزکیہ نفس حسن صحت، معاشرت کے مسائل واحکام اور بنیادی قواعد واصول کی جس طرح تشریح کی گئی ہے،اس کے علاوہ کہیں اور کسی کتاب میں نہیں ہے، نتیجتاًصاف ظاہر ہے کہ یہ مقدس کتاب تمام انسانوں کو زندگی اور بندگی کے معاملوں میں مفید وکار آمد دیکھنا چاہتی ہے، اور مقصود اصلی یہ ہے کہ دنیا کے سارے انسان خدائے واحد کی عبادت وطاعت اوراس کے رسولﷺکی فرمانبرداری کے عقیدے پر متفق اور عمل خیر و سنت پر پوری طرح کاربند ہوجائیں،
یہ چند سطور نفس موضوع پر بس ایک اشارہ ہے، ورنہ سچ تو یہی ہے دفتر کا دفتر بھی ناکافی ہے اور سفینہ چاہئیے اس بحر بیکراں کے لئے،حق تعالیٰ عزوجل ہمیں قرآن اور رمضان کی عظمتوں سے آشکارا کردے،اور ہمارا ایمانی قرآنی رمضانی رشتہ مستحکم ہوجائے، نہیں تو یاد رہے۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہوکر
ہم خوار ہوئے تاریک قرآن ہوکر
نہ کسی سے شکوہ اور نہ ہی گلہ ہم اپنے اعمال بد کے سزاوار ہورہے ہیں اور مزید ہونے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی، ہماری عظمت رفتہ کی بحالی اپنے دین وایمان قرآن وسنت سے جدا ہوکر کبھی بھی نا ہی ممکن ہے اور نا ہی متصور
مفتی محمد صابررضامحب القادری نعیمی القلم فاونڈیشن پٹنہ بہارسورجاپور اتردیناجپور بنگال


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں