جامعہ اہل سنت جوہر العلوم گنجریاکے زیر اہتمام سہ روزہ عالمی مختار دو عالم کانفرنس کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
نیوزٹوڈے اردو:پیر طریقت علامہ سید شمس اللہ جان مصباحی معروف بابو حضور سجادہ نشین خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار کی سرپرستی ،مولانا جمیل اختر اشرفی کی نگرانی و تعاون ، جامعہ اہل سنت جوہر العلوم گنجریاکے سکریٹری مولانا تنویر احمد مصباحی کی نظامت اور جامعہ کے اراکین ومجلس شوری کے ممبران کی توجہ سے جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پرجامعہ اہلسنت جوہرالعلوم گنجریا کے زیر اہتمام سہ روزہ عالمی مختار دو عالم کانفرنس ورسم دستار بندی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیرہوا۔
جامعہ کے سکریٹری مولانا تنویر احمد مصباحی نے تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے کہاکہ گنجریا کاپروگرام ہرسال کوئی نہ کوئی تاریخ رقم کرتا ہے اور بحمدہ تعالیٰ اس بار بھی موسم کی خرابی کے باوجود سہ روزہ پروگرام بحسن وخوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔انہوںنے بتایاکہ تقریبا دو ماہ پہلے ہی سے اس کانفرنس کی تیاریاں چل رہی تھیں اور ملک و بیرون ملک سے علما ومشائخ کو دعوت دی جا چکی تھی لیکن عین موقع پر موسم خراب ہوجانے کی وجہ سے اگرچہ کچھ دقتیں پیش آئیں تاہم کانفرنس اپنے طے شدہ اعلان و ترتیب کے مطابق بحسن و خوبی اختتام پزیر ہوئی۔انہوںنے کہاکہ اس تین روزہ کانفرنس کی پہلی شب میں جامعہ کے طلبہ نے نعت ومنقبت اور تقاریر پیش کی۔ دوسری شب میں قاری فیاض نقشبندی استاذ شعبہ قرأت جامعہ ہذا کی نگرانی میں بین المدارس انعامی مقابلہ قرا¿ت کا انعقاد ہوا جس میں ضلع اتر دیناجپور وکشن گنج کے قابل ذکر مدارس دینیہ سے درجنوں طلبہ نے شرکت کی اور اپنے فن کا مظاہرہ کرکے سامعین کا دل جیتا۔ اس مقابلہ میں اول،دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے شرکا کو جامعہ کے اہم رکن الحاج صابر امین صاحب گنجریا کی جانب سے بالترتیب پہلا انعام مبلع7786روپئے،دوسرا انعام 5525روپئے اور تیسرا انعام 3313روپئے سے نوازا گیا جبکہ دیگر شرکا کو بھی ترغیبی انعام دیاگیا۔
تیسری شب کا پروگرام جو آخری اور مرکزی تھا اس کی سرپرستی علامہ سیدشاہ شمس اللہ جان مصباحی المعروف سرکار بابو حضورمدظلہ العالی نے کی اور صدارت کا فریضہ ظفر ملت سید ظفر اقبال اشرفی انگلینڈ نے ادا کیاجبکہ قیادت کا حق فقیہ النفس خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند مفتی مطیع الرحمن مضطر نے انجام دیا۔مولانا تنویر مصباحی نے کہاکہ اس کانفرنس کے خصوصی مقرر سابق رکن پارلیمنٹ خطیب الہند مولانا حافظ عبیداللہ خان اعظمی نے "سیرت رسول اور سیاست" کے عنوان پر جامع خطاب پیش کیا جبکہ سید ظفر اقبال اشرفی نے قوم مسلم کی علمی زبوں حالی اور اس کے اسباب و علاج پر اپنے خیالات کااظہار کیا۔کانفرنس کے خصوصی مہمانوں میں سے بریلی شریف سے آئے مولانا سید اسلم میاں وامقی نے بھی علم دین کے فروغ واشاعت پر پرمعزتقریر کی۔ وہیںجھار کھنڈ سے آئے مولانا اظہر القادری چترویدی نے منفرانداز میں خطاب کیا۔ مہمان شاعر ساجد بریلوی اور نقیب مولاناقسمت اللہ سکندر پوری نے بھی اپنااپنا فریضہ انجام دیا۔اس درمیان جامعہ کے پرنسپل مفتی محمد احمد رضا مصباحی نے جامعہ کی دینی و علمی کارکردگی کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا اور جامعہ کے تین مجوزہ پلان کا ذکر کیا (1)طلبہ کی رہائش کے لئے غریب ہاسٹل جس کی لاگت تقریبا بیس لاکھ روپئے ہیں،(2) مولانا سمرقندی لائبریری جس کی لاگت تقریبا پندرہ لاکھ روپئے (3) اعلی حضرت امام احمد رضا دارالافتا کا قیا م جس کی لاگت تقریبا دس لاکھ روپئے ہیں ۔خوشی کی بات یہ کہ جامعہ کی حسین کارکردگی اور اس کے ارکان وممبران کی انتھک محنتوں ،مشقتوں اور مستقبل کے پلان نیز طلبہ جامعہ کی رہائشی ضرورت کو دیکھتے ہوئے ظفر ملت سید ظفر اقبال اشرفی انگلینڈ نے اپنے دوران خطاب ہی غریب نواز ہاسٹل کے لئے 28 پیلر کا خرچ دینے کا اعلان کیا جس کی لاگت تقریبا سات لاکھ روپئے بنتے ہیں ۔
پھر جامعہ کے شعبہ حفظ سے اس سال فراغت پانے والے بائیس طلبہ کی دستار بندی کی گئی جن کو جناب احمد ممبر گنجریا نے بعد میں اپنی طرف سے ترجمہ قرآن کنزالایمان بطور ہدیہ پیش کیا۔رسم دستار بندی کے بعد جامعہ کے مشیر اعلی مفتی مطیع الرحمن مضطر رضوی نے چند منٹ میں اپنا تاثر بیان کیا۔سب سے آخر میں جامعہ کے سرپرست اعلیٰ سرکار بابو حضور قبلہ نے اپنی قیمتی نصیحت اور کلمات خیر سے نوازا۔ تقریبا دو بجے رات بارگاہ رسالت میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا گیا اور بابو حضور کی دعاو¿ں کے ساتھ کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی اور آخر میں کمیٹی کی جانب سے کانفرنس میں تشریف لانے والے مشائخ عظام، علمائے کرام اور دیگر تمام مہمانوں کاشکریہ ادا کیا۔ جامعہ وکانفرنس کے جملہ ارکان وممبران کو اس کامیابی پر مبارکبادی پیش کیا۔واضح رہے کہ اس کانفرنس میں علاقہ ومضافات کے ادارے سے اساتذہ و طلبہ اور کثیر تعداد میں علما کرام بھی موجود تھے نیز سیاسی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد اور اسلام پور تھانہ کے آئی سی اور پول انتظامیہ کا اس کی کامیابی میں بہت تعاون شامل رہا جس پر ارکان جامعہ جوہر العلوم اور اہل گنجریا ان کا شکر ادا کرتے ہیں۔


ماشاء اللہ بہت خوب
جواب دیںحذف کریں