تازہ ترین

Post Top Ad

اتوار، 31 اکتوبر، 2021

”تریپورہ فساد پرحکومت اورتمام سیکولرپارٹیوں کی چپی قابل مذمت“

”تریپورہ فساد پرحکومت اورتمام سیکولرپارٹیوں کی چپی قابل مذمت“
”تریپورہ فساد پرحکومت اورتمام سیکولرپارٹیوں کی چپی قابل مذمت“
”تریپورہ فساد پرحکومت اورتمام سیکولرپارٹیوں کی چپی قابل مذمت“




   لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں 

 کسی بھی سیکولر ملک میں بلاتفریق مذہب وملت ہر شہری کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ،لیکن ملک عزیز بھارت میں خانہ جنگی فسادات خلفشار اور گنڈہ گردی رکنے اور تھمنے کو نہیں۔ مٹھی بھر شر پسند عناصر نے ملک کو آتش فشاں بنا رکھا ہے تریپورہ ملک کا ایک چھوٹا سا صوبہ ہے جائے وقوع بنگلہ دیش سے متصل ہے دارالحکومت اگرتلا ہے ۔اکثریت ھنود کی ہے ،کم تعدادمیں مسلمان آباد ہیں لیکن حالیہ چند دنوں سے مسلمانوں کی اس مختصر آبادی کو اپنی اکثریت طاقت وقوت کے بل پر لقمہ تر بنائے جانے کا ناپاک کھیل کھیلا جارہا ہے۔ شرپسند آریس یس بجرنگ دل وشو ہندو پریشد اورسبھی ذیل تنظیموں کی مسلم دشمنی عروج پر ہے اتنکواد دہشتگرد تنظیموں نے درجنوں مساجداورسیکڑوں مکانات ہزاروں جانوں کو نشانہ بنایا اور اب تک بنایا جارہا ہے لیکن یہ کیا تماشہ ہے سیکولرازم سب کا ساتھ سب کا وکاش وشواس وغیرہ کا نعرہ بازی کرنے والی حکومت پر سکوت طاری ہے ۔برابر کی شہریت رکھنے والے نہتے مسلمان مرد وخواتین بوڑھے بچے کی جان و مال مظلومیت اور ڈر وخوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔شرپسند ملک دشمن اتنکواد کھلے سانڈ کی طرح شکار میں لگے ہیں ۔ان سب پر لگام کسنے والا کوئی نہیں۔سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق بتایا جارہا ہے کہ یہ بنگلہ دیش میں ہوئے ایک حادثہ کا رد عمل ہے

 ۔پہلی بات تو یہ کہ بنگلہ دیش کا معاملہ وہ جانے ہمیں ان سے کیا مطلب،ظلم تو ظلم ہے دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہو اور ہم مسلمان دنیا بھر میں ہونے والے ہر ظلم و جبر کے خلاف ہیں ۔بنگلہ دیش میں ہوئے حادثہ کی حقیقت کیا ہے اس کو گودی میڈیا تو ہندومسلم رنگ دیکر نفرتوں کو ہوا دے رہا ہے لیکن اس حوالے سے سوشل میڈیا اور اخبارات میں دیکھا پڑھا جاسکتا ہے کہ وہاں جو کچھ بھی ہوا وہ سب مبینہ طورپر قرآن حکیم کی بے حرمتی کرنے پر ہوا اور حکومت نے اس پر قابو پانے کی کوشش کی یہاں تک کہ مجرموں کو سزا اور باقی تمام شہری کی حفاظت کا اعلان کیا۔ یہ تو ہمارے ملک میں بھی کوئی قرآن یا دیگر کسی بھی مذہبی کتاب کی کھلی توہین کرے گا تو اسے سزا ملنی چاہیے اس کو ہندو مسلم کے نظریہ سے دیکھنے کا کیا مطلب ؟ 

دوسری بات یہ خبر بھی وائرل ہورہی ہے کہ تریپورہ کے غیور محب وطن مسلمانوں نے قلت میں ہوتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرانا چاہا تو حکومت نے دفعہ 144لگاکر انہیں اپنے مکانات ہی محصور کر دیا ۔آخر موجودہ حکومت کیا چاہتی ہے مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جائیں ان کی غیرت ایمانی اور عزت نفس کا مذاق بناکر انہیں بے موت ماردیا جائے اور جب وہ کٹے پٹے مسلمان انصاف اور حقوق کی بازیابی کی خاطر گھروں سے باہر نکلنا چاہے تو انہیں اپنے گھروں ہی بند کرودو اذیت ناک صورت حال سے عاجز آکر مسلمان ہمیشہ کے لئے تباہ و برباد ہو جائے۔حکومت کی دوغلی پالیسی ،ظالم کو چھوٹ مکمل آزادی اور مظلوم کو فریاد کرنے پر بھی پابندی ۔یقیناً یہ قابل مذمت ملک عزیز کے آئین اور انصاف کے منافی ہے، اور ایک بات جو حالیہ حالات نیوز سوشل میڈیا اخبارات کے تناظر میں مجھے سمجھ آرہی ہے وہ یہ ہے کہ ابھی وہاں میونسپلٹی الیکشن ہونے ہیں کہیں اسی کے لئے سوچی سمجھی سازش تو نہیں؟ نگاہیں کہیں اور نشانہ کہیں ،ہجومی تشدد توڑ پھوڑ جان و مال اور مساجد مکانات پر حملہ قلت پر اپنی کثرت کا دھونس جماکر دھشت اور ڈر پھیلانا یہ اچھے انصاف پسند لوگوں کا کام نہیں ہے اور حکومت کا اس پر چپی سادھے بیٹھے رہنا ظالموں کی پشت پناہی حکومت کی ناکامی اور قابل افسوس حرکت ہے اور ساتھ میں سیکولر پارٹیوں اور تنظیموں کی خاموشی بھی اپنی اصلیت اور مسلم دشمنی کا پتہ دے رہی ہے اور مسلمانوں کا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر خاموشی کے ساتھ یہ سارا ماجرا دیکھنا اپنی موت اور ہلاکت کو دعوت دینے کے مثل ہے ۔ 

 وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ فردا 

جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے

مولیٰ کریم ہمارے حال زار پر رحم فرمائے ہمیں وقت رہتے ہوئے بیدار ہونے کی توفیق بخشے آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ 

از۔مفتی صابررضامحب القادری نعیمی کشن گنج


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad