تازہ ترین

Post Top Ad

اتوار، 24 اکتوبر، 2021

وزیرشبینہ یاسمین کی رہائش گاہ سے کچھ فاصلے پرغیر مستعمل مکان میں بم دھماکہ

 وزیرشبینہ یاسمین کی رہائش گاہ سے کچھ فاصلے پرغیر مستعمل مکان میں بم دھماکہ

متروکہ غیر مستعمل مکان کا دھماکہ کےبعد کا منظر

ہمیں یوٹیوب پر سسکرائب کریں

نیوزٹوڈے اردو:مغربی بنگال کے مالدہ ضلع کے موتھاباڑی حلقہ کی ایم ایل اے وریاستی وزیر آب پاشی و شمالی بنگال محکمہ ترقیاتی امور کی وزیرشبینہ یاسمین کے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک متروکہ مکان میں اچانک بم دھماکے سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔ یہ واقعہ مالدہ ضلع کے کلیاچک تھانہ کے چاند پور علاقے کا ہے۔ کلیاچک تھانہ کی پولس نے موقع پر پہنچ کر واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ جس گھر میں بم دھماکہ ہوا وہ رفیق شیخ نامی ایک شخص کا بتایا جارہا ہے۔ واقعہ کے بعد سے وہ علاقے سے لاپتہ ہے۔

متروکہ غیر مستعمل مکان کا دھماکہ کےبعد کا منظر

 آج صبح زوردھماکہ ہوا جس کی آواز دوردور تک سنائی دی ۔ ادھرپولس نے موقع پر جا کر متعدد بم برآمد کئے ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کافی خوف و ہراس کاماحول ہے ۔ الزام ہے کہ گھر میں بم رکھا گیا تھا۔ علاقے کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بم کافی عرصہ پہلے بنائے گئے تھے اور مختلف مقامات پر اسلحہ ڈیلروں کو بم سپلائی کئے جاتے تھے۔ دوسری جانب اس واقعہ کو لے کر سیاسی ہنگامہ آرائیاں تیز ہوگئی ہےں۔ بی جے پی کے ضلع صدر گووندا چندر منڈل نے کہا کہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہو گئی ہے۔ پولس انتظامیہ حکمراںجماعت جماعت کے لیڈران کو نکال باہر کرنے میں مصروف ہے۔

متروکہ غیر مستعمل مکان کا دھماکہ کےبعد کا منظر

فیس بک پر فولوکریں

 کلیاچک سماج دشمن سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ایسے واقعات وزیر کے گھر سے کچھ فاصلے پر ہو رہے ہیںجن لوگوں نے عام لوگوں کو سیکورٹی فراہم کرنی ہے ان کی اپنی سیکورٹی نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراںجماعت جماعت کے اندر بموں کا ذخیرہ موجود ہے۔ دوسری طرف ترنمول کانگریس کے مالدہ ضلع کے ترجمان شوبھوموئے باسو نے ان سبھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ کچھ شرپسند بم جمع کر رہے تھے۔ جس سے دھماکہ ہوا۔ پولس پورے واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پورا ملک بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں امن و امان کی صورتحال سے بخوبی واقف ہے۔ ضلع پولس کے سوپرآلوک راجوریہ نے بتایا کہ کلیا چک تھانہ کی پولس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad