تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 29 اکتوبر، 2021

"فیس بک" کانیا نام "میٹا"

"فیس بک" کانیا نام "میٹا"
نیوز ٹوڈے اردو:فیس بک کیا ہے؟ فیس بک سماجی رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔شاید ہی کوئی ہے جن کے پاس اسمارٹ فون ہو اور وہ فیس سے متعارف نہ ہو، یہاں تک کہ فیس بک کچھ لوگوں کے لئے نہایت ہی ضرورت بن گیا ہے، حالانکہ بیشتر لوگ فیس بک از راہ تفریح، کسب معلومات اور وقت گزاری کے لئے استعمال کرتے ہیں لیکن کچھ لوگ وہ بھی جن کی روزی روٹی کا انحصار فیس بک پر ہی ہے۔ فیس بک کی سالانہ تقریب کے موقع پر ایک اہم اعلان کیا گیا بعد میں فیس بک کے بانی مارک زرک برگ نے اس کی وضاحت کر تے ہوئے کہا کہ سماجی رابطوں کے عالمی پلیٹ فارم فیس بک نے ری براڈنگ کے منصوبے کے تحت مادر کمپنی کا نام تبدیل کر کے ’میٹا‘ رکھ لیا ہے۔
فیس بک کے بانی مارک زکر برگ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ فیس بک کی مادر کمپنی کا نام تبدیل کرکے میٹا کیا جا رہا ہے۔مارک زکر برگ نے کہا کہ ’ہم نے سوشل ایشوز کے ساتھ نبرد آزما ہو کر اور کلوزڈ پلیٹ فارم کے تحت رہ کر کافی کچھ سیکھا اور اب وقت ہے کہ ہم نے جو کچھ سیکھا ہے اس سے ایک نئے باب کا آغاز کیا جائے۔‘
تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ ہماری ایپس اور برانڈز کے نام تبدیل نہیں ہو رہے ہیں۔
صرف فیس بک کمپنی کا نیا نام میٹا ہوگا۔ اس نئے اعلان کے مطابق  فیس بک، انسٹاگرام، میسنجر اور واٹس ایپ کے نام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
فیس بک نے نام کی تبدیلی ایسے وقت میں کی ہے جب فیس بک کے ایک سابق ملازم فرانس ہوگن نے کہا تھا کہ فیس بک صرف منافع کمانے کو ترجیح دیتا ہے جبکہ اس سے بچوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، اور یہ جمہوریت کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔ فرانس ہوگن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کو دستاویزات فراہم کی تھیں۔
رواں ماہ فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروس پانچ گھنٹے تک معطل رہی تھیں۔ اس پر فرانس ہوگن نے کہا تھا کہ ’پانچ گھنٹے تک فیس بک لوگوں کو تقسیم کرنے اور جمہوریتوں کو غیر مستحکم کرنے میں ناکام رہی۔‘
مارک زرک برگ نے مسلسل کئی پوسٹ میں کہا ہے کہ ہمیں فیس بک کو اس طرح بنانا ہے جس سے کسی کو بھی ٹھیس نہ پہنچے اور جمہوری اقدار کی کماحقہ رعایت کرنی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad