جئے گاؤں اور سلی گوڑی کے درمیان بس سروس شروع ہونے سے تاجروں میں خوشی کاماحول
| جئے گاؤں اور سلی گوڑی کے درمیان بس سروس شروع ہونے سے تاجروں میں خوشی کاماحول |
نیوزٹوڈے اردو:سلی گوڑی اور جئے گاﺅں کے درمیان تجارتی سرگرمیاں جلد ہی بڑھنے والی ہیں۔ملی جانکاری کے مطابق آج سے دونوں شہروں کے درمیان براہ راست بس سروس شروع ہونے سے امید ہے کہ سلی گوڑی اورجئے گاﺅں کے درمیان تجارتی تعلقات آنے والے چند دنوں میں مزید مضبوط اور وسعت اختیار کریں گے۔ آج سے شمالی بنگال ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بس سروس جئے گاﺅں کے لئے شروع ہو گئی ہے۔ حالانکہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ سروسز پہلے سے چل رہی ہیںلیکن ان کی تعداد بہت کم ہے یا براہ راست بس سروس نہیں ہے۔ جئے گاؤں تک مناسب بس سروس نہ ہونے کی وجہ سے جئے گاؤں کے لوگوں کو سلی گوڑی آنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اب امید کی جا رہی ہے کہ سرکاری بس سروس شروع ہونے کے بعد پرائیویٹ بس سروس کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ ایک بس صبح 6 بجے جئے گاوں سے مالدہ کے لئے روانہ ہوتی ہے جو سلی گوڑی سے گزرتی ہے لیکن اس بس سروس کی جئے گاؤں واپسی کا کوئی مناسب وقت نہیں ہے، مسافروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سلی گوڑی اور جئے گا ؤں کو بس سروس سے جوڑنے کا مطالبہ پہلے ہی اٹھایا جا چکا ہے، آج جئے گاؤں کے لوگوں کا ایک خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ اس سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ سلی گوڑی کا کاروباری علاقہ وسیع ہو جائے گا اور جئے گاؤں کے تاجروں کو سلی گوڑی سے کاروبار کرنے میں کافی آسانی ہو گی۔ جئے گاو¿ں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خالصتاً تجارتی شہر ہے جو بھوٹان اور ہندستان کے پھچولیگ کے درمیان پل کا کام کرتا ہے۔ بھوٹان کے لوگ جئے گاﺅں سے کاروبار کرتے ہیں۔ یہاں کے تاجر خریداری کے لئے سلی گوڑی پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم، ادویات اور دیگر کاموں کے لئے بھی سلی گوڑی کا ٹرافک رہتا ہے لیکن مناسب تعداد میں نقل و حمل کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے جئے گاﺅں کے باشندوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جئے گاﺅںڈیولپمنٹ اتھارٹی نے نارتھ بنگال ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے جئے گاو¿ں سے سلی گوڑی تک بس سروس شروع ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ جئے گاؤں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین گنگا پرساد شرما نے اس سے قبل جے گاؤں سے سلی گوڑی تک سرکاری بس سروس شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں