حنفی سیمینار:ایک تعلیمی، فکری، ثقافتی اور تاریخی
سیمینار
............................................................................
دو دہائیوں سے اب تک در جنوں سیمیناروں میں شرکت کا اتفاق ہوا لیکن سرزمین مانک پور شریف میں حنفی سیمینارکی انفرادیت ہی کچھ اور تھی ، اس سیمینار کے تمام عناوین بہت اہم اور فکری تھے جن پر اسلامی اسکالرس کا اظہار خیال اور ان سے متعلق تجاویز و لائحہ عمل پر غور و خوض کرنا وقت کا ایک اہم تقاضہ تھا ،سیمینار میں تقریبا دوسو ایسے معروف اسلامی اسکالرس ملک و بیرون ملک سے تشریف لائے تھے جودینی علوم کے ساتھ عصری علوم و فنون میں بھی مہارت اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں ، صرف درس گاہ و عبادت گاہ تک محدود رہنے والے نہیں بلکہ مسلمانوں کے پیش آمدہ مسائل کا تلخ تجربات رکھنے اور انٹرنیٹ و شوشل میڈیا میں مسلسل اور مضبوط پکڑ رکھنے والے ہیں ۔ اس سیمینارمیں جتنے بھی مقالہ نگار مدعو تھے وہ سب جواں سال اور نئ نسل کےعلما تھے اور خاص کر کےزیادہ تر جامعہ اشرفیہ مبارک پور اور جامع ازہر مصر کےمتخصصین تھے۔
سیمینار دو روز میں تین طویل نشستوں پر مشتمل تھا تمام مقالہ نگاروں کو اپنے مقالات کی تلخیصات بھرپور انداز میں پیش کرنے کا موقع ملا نیز تمام عناوین کے تعلق سے اکثر شرکاے سیمینار نے اپنی اپنی رائے بھی رکھی ،عصر جدید کے چیلنجز کا سامنا کرنے نیز دور حاضر میں ادیان باطلہ کی طرف سے اٹھنے والے تمام فتنوں کے سدباب کے لئے تجاویز بھی پیش کیے جو بہت ہی قیمتی اور مفید نظر آۓ اور باضابطہ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ازہری برادران کا ایک پینل بھی وجود میں آیااوراس ازہری پینل سے اس کا آغاز کرنے کے لیےسبھوں نے عزم و حوصلہ کا اظہار بھی کیا۔
ناظم و صدر سیمینار حضرت علامہ مفتی شاہنواز عالم مصباحی ازہری نے مندوبین کے لۓ انتظام وانصرام میں کوئ کسر نہیں چھوڑی ،اتنی مصروفیات کے باوجود اجتماعی و انفرادی طور پر ہر ایک سے مسلسل ملتے اور ان کی ضرورتیں پوچھتے رہے جامعہ کے اساتذہ و طلبہ بھی اخلاص و محبت کے پیکر نظر آے ,حضرت مفتی شاہنواز عالم مصباحی ازہری کے اہل خانہ بھی مسلسل مہمانوں کی ضیافت میں لگے رہے,جامعہ کے اساتذہ کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا کہ سیمینار کے تمام اخراجات کا انتظام مفتی صاحب کے والد گرامی جناب حاجی محمد شبیر صاحب نے اپنی جیب خاص سے کیا
اسی خدمت دین کا نتیجہ ہے کہ جامعہ حنفیہ رضویہ مانک پورصرف پانچ سال کی قلیل مدت میں زمین کی خریداری سے لے کر تین منزلہ فلک بوس طویل اور عالیشان عمارت میں نظر آرہا ہے اور ابتدا سے لے کر تخصص تک تعلیم دی جاتی ہے جبکہ اس ادارے کے درجنوں طلباء جامعہ ازہر مصر میں بھی زیر تعلیم ہیں بلا شبہ یہ سب کچھ بانی ادارہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شاہنواز عالم مصباحی ازہری دامت برکاتہم العالیہ کی محنت و کاوش اور جہد مسلسل و سعی پیہم کا ہی نتیجہ ہے ان کی خدمات کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحریکی اور تعلیمی کاموں میں وہ قابل تقلید شخصیت کے مالک اور ہم سب کے لئے نمونہ عمل ہیں ۔
اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے علم و اقبال میں بلندیاں عطا فرمائے ۔
یہ سیمینار میرے لیے بھی یادگار رہا اس میں بہت سارے ان اہل علم و دانش سے ملاقات ہوئی جن کی خدمات کو سوشل میڈیا میں دیکھا کرتا تھا اور وہ مجھ سے بھی غائبانہ طور پر متعارف تھے الحمداللہ سبھوں نے اس ناچیز کو دعاؤں سے نوازا اور خلوص و محبت کا مظاہرہ کیا ۔
طالب دعا! محمد کمال الدین اشرفی مصباحی
خادم افتا و استاد حدیث و فقہ
ادارہ شرعیہ اترپردیش رائے بریلی
9580720418


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں