اقوال حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ
دنیا میں بہت ایسے لوگ گزرے ہیں جن کے اقوال اور باتیں زریں ہوجاتے ہیں اور نقل وحرکت اور طریقۂ زندگی دوسروں کے لئے مشعل راہ بن جاتے ہیں، ایسے لوگ رہتی دنیا تک لوگوں کے درمیان زندہ رہتے ہیں اور لوگ ان کی باتوں کا حوالہ دیتے ہیں اور اپنی زندگی میں استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان شخصیات میں جلالۃ العلم حضور حافظ ملت الشاہ عبدالعزیز محدث مرآدآبادی علیہ الرحمۃ والرضوان کا نام سرفہرست آتا ہے کیونکہ آپ کے اقوال پر ہند وپاک اور پورے بر صغیر میں لوگ عمل کرتے ہیں اور بطور مثل پیش بھی کرتے ہیں۔
حضور حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان کے چنداقوال زریں یہاں قلم بند کئے جارہے ہیں:
۱۔ میرے نزدیک ہر مخالفت کا جواب کام ہے۔
۲۔ میں نے جامعہ اشرفیہ کو اپنا پسینہ نہیں خون پلایا ہے۔
۳۔ زمین کے اوپر کام، زمین کے نیچے آرام۔
۴۔ دوسروں کی خوبیاں دیکھنی چاہئے اور اپنی خامیاں۔
۵۔ اتحاد زندگی ہے اور اختلاف موت ہے۔
۶۔ عقلمند وہ ہے جو دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے، خود کو تجربہ گاہ بنانا عمر کوضائع کرنا ہے۔
۷۔ جس سے کام لیاجاتا ہے اسے ناخوش نہیں کیاجاتا۔
۸۔ جس کی نظر مقصد پر ہوگی، کامیابی اس کے قدم چومے گی۔
۹۔ زندگی نام ہے کام کا، اور بیکاری نام ہے موت۔
۱۰۔ دولت خدا کی نعمت ہے، لیکن اس سے بڑی نعمت راہ خدا میں خرچ کرنے کا جذبہ ہے۔
۱۱۔ احساس ذمہ داری سب سے بڑا سرمایہ ہے۔
۱۲۔ کام کے آدمی بنو کام ہی آدمی کو معزز بناتا ہے۔
۱۳۔ زندگی وہ ہے جودوسرے کے کام آسکے۔
۱۴۔ دنیا کا علم، عزت اور وقار کا سبب ہے، چہ جائیکہ علم دین.
۱۶۔ وقت کی بربادی سب سے بڑی محرومی ہے۔
۱۷۔ قابل قدر وہ ہے، جس کا لباس خستہ اور سینہ علم سے معمور ہو۔
۱۸۔ نام کے لئے کام نہیں کرناچاہئے، کام کروگے تو نام ہوہی جائے گا۔
۱۹۔ لمبی چوڑی عمارتیں ہوں تعلیم نہ ہو تو سب بے کار ہے۔
۲۰۔ طالب علمی کا زمانہ نہایت پابندی کا زمانہ ہے، اس وقت جس چیز کی عادت پڑجائے ہمیشہ باقی رہے گی۔
۲۱۔ کامیاب شخصیتوں کی تلقید ( پیروی ) کرنے سے آدمی کامیاب ہوتا ہے۔
۲۲۔ اللہ پر توکل کرنے والا دونوں جہاں میں سربلند رہتا ہے۔
۲۳۔ زیادہ ہنسنا اور قہقہ لگانا مومن کی شان نہیں۔
۲۴۔ محبت رسول ﷺ ہی محبت خدا عز وجل ہے۔
۲۵۔ مدرسہ چلانا آسان کام نہیں، اس کے لئے روح اور جسم دونوں پگھلانا پڑتا ہے۔
۲۶۔ عبادت کے ساتھ محرمات سے بھی بچنے کا اہتمام کرنا چاہئےکہ اس کے بغیر عبادت کے ثمرات حاصل نہیں ہوتے۔
۲۷۔ آدمی کام کے لئے پیدا کیاگیا ہے، جو بے کار وہ مُردوں سے بدتر ہے۔
۲۸۔ تقریر سب سے آسان ہے، اس سے مشکل تدریس، اور سب سے مشکل تصنیف۔
۲۹۔ خدا سے ڈرنے والا کسی سے نہیں ڈرتا۔
۳۰۔ اتحاد زندگی اور اختلاف موت ہے۔
۳۱۔ کام دنیا کا ہو یا دین کا صحت پر موقوف ہے۔
۳۲۔ ایسا جگہ نہیں بیٹھناچاہئے جہاں سے اٹھنا پڑے۔
۳۳۔ کامیاب طالب علم وہ ہے جو استاد سے علم کے ساتھ عمل بھی سیکھتا ہے۔
۳۴۔ مسلمان وہی ہے جو اللہ و رسول کافرمانبردار ہے۔
۳۵۔ مدرسے کے مدرسین کو چاہئے کہ اپنے کو مدرسے کا ملازم نہیں بلکہ خادم سمجھیں۔
۳۶۔ وقت بہت ہی قیمتی چیز ہے اور وقت کو ضائع کرنا بہت بڑی بے وقوفی ہے۔
۳۷۔ حقیقت میں نماز تو جماعت ہی کی نماز ہے ورنہ صرف فرض کی ادائیگی۔
۳۸۔ آرام طلبی زندگی کی بربادی ہے۔
۳۹۔ مسلمانوں کی فلاح اور کامیابی خوف الٰہی پر موقوف ہے۔
۴۰۔ دین کے لئے گردن کٹانے کی ضرورت پڑے تو کٹادینا چاہئے، مگر پیچھے نہیں ہٹناچاہئے۔
۴۱۔ قلب کی زندگی ذکر وفکر ہے۔
۴۲۔ توکل ہی تو کل ہے۔
۴۳۔ جو خدا سے ڈرنا چھوڑتا ہے وہ ساری دنیا سے ڈرتا ہے۔
۴۴۔ آدمی کو ایسا استاد اپنانا چاہئے جو علم و عمل کا پیکر ہو۔
۴۵۔ جس سے اخلاق میں گراوٹ پیدا ہواس صحبت کو جلد از جلد چھوڑدینا چاہئے۔
۴۶۔ میری تمنا ہے کہ آخری دم تک خدمت اسلام کرتا رہوں۔
۴۷۔ وہ زمانہ اور تھا جب لوگ گناہ کے لئے چل کر جاتے تھے، آج تو گناہ اور برائیاں خود چل کر آتی ہیں۔
۴۸۔ مومن کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔
۴۹۔ مشیت ایزدی میں صبر ہی شان بندگی ہے۔
۵۰۔ میں نے کبھی مخالف کو اس کی مخالفت کا جواب نہیں دیا بلکہ اپنے کام کی رفتار اور تیز کردی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کام مکمل ہوا، اور میرے مخالفین کام کی وجہ سے میرے موافق بن گئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں