تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 21 دسمبر، 2021

جلالة العلم حضورحافظ ملت نقوش حیات

 جلالة العلم حضورحافظ ملت نقوش حیات 

جلالة العلم حضورحافظ ملت نقوش حیات

 جلالة العلم حضورحافظ ملت نقوش حیات 


عرس حافظ ملت 2022

٭شہنشاہ علم وحکمت،محافظ سنیت،جلالة العلم حضور حافظ ملت علامہ الشاہ عبد العزیز محدث مرادآبادی ثم مبارک پوری۴۹۸۱ءمیں ضلع مرآداباد کے قصبہ بھوج پورکے ایک دیند ار گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے دادا نے عبد العزیز نام رکھا اور فرمایا”میرا یہ بچہ عالم ہوگا“دادا مرحوم کی یہ دعا بارگاہ خداوندی میں مقبول ہوئی،ہندوستان کے مشہور محدث حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی کے نام کی نسبت بھی رنگ لائی اور مستقبل میں آپ نہ صرف ایک بلند مرتبت عالم بنے بلکہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے ثانی بھی ثابت ہوئے۔رسم بسم اللہ خوانی آپ کے والد گرامی محترم حافظ غلام نور نے ادا کرائی۔ابتدائی تعلیم بھوج پور ہی میں حاصل کی،قرآن مقدس حفظ کیا،درجہ¿ مولوی تک کی تعلیم جامعہ نعیمیہ مرادآباد میں حاصل کی،آخر میں آپ دارالعلوم معینیہ عثمانیہ دار الخیر اجمیر شریف تشریف لے گئے اور وہاں ہندوستان کے عظیم مدرس ومفتی حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی رحمہ اللہ اور دیگر اساتذہ¿ علم وفن سے اکتساب علم وفضل کیا۔پھر حضرت صدر الشریعہ ہی کی معیت میں بریلی شریف تشریف لائے اور شہرہ آفاق درس گاہ دارالعلوم منظر اسلام میں دستار فضیلت سے سرفراز کئے گئے۔

بعد فراغت آپ کو آپ کے مشفق استاذ حضور صدر الشریعہ نے بریلی شریف بلاکر ارشاد فرمایا”حافظ صاحب!میں باہر رہا اور میرا ضلع اعظم گڑھ خراب ہوگیا اس لئے میں آپ کو خدمت دین کے لئے مبارک پور بھیجتا ہوں“عرض کیا:میں ملازمت نہیں کرنا چاہتا،ارشاد فرمایا:ملازمت کے لئے نہیں میں خدمت دین کے لئے بھیج رہا ہوں۔استاذ مہربان کا حکم پاکر آپ ۴۱جنوری ۴۳۹۱ءمیں مبارک پور پہنچ گئے اور یہاں مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم میں صدر مدرس کی حیثیت سے کام کاآغاز فرمایا۔اس وقت مدرسہ کی تعلیمی اور مالی حالت ناگفتہ بہ تھی ،آپ کی تشریف آوری کیا ہوئی کہ اکناف ہند سے تشنگان علوم نبویہ پروانہ وار آتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مدرسہ کی فضا قال اللہ اور قال الرسول کے نغمات سے گونج اٹھی۔ایک سال کی قلیل مدت میں مدرسہ کی قدیم عمارت اساتذہ وطلبہ کے لئے تنگ پڑگئی۔۵۳۹۱ءمیں آپ ہی کی تحریک پر قلب مبارک پور میں ایک زمین حاصل کی گئی،اس پر دو منزلہ شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔مگر حضور حافظ ملت کی فطرت میں یہ بات تھی کہ ع”ہم کہاں رکتے ہیں عرش وفرش کی آواز سے “آ پ نے اپنی بلند پروازی کا ثبوت دیتے ہوئے آبادی سے باہر ایک وسیع وعریض زمین کی خریداری کرلی۔۲۷۹۱ءمیں اسی زمین پر ایک تاریخ ساز تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا،جس میں آپ کی صدائے دلنواز پر پورے ملک سے علما،مشائخ،اہل علم ودانش،ارباب صحافت اورسیاسی وسماجی دانشوروں نے شرکت کی۔اسی پر بہار موقع پر اس لق ودق صحرا میں الجامعة الاشرفیہ مبارک پور کا سنگ بنیاد وقت کے جلیل القدر علما ومشائخ کے ہاتھوں رکھا گیا۔اب وہی جامعہ بلندیوں کی اتنی منازل طئے کرچکا ہے کہ اب اس کے عروج کو ناپنا ممکن سے پرے بات ہوچکی ہے۔جامعہ اشرفیہ کا قیام حافظ ملت کا وہ زریں کارنامہ ہے جس کی لو رہتی دنیا تک مدھم نہیں ہوگی،آپ نے ایسا عظیم الشان جامعہ قائم فرماکر اہل سنت کی آبرو بچالی اور جماعت کو آندھیوں میں چراغ جلانے اور طوفانوں میں کشتی چلانے کا جذبہ¿ صادق سکھایا۔

آج بھی اسی جامعہ اشرفیہ کے احاطے میںحافظ ملت کے علم وحکمت کا فیضان گھنے بادل کی طرح برس رہا ہے ،بحر ہند کے ساحل سے لے کر کشمیر کے کہساروں تک بر صغیر ایشیا کی سرحد سے یورپ وافریقہ کے رنگین دنیا تک کے تشنگان شوق کے قافلے اپنے علم وفکر کی پیاس بجھانے کے لئے مبارکپور کی سرزمین پر اتر رہے ہیں۔اسی بابرکت دھرتی سے اپنے وقت کے رازی وغزالی پیدا ہورہے ہیںاور دنیا کے مختلف خطوں میں توحید ورسالت کے جھنڈے نصب کررہے ہیں۔برطانیہ کے شہروں سے لے کر ہالینڈ کی فضاوں تک ،امریکہ کی سرحدوں سے لے کر افریقہ کے صحراوں تک کتاب وسنت کی جو مسحورکن صدا اور عشق نبوت کی جو تابانی نظرآتی ہے یقینا ان سب میں مرد قلندر بطل جلیل حضور حافظ ملت کی جلوہ گری کارفرما ہے۔حضور حافظ ملت کی ذات ستودہ صفات علم وعمل،فکر وفن، تقویٰ وطہارت،استقامت وعزیمت،ولایت وکرامت، تدبر وبصیرت،سیادت وقیادت، محبت ومودت،عنایت وسخاوت اور عفو وکرم کی جامع تھی۔علامہ مشتاق احمد نظامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”حافظ ملت میری نظر میں عارف باللہ اور اللہ کے ولی ہیں۔علم ظاہر وباطن کے ایسے سنگم جہاں پر ہر پیاسے کو پانی ملے،وہ استاذ العلما کی ذات گرامی ہے۔ایک ایسا عابد شب زندہ دارکہ زہد وتقویٰ وپارسائی جس کے دامن کے حسین جھالر ہیں،زمین پر آنکھیں بچھائے اس طرح گزر جائیں کہ فرش وعرش کی کائنات انہیں دیکھے لیکن ان کی خدا شناس نگاہوں کو کوئی کچھ نہ کہہ سکے،لباس میں ایسی سادگی جس سے عالمانہ وقار پھوٹ پھوٹ کر برستا ہو،گفتار میں ایسی نرمی اور مٹھاس گویا ہونٹوں سے پھول جھڑ رہے ہیں،ایسے کریم وشفیق کہ بچے انہیں پاکر ماں کی گود بھول جائیں،اپنے بزرگوں کے لئے ایسے ادب شناس کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا وصدر الشریعہ حضرت مولانا امجد علی علیہما الرحمةو الرضوان کا نام سنتے ہی اپنی گردن جھکا لیں“۔آپ کے معمولات زندگی میں عمل بالسنہ اس طرح رچ بس گیا تھاکہ سیرت وکردار کے ہر گوشے سے اس کا مظاہرہ ہوتا۔مجال نہیں کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر کوئی قدم سنت کے خلاف اٹھائے۔خلوت ہو یا جلوت ،دن کا اجالا ہو یا رات کی تاریکی ہر لمحہ آپ کی زندگی سنت کی عملی تفسیر تھی۔بالآخر جملہ صفات کا حامل ،علم وعمل کا یہ کوہ ہمالہ ،۱۳ مئی ۶۷۹۱ءکو اس دنیائے فانی کوخیر آباد کہہ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملا۔آپ کے وصال کی خبر سن کر حضور مفتی اعظم ہند بلک بلک کر روئے اور فرمایا:”اس دنیا سے جو لوگ چلے جاتے ہیں ،ان کی جگہ خالی رہتی ہے،خصوصا مولوی عبد العزیز علیہ الرحمہ جیسے جلیل القدر عالم،مرد مومن،مجاہد،عظیم المرتبت شخصیت اور ولی کی جگہ پُر ہونا تو بہت مشکل ہے ،یہ خلا پر نہیں ہو سکتا۔

مفتی رفیق الاسلام رضوی مصباحی 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad