آؤ معیاری صحافت سیکھیں ! ’’صحیفہ صحافت" کتاب منظر عام پر
صداقت اور دیانتداری صحافت کے دو اہم ستون ہیں: مولانا عمرین محفوظ رحمانی
نوجوان صحافی ریحان یونس کی کتاب طلبہ، صحافیوں اور قارئین کیلئے بھی مفید: پروفیسر عبدالمجید صدیقی
نیوزٹوڈے اردو:مالیگاؤں( ایس این انصاری) دور حاضر میں عام آدمی بھی کسی نہ کسی زمرے میں صحافتی کاموں کو انجام دے رہا ہے ۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا کے ذریعے پل پل کی خبریں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے ۔ لیکن ایک ذمہ دار صحافی خبروں کو بہتر انداز ذمہ داری سمجھ کر پیش کرتا ہے ۔ کن خبرو ں کو پیش کرنا ہے اور کن خبرو ں کو چھپانا ہے اس کا پورا خیال رکھتے ہوئے صحافتی خدمات انجام دیتا ہے ۔ ایسے ترقی یافتہ دور میں ٹیکنالوجی کی مدد سے کی جانے والی تیز رفتاروالی صحافت میں بہت ساری خامیاں نظر آتی ہیں. جس میں خبروں میں غلط معلومات، خبروں میں غیر جابنداری، غیر معیاری اور صحافتی اصولوں کو پامال کرتی ہوئی سستی زرد صحافت وغیرہ شامل ہیں ۔ ان تمام پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے مالیگاؤں شہر کے سند یافتہ نوجوان صحافی ریحان یونس کی اولین صحافتی نصاب پر مبنی صحافتی کتاب’’ صحیفہ صحافت‘‘ کاکامیاب اجراء بتاریخ 17دسمبر 2021بروز جمعہ شپ دس بجے اسکس لائبریری میں عمل میں آیا ۔
اس پر وقار تقریب کی صدارت مالیگاؤں شہر کی معروف تعلیمی و سماجی شخصیت پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے فرمائی ۔ اس پروگرام میں بطور مہمانان خصوصی شہر کے بزرگ و سنیئر صحافیوں میں شیخ اسماعیل بیباک، انصاری احسان الرحیم،یوسف ترجمان، ظہور خان اورخلیل عباس موجود رہے ۔ اس پروگرام میں بطور مہمانا ن خصوصی و مقررین میں معروف سرجن ڈاکٹر سعید فیضی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی، ڈاکٹر مبین نظیر، ڈاکٹر آصف فیضی اور مدرس عبدالطیف نے اپنے تاثرات پیش کئے ۔ تمام ہی مہمان کرام کی موجودگی میں کتاب منظر عام پر آئی ۔ اس موقع پر صاحب کتاب کا تعارف ڈاکٹر مبین نظیر نے پیش کیا اور ڈاکٹر آصف فیضی نے کتاب پر بہترین تبصرہ پیش کیا ۔ وہیں اردو میڈیا سینٹر ،پترکار وکاس فاوَنڈیشن اوردیویانگ سوسایٹی کے ذمہ دارا ن کی جانب سے صاحب کتاب کا استقبال کیا گیا ۔
پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے کہاکہ صحیفہ صحافت کتاب کا مطالعہ تمام صحافی حضرات کو ضرور کرنا چاہئے ۔ اس کتاب سے عام قارئین، طلباء و طالبات اور نئے صحافیوں کو صحافتی اصولوں کو اچھی طریقہ سے سیکھنے اور سمجھنے کو ملے گا ۔ اس کتاب میں قدیم صحافت سے لیکر جدید صحافت تک کے تمام پہلو پر مکمل معلومات یکجا کی گئی ہے ۔ موصوف نے نوجوا ن صحافی ریحان یونس کوصحیفہ صحافت کتاب تصنیف کرنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ۔
مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے کہا آج ملک کے مین اسٹریم میڈیا نے صحافت کا معیار کھو دیا ہے ۔ الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ کے دور میں صحافت میں صحیح اور غلط خبروں میں فرق کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے ۔ پروپیگنڈہ والی صحافت اور جانبدارانہ انداز میں پیش کی جانے والی صحافت سے سماج و معاشرے میں غلط فہمیاں بہت بڑھ گئی ہے ۔ مولانا نے کہا کہ صداقت اور دیانتداری صحافت کے دو اہم ستون ہیں ۔ صحافی کو چاہئے کہ بڑی ذمہ داری،ایمانداری اور غیر جانبداری سے صحافتی خدمات کا انجام دے ۔ مولانا نے کہا وہ نوجوان صحافیوں سے پر امید ہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ معیاری صحافت کا انجام دیں اور ریحان یونس کو دعائیہ کلمات سے نوازا ۔
ڈاکٹر سعید فیضی نے کہا کہ صحافت کو اسلامی نقطہ نظرسے دیکھنا چاہئے اور صحیح معلومات کو عوام تک پہنچانے کا کام صحافی کا ہوتا ہے ۔ آج کارپوریٹ میڈیا کا دور ہے جس کا استعمال الیکشن اور جنگ میں کیا جارہا ہے ۔ صحافت کی طاقت کا اندازہ سب کو ہے اور حکومتیں بیباک صحافیوں سے ڈرتی ہیں ۔ سماج و معاشرے میں اچھے صحافیوں کے ذریعے بدلاؤ لایا جا سکتاہے اور اب ہر شعبہ میں صحافت ہو رہی ہے ۔ پہلے صرف خبروں کو پیش کیا جاتا تھا لیکن اب کھیل کود، صحت، تعلیم، انٹرٹنمنٹ، کاروبار، شوبز ، ایڈورٹائزمنٹ و غیرہ کیلئے بھی جدید ڈراءع ابلاغ کا بھر پور استعمال کیا جار ہا ہے ۔ ہر شعبہ کی معیاری صحافت کو سیکھنے کیلئے صحیفہ صحافت کار گر ہے ۔
اس تقریب کے اغراض و مقاصد سنیئر صحافی منصور اکبر نے پیش کئے ۔ معروف یوٹیوبر فرنود رومی نے صاحب کتاب کے تعلق سے گفتگو کی اور کتاب پر مختصر تبصرہ پیش کیا ۔ اس پروگرام کی نظامت ناظم نسل نو رضوان ربانی اور معروف ناظم مشاعرہ عمران راشد نے بخوبی نبھائی ۔ وہیں رسم شکریہ پروفیس ساجد نعیم نے پیش کیا اور اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں صحافی شہزاد اخترمیدان صحافت، شیخ زاہد بیباک، عبداللہ انصاری ای ٹی وی بھارت، شاداب احمد ، توصیف احمد اور دیگر اراکین انتظامیہ کمیٹی نے بھر پور تعاون پیش کیا ۔ اس پروگرام میں مالیگاؤں کی صحافتی خدمات کو انجام دینے والی تین پیٹری نظر آئی اوردیگر تعلیمی، ادبی، ملی و سماجی شخصیات بھی شریک مجلس رہیں ۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں