تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 13 دسمبر، 2021

بہادرستپال رائے کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ مکمل

 بہادرستپال رائے کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ مکمل

بہادرستپال رائے کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ مکمل
 بہادرستپال رائے کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ مکمل


یہ بھی پڑھیں:  دارجلنگ کے ستپال رائے بھی ہیلی کاپٹر حادثہ میں جاں بحق،سپتال جنرل بپن راوت کے ذاتی محافظ کے طورپر تعینات تھے

نیوزٹوڈے اردو:دارجلنگ کے بیٹے حوالدار ستپال رائے، جو ڈیفنس چیف بپن راوت کے ساتھ ہیلی کاپٹر حادثے میں مارے گئے تھے،آج دارجلنگ کے تکدا میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پورے قومی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔ ستپال رائے کی آخری رسومات رائے برادری کے رسم و رواج کے مطابق سرکاری سلامی کے ساتھ کی گئیں۔ اس موقع پر دارجلنگ کے ایم پی راجو بسٹ، دارجلنگ ایم ایل اے نیرج جمبا اور دیگر انتظامیہ افسران موجود تھے۔ گورکھا قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق آج صبح 11 بجے ویر جوان کو گھر کے قریب سپرد خاک کر دیا گیا۔حوالدار ستپال رائے امر کی اسی دن موت ہو گئی تھی جب تمل ناڈوکے کنور پہاڑ پر ایک ہیلی کاپٹر حادثہ ہوا تھا، جس میں سی ڈی ایس بپن راوت سمیت 13 فوجیوں کا المناک انجام ہوا تھا۔ 

آج اس بہار حوالدار بہادر ستپال رائے کا دارجلنگ کے تکدا ٹی اسٹیٹ میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس موقع پر ان کے سینکڑوں چاہنے والے، فوجی افسران اور سیاستدان موجود تھے۔ سارا ماحول اداس تھا۔ لوگوں نے انہیں آنسو بہا کر خراج عقیدت پیش کیا۔ دارجلنگ کے بی جے پی ایم پی راجو بشت، سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر گوتم دیب اور کئی معززین نے بہادر ستپال رائے کو آخری الوداع کیا۔حوالدار ستپال رائے کو سی ڈی ایس جنرل بپن راوت کا پی ایس او مقرر کیا گیا تھا۔ ہیلی کاپٹر حادثے میں ان کا جسم بری طرح جھلس گیا تھا۔ ان کی لاش کی شناخت ان کی موت کے 4 دن بعد ہوئی۔ اس کے بعد ہی ان کی لاش نئی دہلی سے باگڈوگرا لائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے لئے جان قربان کرنے والے کی بیوی ہونے پر مجھے فخر ہے۔ستپال رائے کی بیوی مندرا

 گزشتہ کل دوپہر تقریباً ساڑھے 12 بجے جب ان کا جسد خاکی باگڈوگرہ ہوائی اڈے پر لایا گیا تو سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور انتظامیہ عہدیداران ان کو آخری تعزیت دینے کے لئے موجود تھے۔ ستپال رائے کے اہل خانہ بھی باگڈوگرا ہوائی اڈے پر موجود تھے۔ مندرا رائے اور ان کا پورا خاندان سوگ میں ابھی بھی ڈوبا ہوا ۔ یہاں آرمی بیس کیمپ میں انہیں دلی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ انہیں دلی خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں خاندان کے افراد، فوج کے اعلیٰ عہدیدار، سلی گوڑی میونسپل کارپوریشن کے انتظامیہ بورڈ کے چیئرمین گوتم دیب، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راجو بشٹ، سلی گڑی کے ڈی ایس پی، سلی گوڑی کے ایس ڈی او سرینواس اور کئی دیگر مشہور شخصیات شامل ہیں۔

 خراج عقیدت کے پروگرام کے بعد ان کی لاش کو فوج کے ایک ٹرک میں دارجلنگ میں ان کی نجی رہائش گاہ تکداہ ٹی اسٹیٹ لے جایا گیا۔ راستے میں لوگوں نے جگہ جگہ ان کی لاش کو پھولوں کے ہار پہنائے اور بہادرستپال رائے امر رہے کے نعرے لگائے۔ آج اس بہادر جوان کی مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی گئیں۔ان کی ساری زندگی قوم کے تحفظ اور خود مختاری کے لئے ہے خاندان کے لئے نہیں۔بہادر ستپال رائے کے بیٹے کے اس بیان کی روح بھی شاید یہی تھی کہ ایک سپاہی ملک کے لئے جو کچھ بھی کرتا ہے، وہ اس کا فرض اور مذہب بھی ہوتا ہے اور اس کی عزت بھی ہوتی ہے، ایک شہید کو ملک کے لئے جینا اور مرنا فخر ہوتا ہے۔ ملک صرف فوجی کے خاندان کو ملتا ہے۔ ستپال رائے اتنے بہادر اور محب وطن تھے کہ سی ڈی ایس جنرل راوت انہیں ان سے الگ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ دونوں کا گہرا رشتہ تھا۔ ایم پی راجو بشٹ کے مطابق ایک بار جب ستپال رائے ریٹائر ہونا چاہتے تھے، سی ڈی ایس نے انہیں 2024 تک کام جاری رکھنے کو کہا تھا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ستپال رائے کی زندگی قوم کی خدمت کے لئے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی آخری رسومات ادا کرتے ہوئے لوگ تکلیف میں تھے۔ آج ملک کو ایسے سپاہیوں کی ضرورت ہے، کچھ لوگ ان کو آخری الوداعی دیتے ہوئے اپنے ذہن میں یہی کہہ رہے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad