تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 8 دسمبر، 2021

خراب مالی حالت کے باعث درجہ ہفتم کاطالب علم جھال موڑھی بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے پرمجبور

 خراب مالی حالت کے باعث درجہ ہفتم کاطالب علم جھال موڑھی بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے پرمجبور

خراب مالی حالت کے باعث درجہ ہفتم کاطالب علم جھال موڑھی بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے پرمجبور
 خراب مالی حالت کے باعث درجہ ہفتم کاطالب علم جھال موڑھی بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالنے پرمجبور


نیوزٹوڈے اردو: خراب مالی حالت کی وجہ سے ایک 14 سالہ نوجوان اپنے والدین اور بہن بھائیوں کا پیٹ پالنے کے لئے جھال موڑھی بیچ رہا ہے۔ اس کا نام روپیش برمن ہے اور وہ ساتویں جماعت میں پڑھتا ہے۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ رسک بل چڑیا گھر ٹورسٹ سنٹر کے قریب جھال موڑھی بیچتا ہے۔وہ کوچ بہار کے طوفان گنج دو نمبر بلاک کی شالباڑی ایک نمبر گرام پنچایت کے رسک بل کے سیاحتی مرکز سے ملحق جنوبی چنتیماری جونیئر ہائی اسکول میں پڑھتا ہے۔ اس کا خاندان والدین اور بہن بھائیوں پر مشتمل ہے۔

 اس کے والد مچھلی پکڑتے ہیں لیکن ان کے لئے خاندان چلانا بہت مشکل ہے۔ گھر والوں کے چہرے پر خوشی لانے کے لئے اس نے سائیکل پر جھال موڑھی بیچنا شروع کر دیا۔ ان کے گھر میں بجلی نہیں ہے۔ وہ پڑوسی کے موبائل پر آن لائن کلاس کرتا ہے۔ وہ جھال موڑھی بیچ کر روزانہ 250-250 روپئے کماتا ہے جس عمر میں بچے اپنے والدین کے ساتھ سیر کے لئے جاتے ہیں لیکن یہ کام کر رہاہے۔حالانکہ وہ خود اس کوپسند نہیں کرتاہے لیکن والدین اور بہن بھائیوں کے بارے میں سوچ کر وہ پھر سے اپنے کام میں مصروف ہو جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ بڑا ہو جائے گا تو وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔

روپیش برمن  کا یہ قدم ان سبھی طلبہ کے لئے ایک بہترین مثال ہے جو مالی تنگی کا بہانہ بناکر پڑھائی سے قطع تعلق کرلیتے ہیں  اور پڑھائی میں عدم دلچسپی کامظاہرہ کرتے ہیں ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad