خاتون ٹرک ڈرائیور ٹرک چلا کر مدھیہ پردیش سے سلی گوڑی پہنچی
نیوزٹوڈے اردو:قوتِ ارادی مضبوط ہو تو کوئی بھی کام ناممکن نہیں، اس کی مثال بھوپال کی 51 سالہ اگیتا رگھوونشی ہیں۔ ہندستان میںجہاں زیادہ تر خواتین اب بھی گھر سے باہر نکلنے میں کتراتی ہیںوہیں اگیتا ٹرک چلا کر روزی کماتی ہیں۔ ان کا نام ہندوستان کی پہلی خاتون ٹرک ڈرائیور کے طور پر درج ہے۔ اپنے شوہر کی موت کے بعد وہ تقریباً 18 سال تک ٹرک چلا کر اپنا خاندان چلاتی آرہی ہیں۔ رات کے وقت جب دوسری خواتین گھر سے نکلنے سے ڈرتی ہیں وہیں اسی وقت اگیتا مدھیہ پردیش سے کئی سو کیلومیٹر دور ٹرک چلا کر سلی گوڑی پہنچتی ہیں۔
| خاتون ٹرک ڈرائیور ٹرک چلا کر مدھیہ پردیش سے سلی گوڑی پہنچی |
انہوں نے بتایا کہ خواتین نے اپنے طورپر پہلے ہی یہ سمجھ لیا کہ یہ خواتین کا کام ہے اور یہ مردوں کا کام ہے لیکن یہ ایسا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ چاہتی تو دفتر میں کام کر سکتی تھی لیکن اس نے ٹرک ڈرائیور کا پیشہ چنا اور یہ نوکری اسے بہت عزیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوت ارادی ہو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ کام کوئی بھی اس میںلگن اور محنت ہونی چاہئے ۔ ادھر مدھیہ پردیش سے کئی سو کیلومیٹر دور ٹرک چلا کر سلی گوڑی پہنچتے ہی سلی گوڑی کے لوگوں نے اگیتا کا پرتپاک استقبال کیا۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں