تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 9 دسمبر، 2021

چارہ روزہ ربیع الاعرس بحسن وخوبی اختتام پذیر

 چارہ روزہ ربیع الاعرس بحسن وخوبی اختتام پذیر

چارہ روزہ ربیع الاعرس بحسن وخوبی اختتام پذیر
جشن ربیع الاعراس کے موقع پر بابوحضور کے ہاتھوں دستار بندی کا منظر


نیوزٹوڈے اردو:مغربی بنگال سے متصل ریاست بہار کے تاریخی شہردربھنگہ میں قائم خانقاہ عالیہ سمرقندیہ میں چارروزہ ربیع الاعراس بموقع 128 واں سالانہ عرس مولانا سمرقندی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ 6 تا9دسمبر 2021 بروزسوموار، منگل، بدھ اورجمعرات کوپیر طریقت حضرت علامہ سیدشاہ ا لحاج شمس اللہ جان مصباحی المعروف بابوحضور سجادہ نشیں خانقاہ عالیہ سمرقندیہ دربھگنہ کی سرپرستی میں بڑے ہی تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوا۔ ربیع الاعراس کے موقع پر سرکار بابوحضورکے ہاتھوں32 علما،حفاظ اورقراءکو دستار وسند سے نوازاگیا۔اس موقع پرخطباءاور شعراءمیں مفتی مسعود احمدبرکاتی استاد جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ،یوپی،مفتی سلیم اختر ممبئی،مفتی محفل اشرف برکاتی ، مولانا ناصر رضا خان بنگلور،قاری اسحاق انجم اور قاری شریف عالم سورت گجرات کے علاوہ ملک کے گوشے گوشے سے بالخصوص اتر دیناج پور ،دارجلنگ اور بہار کے کشن گنج ، پورنیہ سمیت کئی اضلاع سے لاکھوں کی تعداد میں علماء،اساتذہ مدارس ،ائمہ مساجداورہر عام وخاص نے شرکت کی۔

ربیع الاعراس کا پیغام نماز باجماعت کااہتمام:

چارہ روزہ ربیع الاعرس بحسن وخوبی اختتام پذیر
ربیع الاعراس میں مفتی مسعود احمد برکاتی استاد جامعہ اشرفیہ مبارک پور خطاب کرتے ہوئے


چارروزہ ربیع الاعراس کی خاص بات یہ رہی ہے کہ بابوحضور سمیت سبھی مقررین نے ربیع الاعراس کاپیغام نماز باجماعت کا اہتمام کے تحت نماز کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نماز کسی بھی صورت میںمعاف نہیں ہے اگرچہ کوئی اپنے وقت کا قطب یا ولی ہی کیوں نہ ہو،اس لئے سبھی لوگ جب یہاں سے اپنے اپنے گھر جائیں تو  آئندہ ہمیشہ نمازباجماعت اداکرنے کاعزم لیکر یہاں سے اٹھیں۔ مقررین نے زائرین ربیع الاعراس کو متوجہ کرکے کہاکہ اگر آپ کوخانقاہ عالیہ سمرقندیہ کے برزگوں سے سچی عقیدت ہے تواِن بزرگوں کے نقوش قدم پر چلنا ہوگا تب جاکر سچی محبت کا حق اداہوگا۔آپ خوش قسمت ہے کہ آپ کے ہاتھوں میںان بزرگوں کا دامن ہے ،اس لئے اپنے اندر نماز کے تئیں عقیدت ومحبت پیدا کریں۔ انتظامیہ کمیٹی جشن ربیع الاعراس خانقاہ عالیہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار سے ملی جانکاری کے مطابق عالمی وبا کورونا کی وجہ سے گزشتہ دوسال ربیع الاعراس کو کافی محدودپیمانے پر منایاگیاتھا۔دوسال کے وقفہ کے بعد حکومتی گائڈلائن پرعمل کرتے ہوئے اس سال پورے ذوق وشوق کے ساتھ منایاگیا۔ انتظامیہ کے مطابق 6تا9دسمبر بروزسوموار، منگل، بدھ اورجمعرات کی تقریبات حسب ذیل انداز میں منعقد ہوئے۔ 6 دسمبر کو نظم وانتظام،ختم قرآن مجید وختم بخاری شریف ،7 دسمبر کو بعد نمازفجر وعصر قرآن خوانی،بعدنمازمغرب محفل تقاریر ،قل وفاتحہ شریف،8 دسمبر کوبعد نماز فجروظائف وقرآن خوانی ،9بجے دن محفل تقاریر،قل وفاتحہ شریف،بعد نماز عصر قرآ ن خوانی ،بعد نماز مغرب محفل تقاریر،بعدنماز عشاءدستاری بندی ،تقاریراور قل وفاتحہ اور 9 دسمبر کو بعدنماز فجر قرآن خوانی ،روانگی جلوس برائے مزار مولانا سمرقندی،محفل عرس برمزار مقدس ،قل وفاتحہ شریف شامل ہے۔مندرجہ بالاتقریبات کو بحسن وخوبی پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے بابوحضور کی سرپرستی میں انتظامیہ کے فعال ومتحرک افراد مامور تھے۔

دربھنگہ انتظامیہ وپولس کی کوششیں قابل تعریف:

چارہ روزہ ربیع الاعرس بحسن وخوبی اختتام پذیر
قطب الاقطاب حضرت سید شاہ فدامحمد عبدالکریم المعروف مولانا سمرقندی علیہ الرحمہ کے مزار پر فاتحہ پڑھتے ہوئے بابوحضور 


انتظامیہ کے ذمہ داران نے بتایاکہ عرس کمیٹی کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں آنے والے زائرین کے کھانے پینے اور رہنے سہنے سمیت سبھی طرح کے انتظامات کئے گئے تھے ،کسی کی نماز قضا نہ ہواس کے لئے اضافی نماز ہال بنایاگیاتھا۔انتظامیہ کمیٹی جشن ربیع الاعراس کے مطابق چار روزہ ربیع الاعراس کے دوران دربھنگہ کی انتظامیہ اور پولس انتظامیہ کا کافی تعاون رہا ۔ کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے اس کی روک تھام کے لئے پولس کی ٹیم جگہ جگہ تعینات تھی۔ چونکہ یکبار گی لاکھوںکی تعدادمیں دربھنگہ شہر میں لوگوں کی موجودگی ہوتی ہے اس لئے ٹرافک نظام کوبحال کرنے کے لئے پولس کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ 





خدمات مشائخ خانقاہ سمرقندیہ:

واضح رہے کہ ہندستان کے بہار واطراف میں سلسلہ نقشبندیہ کے فروغ واستحکام اور اس سلسلے کی تعلیمات کو عام کرنے میں خانقاہ عالیہ سمرقندیہ دربھنگہ کا نمایاںکردار رہا ہے۔حضرت علامہ سید شاہ فد ا محمد عبد الکریم المعروف اعلیٰ حضرت مولانا سمرقندی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ نے 13ویں صدی ہجری میں خانقاہ عالیہ سمرقندیہ کی بنیاد رکھی اور یہاں سے دین وملت کی ترویج واشاعت ،بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی،گمراہ قلوب کو ہدایت کی روشنی سے منور کرنے اور معاشرے میں اسلامی ماحول پیداکرنے کا کام کیا ہے۔ ان کے بعد حضرت سید شاہ عبد الہادی عرف بڑے سید صاحب ،حضرت سید شاہ عبد العلی عرف چھوٹے سید صاحب نے اس فریضہ تبلیغ کو کماحقہ اداکیا۔ان بزرگوں کے بعدخانقاہ عالیہ سمرقندیہ دربھنگہ کے سابق زیب سجادہ عارف باللہ ،مقبو ل عام وخاص پیر طریقت حضرت سید شاہ الحاج نور علی المعروف حضور عالی علیہ الرحمة والرضوان ہوئے ۔حضور عالی نے ہندوپاک سمیت کئی ممالک میں مولانا سمرقندی رحمة اللہ علیہ اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیمات اور پیغامات کو عام کیا۔ بالخصوس ملک کے شمال مشرقی علاقہ بنگال اور بہار کے اتر دیناج پور ، دارجلنگ ، کالمپونگ ،کشن گنج اور پورنیہ سمیت کئی اضلاع میں جہد مسلسل اور پیہم سعی سے چراغ علم و ہدایت کوروشن کیا ۔ مدارس ،مکاتب اور مساجد کی بنیاد رکھی ،بنجرزمین کو آب علم سے سیراب کیا۔ اسی کار خیر میںمصروف رہتے ہوئے حضور عالی گزشتہ سال12 ستمبر کو داعی اجل کو لبیک کہہ دئے۔حضور عالی کے خدمات آج بھی روز روشن کی طرح عیاںہیںاور سبھی کے لئے مشعل راہ ہیں۔حضور عالی علیہ الرحمة والرضوان کے بعد آپ کے فرزند ارجمند حضرت علامہ سید شاہ الحاج شمس اللہ جان مصباحی المعروف بابوحضور سجادہ نشیں خانقاہ عالیہ سمرقندیہ دربھنگہ اپنے پدر بزرگوار اور حضرت مولانا سمرقندی علیہما الرحمة کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دعوت حق ودین میں شب وروز مصروف عمل ہیں اور سلسلہ نقشبندیہ کے فروغ میںاہم کردار اداکرتے ہوئے حضور عالی کے سچے جانشیں کا حق ادا کررہے ہیں۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad