از
: محمدفیاض عالم قاسمؔی
کرہ
ارض پرسن ١۸۰۰ءتک
انسانی آبادی کو ایک ارب ہونے میں ہزاروں برس لگے۔ پھر١۹٢۰ء
کی دہائی میں آبادی دو ارب تک پہنچ گئی، یعنی دوگنا ہونے میں صرف ایک سوبیس سال لگے۔ اس کے صرف پچاس برس بعد یعنی ١۹۷۰ءکی
دہا ئی میںآبادی دوگنا یعنی چارارب ہو گئی۔١١/جولائی
١٩۸۷ء
کو دنیا کی آبادی ٥/ارب
ہوگئی،اس لئے اس دن کو آبادی کاعالمی دن بھی منایاجاتاہے۔فروری ٢۰١۶ء
میں دنیا کی آبادی ۷/ارب ٤۰/کروڑتک پہونچ گئی،اپریل
٢۰١۷ء
میں یہ تعدادابڑھ کر۷/ارب ٥۰/کروڑ ہوگئی،اورنومبر٢۰١۹ءمیں
۷/ارب ۷۰/کروڑ تک پہونچ گئی۔آج ایک دن میں انسانی نسل سیارۂ زمین پر ہر منٹ میں٢٥۰بچے
پیداکررہاہے، یعنیہر گھنٹے میں ١٥۰۰۰/ہزار ،روزانہ٣/لاکھ ۶۰/ہزاراور سالانہ ١٣/کروڑ١٤/لاکھ بچے
پیداہورہے ہیں۔اس سے اندازہ لگانامشکل نہیں
ہے کہ دنیا کی آبادی بہت جلد آٹھ ارب کی لکیر تک
پہنچنے والی ہے۔
ہندوستان
کی آبادی آزادی سے قبل١٩٤١ء کی سروے کے مطابق صرف ٣١/کروڑ
تھی یعنی 318,660,580 ، اورآزادی کےبعد١٩٥١ء
میں یہی تعداد بڑھ کر ٣۶/کروڑیعنی
361,088,090
ہوگئی۔ اورآج ستر سال کے بعد ١٤۰/کروڑ ہونے والی ہے۔
یونیسیف (کی ڈاٹا)کے مطابق ہندوستان میں67,385 بچے روزانہ پیداہوتے ہیں۔اس حساب سے
سالانہ ٢/کروڑ ٤٥/لاکھ ۹٥/ہزارسے زائد بچے پیداہوتے ہیں۔چین
کے بعد دنیاکی دوسری بڑی آبادی والاملک
ہندوستان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ٢۰٢٤ء
تک ہندوستان چین کوپیچھے چھوڑدے گا ، اور اس کو پوری دنیا میں سب زیادہ آبادی والا
ملک ہونے کا شرف ہوگا۔
١۷۹۸ء
میں ماہر معاشیات ٹامس رابرٹ مالتھس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ آبادی جیومیٹرک
تناسب (1، 2، 4، 8، 16، 32)سے بڑھتی ہے؛ جبکہ وسائل میں اضافہ آرتھمیٹک حساب (1،
2، 3، 4، 5، 6، 7)سے ہوتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق آبادی میں اضافہ وسائل پر بوجھ کا
باعث بنتا ہے ،جس سے عدمِ توازن پیدا ہو گیا ہے۔ بھوک اور غربت بڑھتی جا رہی ہے۔(از:دائرۃ المعارف
ویکیپیڈیا)
اس
لئے بین الاقوامی قوتوں اور اداروں کا نظریہ ہے کہ آبادی میں اضافے کو روکا جائے
اور انسانی آبادی میں شرحِ پیدائش کو خوراک اور دیگر وسائل میں اضافہ کی رفتار کے
ساتھ منسلک کر کے کنٹرول میں لایا جائے۔چنانچہ ہمارےملک ہندوستان میں بھی
آبادی کو کنٹرول کرنے کی بات کہی جارہی
ہے، حتیٰ کہآسام حکومت
سرکاری ملازمتوں کے لیے دو بچے کی پالیسی نافذ کررہی ہے اور حکومت فلاحی اسکیموں
سے فائدہ اٹھانے کے لیے دو بچے کی شرط نافذ کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ آسام کے
وزیر اعلی ہیمنتا بسوا سرما نے گزشتہ دنوں دو بچہ پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا
تھا کہ ریاست کی بعض فلاحی اسکیموں کا فائدہ انہی لوگوں کو مل سکے گا ،جن کے صرف
دو بچے ہیں۔آسام نے پنچایت کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے بھی صرف دو بچوں کی
شرط عائد کر رکھی ہے۔ ادھر بی جے پی کی حکومت والی ایک اور ریاست اترپردیش میں لا
کمیشن کے چیئرمین نے بھی آبادی کی وجہ سے ریاست میں بعض مسائل پیدا ہونے کا حوالہ
دیتے ہوئے دو بچہ پالیسی نافذ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ہماراپڑوسی ملک چین نے
چند سال قبل (Single Child)ایک بچہ
کی پالیسی پیش کی تھی،٢۰١۶ء میں اس نے دوبچوں کی پالیسی بنائی،اوراب شی جن پنگ
حکومت نے ٥/جون ٢۰٢١ء کو تین بچے پیداکرنے کی اجازت دیدی ہے؛کیوں کہ چین کی کام کرنے والی آبادی معمرہورہی
ہے۔نوجوان طبقہ کی تعداد کم سے کم ترہوتی
جارہی ہے۔ایسے میں اسے جی ڈی پی کو فروغ دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ نئے کارکنوں کی ضرورت پڑرہی ہے۔٢۰١۰ءسے ٢۰٢۰ء کے درمیان چین کی اوسط
سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح اعشاریہ ٥٣فیصد تھی،٢۰١۰ء میں معمر افراد کی حصہ
داری ٢۶ء١٣فیصد تھی،جب کہ ٢۰٢۰ء میں ان کی حصہ داری بڑھ
کر۷ء١۸فیصد ہوگئی۔ اس لئے ہندوستان کے لئے اس میں سبق ہے کہ جب چین دوبچوں
کی پالیسی کو ختم کررہاہے، تو ہندوستان
میں اس کوکیوں اپنایاجارہاہے۔چین نے جو تلخ تجربہ کیا ہے، اس سے ہم کو فائدہ اٹھاناچاہئے نہ کہ ہم بھی خود تجربہ
کرناشروع کردیں۔
ہندوستان میں شرح پیدائش ١۹۹٢ء سے ١۹۹٣ء میں ٤ء٣فیصد تھی،جو اب کم ہوکر ٢ء٢فیصد رہ گئی ہے۔اس لحاظ سے
سمجھاجارہاہے کہ ٢۰٢٥ء تک یہ شرح مزید کم ہوکر ۹٣ء١فیصد تک ہوسکتی ہے۔ویکیپیڈیا
کے مطابق ہندوستان کی آبادی میں ٢۰١۸ء میں ٢۰١۷ء کے مقابلہ میں1.04%فیصد اضافہ ہوا، ٢۰١۹ء میں ٢۰١۸ء کے مقابلہ میں 1.02%فیصد اضافہ ہوا۔٢۰٢۰ء میں صرف 0.99%فیصد اضافہ کاہوا۔اس سے اندازہ لگائیں کہ ہندوستان میں شرح پیدائش بڑھنے کے بجائے گھٹ
رہی ہے۔
ہندوستان میں جہاں ایک طرف روزانہ67ہزار
بچےپیداہوتے ہیں تو وہیں ان میں سے ہر منٹ میں
ایک نوزائدہ مرجاتاہے۔اس طرح تقریبا٢۷/ ہزار یعنی 27,873 لوگ روزانہ مرجاتے ہیں۔ اس لئے آبادی کو کنٹرول
کرنےکے بجائےبڑھانے کی ضرورت ہے۔
ہمارا عقیدہ ہے کہ پوری کائنات کا خالق و مالک اور اسے چلانے
والا اللہ تعالیٰکی ذات ہے جو اپنی حکمت اور مصلحت کے ساتھ اس پورے نظام کو کنٹرول
کر رہا ہے۔ سارے انسان اسی نے پیدا کیے ہیں اور زمین میں ان کے لیے خوراک بھی اسی
نے مہیا کی ہے۔ اسے انسانوں کی ضروریات اور زمین میں خوراک کے خزانوں کاپورا علم
ہے۔ وہ انسانوں کی ضروریات سے غافل نہیں ہے اور نہ آبادی اور خوراک کے ذخائر میں
توازن قائم رکھنا اس کے بس سے باہر ہے۔ اس نے ہر جاندار کی خوراک کا وعدہ کر رکھا
ہے اور اس وعدہ کے مطابق وہ صرف انسانی آبادی نہیں، بلکہ ہر جاندار مخلوق کو اس کی
ضرورت کے مطابق خوراک اور دیگر ضروریات مہیا کر رہا ہے۔قرآن کریم کی سورہ ہود آیت
نمبر(۶۰)میں اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:ترجمہ:”زمین میں چلنے والا کوئی ایساجاندار
نہیں ہے، جس کا رزق اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے نہ لے رکھا ہو۔ وہ ہر جاندار کے عارضی
اور مستقل ٹھکانے کو جانتا ہے اور یہ سب کچھ ریکارڈ میں موجود ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات
کے اندر تقسیم ِرزق کا جو نظام بنارکھا ہے۔ اس میں اس نے ہر جاندار کے لیے اس کی
ضروریاتِ زندگی فراہم کر دی ہیں۔اس آیت کے تحت حضرت مولاناخالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم اپنی مایہ ناز آسان تفسیر
قرآن میں لکھتے ہیں:
اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوقات کے لئے رزق کا انتظام فرماتے ہیں
، مالتھوس (Thomas Robert Malthus) نے 1798ءمیں اپنا نظریہ پیش کیا تھا
کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے اعتبارسے ۳۰ سال کے عرصہ کے بعد دنیا میں کھانے پینے کے وسائل ختم
ہوجائیں گے اور لوگوں کے بھوکوں مرنے کی نوبت آجائے گی اور اس کے ۱۰۰ سال بعد 1898ء میں سرولیم کروکس (Sir William) نے توچیلنج کیا تھا کہ صرف ۳۰ سال تک ہی موجودہ وسائل
ہماری ضروریات پوری کرسکیں گے ؛ لیکن عملی
صورت حال یہ ہے کہ آج آبادی کے کئی گنا زیادہ ہوجانے کے باوجود زرعی پیداوار سے
لے کر ، مرغی ، انڈے اور مچھلیاں وغیرہ تک تمام ضروریاتِ زندگی اتنی وافر مقدار میں
موجود ہیں کہ ماضی میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور صنعتی پیداوار نے
انسان کو جو سہولتیں مہیا کی ہیں ، ان کا تو کوئی شمار وحساب ہی نہیں ، یہسب کچھ
قرآن مجید کے اُس بیان کی عملی تصدیق ہے کہ جیسے جیسے اللہ کی مخلوق میں اضافہ ہو
گا ، وسائل میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔(آسان تفسیر قرآن، تحت سورہ ہود، آیت:۶
)
اس لیےمسئلہ انسانی آبادی میں
اضافے کانہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ دوہیں:
(1)
زمین میں موجود خوراک کے ذخائر تک رسائی
کس طرح ہو؟
(2)
ان کی تقسیم کا کیا نظام ہو؟۔
یہ دو باتیں اللہ تعالیٰ نے
انسان کے ذمے کی ہیں اور انہیں انسان کی عقل اور دیانت کی آزمائش ٹھہرایا ہےاوربدقسمتی
سے یہیں گڑبڑ ہواہے،اس لئے ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ ان کاجائزہ لینے کی ضرورت
ہے۔
اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے
کسی فلاحی مملکت میں ہر کنبے کو اس کی ضرورت کے مطابق وظیفہ دیا جاتا ہو اور پندرہ
بیس افراد میں سے کسی ایک کو ان کا سربراہ بنایاجاتاہو، اوران کو اتھارٹی دی جائے کہ وہ اپنے کنبے کے افراد کی
ضروریات کے لیے اتنی رقم سرکاری خزانے سے لے سکتا ہے،پس وہ رقم وصول کرنے میں یا
تو لاپرواہی کرتا ہویا وہاں سے وصول توکر لیتا ہو،لیکن متعلقہ لوگوں پر خرچ کرنے
کے بجائے ذاتی عیش و عشرت پر ضائع کر دیتا ہو تو اس کنبے کے افراد کو خوراک و لباس
اور دیگر ضروریات نہ ملنے کی ذمہ داری اس فلاحی ریاست پر نہیں ہوگی؛ بلکہ کنبے کا
سربراہ مجرم ہوگا،کیوں کہ اس نے رقم وصول نہ کر کے یا وصولی کی صورت میں بے جا استعمال
کر کے اپنے کنبے کے افراد کو بھوک، ناداری اور غربت سے دوچار کر دیا ہے۔
اسی طرح آج اگر دنیا میں
کروڑوں انسان بھوک اور فاقہ کا شکار ہیں اور بہت سے ممالک اپنے عوام کو بنیادی
ضروریات مہیا کرنے سے قاصر ہیں تو اس کا قصور وار وہ نظام اور سسٹم ہے جس نے انسانی
برادری کی عالمی سطح پر چودھراہٹ سنبھال رکھی ہے اور جس نے خوراک کے ذخائر اور دنیا
کے مالی وسائل پر اجارہ داری قائم کررکھی ہے، اوران کی تقسیم کے تمام اختیاراتاپنے
ہاتھ میں رکھے ہیں۔
یہ اسی کا کرشمہ ہے کہ ایک
طرف امریکہگیہوں کا ایک بہت بڑا حصہ ضرورت سے زائدقرار دے کر سمندر میں پھینک دیتا
ہے اور برطانیہ میں مارکیٹ کی قیمتوں میںتوازن رکھنے کے لیے کچھ زمینداروں کو گندم
کی کاشت کرنے سے روک دیاجاتاہےتو دوسری طرف غریب ممالک میں لاکھوں انسان بھوک سے
مر جاتے ہیں۔ایک طرف امیروں کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف
غریبوں کی غربت اس سے دوگنی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔
خود ہمارے ملک میں ایک
طرف چند افراد اور خاندان ہیں جن کے کتے مکھن اور پنیر کھاتے ہیں اور دوسری طرف
کروڑوں غریب عوام ہیں جن کو دو وقت سادہ روٹی بھی میسر نہیں ہوتی۔ غربت کا مسئلہ
قومی سطح پر ہو یا عالمی سطح پر، دونوں جگہ خرابی کی اصل وجہ تقسیم کا نظام ہے اور
وہ خود غرض طبقات و اقوام اس کے ذمہ دار ہیں جو اپنی عیاشی اور لگژری کے لیے غریب
عوام و طبقات کا استحصال کر رہی ہیں اور کروڑوں بھوکے اور فاقہ کش انسانوں کے منہ
سے نوالے چھین کر اپنی تجوریاں بھر رہی ہیں۔
اسلام کا نظام یہ ہے کہ دولت صرف مالداروں کے درمیان میں گھومتی پھرتی
نہ رہے؛ بلکہ ضرورت مندوں تک بھی پہنچے۔
(سورۃ الحشر:۷)
اسی وجہ سے شریعت میں زکاۃ اورعشر کو واجب قراردیاگیا ہے،بعض
گناہوں کی سزاکفارات متعین کئے گئےہیں،صدقات وخیرات کی ترغیب دی گئی ہے،ان کااولین مصرف غریب اورمحتاج
کو بنایاگیاہے۔ صدقات وخیرات اورزکاۃ کے مستحق غریب فقیراورمسکین ہیں۔۔(سورۃ
التوبۃ:۶۰)اس لئے قدرتی ذخائرکی موجودہ کوتقسیمبدلناہوگا،زمین کے وسائل پر
تمام انسانوں کا یکساں حق تسلیم کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ انسانی آبادی
کوکنڑول کرنے کی۔فقط
٭مضمون نگار دارالقضاء ناگپاڑہ کے قاضی شریعت ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں