تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 17 دسمبر، 2021

طالبات کے لئے گرام پنچایت کی جانب سے”کنیاشری اسکیم“ بیداری پروگرام

 طالبات کے لئے گرام پنچایت کی جانب سے”کنیاشری اسکیم“ بیداری پروگرام

طالبات کے لئےمجلس پور گرام پنچایت کی جانب سے”کنیاشری اسکیم“ بیداری پروگرام
 طالبات کے لئےمجلس پور گرام پنچایت کی جانب سے”کنیاشری اسکیم“ بیداری پروگرام


ریاستی حکومت کے ”کنیاشری اسکیم“ سے بے شمار لڑکیوں میں تعلیمی بیداری کے ساتھ گارجنوں کاملاحوصلہ ۔قیصراحمد

نیوزٹوڈے اردو: چاکولیہ بلاک کے تحت کانکی گرام پنچایت میں کنیاشری اسکیم بیداری پروگرام کا انعقاد ہوا۔ یہ پروگرام علاقے میں تعلیمی بیداری کے علاوہ اسکولوں میں زیر تعلیم زیادہ سے زیادہ طالبات کو اس اسکیم سے واقفیت اور فائدہ پہنچانے کیلئے منعقد کیاگیا تھا۔ اس وقت مغربی بنگال کے عوام ، خاص طورپر اسکول میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کیلئے کنیا شری اسکیم کافی مفید ثابت ہوتاجارہاہے،جس کے تحت متوسط طبقے کے اسکول میں زیر تعلیم آٹھویں جماعت تابارہویں جماعت کے طالبات کو جن کی عمر13 سال سے 18سال تک کی ہے انہیں سالانہ پانچ سوروپئے اور18سال کی تکمیل کے بعد بیک مشت ۵۲ہزارروپئے دیا جارہا ہے۔

طالبات کے لئےمجلس پور گرام پنچایت کی جانب سے”کنیاشری اسکیم“ بیداری پروگرام


 اس اسکیم کے کیلئے ایسے تمام لوگ اہل ہیں جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد نہ ہو۔ کانکی گرام پنچایت کے موجودہ پردھان قیصر عالم نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعہ ہمارے علاقے کی طالبات میں پڑھنے اور اسکول جانے کے رجحان میں کافی اضافہ ہوا۔ کنیاشری اسکیم کے تحت ریاست بھر میں ہر سال تقریباً ساڑھے تین لاکھ لڑکیوں کو مالی امداد فراہم کروایا جارہا ہے۔ جوکہ کافی اچھی بات ہے۔ 

طالبات کے لئےمجلس پور گرام پنچایت کی جانب سے”کنیاشری اسکیم“ بیداری پروگرام
 طالبات کے لئےمجلس پور گرام پنچایت کی جانب سے”کنیاشری اسکیم“ بیداری پروگرام


قیصر احمد(پردھان‘کانکی گرام پنچایت، چاکولیہ بلاک) نے کہا کہ کنیاشری اسکیم کو مدنظر رکھ کر اسکولوں میں زیر تعلیم طالبات کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں کنیا شری اسکیم کے متعلق مزید جانکاری اور واقفیت کرارہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق طالبات اس اسکیم سے فائدہ اُٹھاسکے۔ چاکولیہ بلاک کے کانکی گرام پنچایت میں منعقدہ ”کنیاشری اسکیم“ بیداری پروگرام میں کانکی گرام پنچایت کے پردھان کے علاوہ جی آرایس اسلم نیر، سکریٹری سوکماربسواس، سہایک اُتم برمن وغیرہ کے علاوہ سینٹ اگنوشیش مجلس پور ہائی اسکول کے ایسے طالبات جو کنیاشری اسکیم میں اپنا اندراج کرواچکی ہیں اس پروگرام میں شامل تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad