| ملک ہندوستان میں دم توڑتی جمہوریت |
ملک ہندوستان میں دم توڑتی جمہوریت
از✍محمد زکریا ممتاز دیناج پور بنگال
لفظ جمہوریت انگریزی زبان کے democracy کا ترجمہ ہے اور یہ یونانی لفظ demo جس کے معنی عوام کے ہیں، cracy جس کے معنی حکومت کے ہیں، تو اس اعتبار سے جمہوریت کے معنی ہوا حکومت کی ایک ایسی حالت جس میں عوام کا منتخب شدہ نمائندہ حکومت چلانے کا اہل ہوتا ہے۔
قضیہ جمہوریت ایک ایسا پیچیدہ اصطلاح ہے جس کی کئی تشریحات کی جاتی ہیں
یہ ایک سیاسی معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کا نام ہے اس میں کارحکومت ایک ہجوم کو تفویض کردیا جاتا ہے، جمہوری کفری نظام کے تحت چلنے والی ریاست انسان کو انسانوں کی غلامی میں لے کر سودی معاشی نظام میں جکڑ کر رب العالمین کے مدمقابل لاکھڑی کرتی ہےاور انسان سے دین و عقائد و توحید پر کامل یقین چھین کر مایوسی کے اندھیروں میں ڈبو کر، روٹی، کپڑا، مکان کے پیچھے لگا دیتی ہے، انسان رب تعالی سے دور ہوکرانسانوں کا محتاج بن جاتا ہے، رب تعالی سے مانگنے کی بجائے انسانوں کے دروازے پر دستک دے رہا ہوتا ہے اور زندگی کا حقیقی مقصد کھو کر روٹی کپڑا مکان تک ہی محدود ہوکر رہ جاتا ہے، جمہوری ریاست میں انسان کی عزت وناموس اور زندگی کی قدروقیمت جانوروں سے بھی کم ہوجاتی ہے۔
جمہوریت کی تمام تعریفیں بس لفظی ہیں ، کیوں کہ مختلف ممالک میں مختلف نظام قوانین بنتے ہیں اور بگڑتے ہیں، چاہے اس میں عوام کی مرضیات کا دخل ہو یا نہ ہو اب دیکھیے نا!ملک عزیز ہندوستان کیسے مہاماری کے دور سے گزر رہا ہے ابھی کرونا سے نپٹ ہی نہ پائے تھے کہ اومیکرون نے صرف دستک ہی نہیں بل کہ آدبوچاہے، لیکن اسی اثنا میں چھپ کے کسانوں کے لیے ایک نہیں دو نہیں، بل کہ پورے تین سیاہ قانون ان پر تھوپ دیےگئے ،اور پھر ایک طویل عرصے کے بعد کسانوں کی محنت رنگ لائی اور مجبوراموجودہ حکومت کو یہ سیاہ قانون واپس لینے پر مجبور ہوناپڑا۔
افسوس صدافسوس! ہمیں اب تک ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں نے جمہوریت کا مطلب بس اتنا بتا رکھا ہے کہ جب جب اسمبلی اور لوگ سبھاالیکشن آئے ہمیں اپنے قیمتی ووٹ دے کر اسمبلی یا لوگ سبھا پہنچا دیں اور پانچ سال تک ٹکر ٹکر تاکتے رہیں، اس کے بعد توصرف ہماری ہی مرضی چلے گی، تم بےقوفوں کی نہیں۔ مسلمان آج اسی جمہوریت سے پس رہا ہے، ساتھ ساتھ ہمارا بکاؤ میڈیا جو کہ جمہوریت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے، اس کا یہ حال ہے کہ کسی بھی معاملے میں آنکھیں موند کر، شک نہیں بل کہ مکمل یقین کے ساتھ شک کی سوئی مسلمانوں کی طرف گھما دیتا ہے، پولیس والوں کا تو اس سے بھی برا حال ہے، کہ تفتیش وتحقیق کے لیے صحیح طور سے جائے حادثہ پہنچتی بھی نہیں کہ انہیں سراغ مل جاتا ہے کہ اس واقعے کو انجام دینے والا کوئی عبد اللہ، محمد،احمد وغیرہ نام کاکوئی بندہ ہے۔
جمہوری ملک میں پولیس بہت جلد فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ جاتی ہے، بطور دلیل مدھیہ پردیش میں بہت سے ایسے تھانے ہیں جہاں مسلمان جا کر شکایت بھی نہیں درج کرا سکتے ہیں، وہاں جانے پر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان جاکر شکایت کرو ایسے حالات میں جب مسلمان جمہوریت کا طوق اپنے گلے سجا چکے ہیں تو حریت پسندوں کو چاہیے کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق دیں، ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کریں۔
اس کے بر عکس اسلامی نظام کے تحت چلنے والی ریاست انسان کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر حدوداللہ کی مبارک کڑی میں جکڑ کر اس کی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرتی ہے، اسے پاکیزہ اور پرامن عزت والی زندگی دیتی ہے، رب العالمین کے قریب تر کرتی ہے، سب سے پاکیزہ رزق اوربہترین عقیدہ دیتی ہے، اور اسے بہترین مقصد زندگی بتاتی ہے، جس سے اس کے دین و دنیا خیر و برکت و پاکیزگی سے بھرجاتے ہیں، اسلامی ریاست میں حاکم اور رعایا،غلام اور مالک کی حیثیت برابر کی ہوتی ہے، اور انصاف کا بہترین نظام قائم ہوتا ہے، جس کی برکت سے زمین بھی اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتی ہے۔
Mobile 8372849167
Md zakaria


ماشاءاللہ بہت اچھا لکھا ہے ماشاءاللہ
جواب دیںحذف کریں