| سابق ایم ایل اے ومشہورسیاستداں چودھری محمدآفاق کے یوم وفات کے موقع پر عرس کا اہتمام |
سابق ایم ایل اے ومشہورسیاستداں چودھری محمدآفاق کے یوم وفات کے موقع پر عرس کا اہتمام
اسلام پور کی ہمہ جہت ترقی میں والدی گرامی چودھری محمد آفاق کا اہم کردار ہے،اس لئے ان کے نام کا کوئی یادگار ہوناچاہئے۔چودھری ڈاکٹر عزیز حسن
نیوزٹوڈے اردو: 50اور60 کی دہائی میں اسلام پور اور پڑوسی بہار کے قدآورسیاسی رہنما و چار مرتبہ کے ایم ایل اے چودھری محمدآفاق مرحوم کے یوم وفات کے موقع پرہر سال کی طرح اس سال بھی اسلام پور میں واقع ان کے مزار پرفاتحہ خوانی،میلاد شریف اورعرس کا اہتمام کیاگیا۔ مرحوم چودھری محمدآفاق کے صاحبزادے ڈاکٹر چودھری محمد عزیزحسن کی سرپرستی میں میلا ماٹھ،آفاق نگر، یوسف گنج چودھری اسٹیٹ کے قبرستان میں واقع مزارشریف میں عرس کا اہتمام کیاگیا جہاں چودھری خاندان کے سبھی لوگوں کے علاوہ قرب وجوار کے علمائے کرام ،مدارس کے طلبہ اور عام لوگ کافی تعداد میں شریک ہوئے۔عرس کی مناسبت سے سب سے پہلے قرآن خوانی کااہتمام کیاگیا اور بعدنمازجمعہ مزارکے پاس مختصر محفل میلادمنعقد ہوئی ۔صلوٰة وسلام اوررقت انگیز دعا کے ساتھ محفل کا اختتام پذیرہوا۔اخیر میں سبھی مہمانوں کے درمیان ظہرانہ تقسیم کیاگیا۔
مرحوم چودھری محمدآفاق کے صاحبزادے ڈاکٹر چودھری محمد عزیزحسن نے بتا یا کہ ہرسال کی طرح امسال بھی آج ہی کے والد گرامی کے یوم وصال کے موقع پر کافی ذوق وشوق کے ساتھ قرآن خوانی اور محفل میلاد اہتمام کیاگیاجس میں کافی لوگوں نے شرکت کی جن کا ہم ممنون ہیں۔انہوں نے تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے بتایاکہ آج ہی کے دن 21جنوری 1968 کو ایک سڑک حادثے کے دوران مشہورسیاسی رہنما ،دینی ومذہبی شخصیت چودھری محمدآفاق مرحوم اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے،اسی لئے آج ہی کے دن 21جنوری کو ان کے یوم وفات کے موقع پر فاتحہ خوانی اور میلاد شریف کے ساتھ ساتھ عرس کا بھی اہتمام کیاجاتاہے جہاں کافی تعداد میں ان کے چاہنے والے شرکت کرتے ہیں اور ان کویادکرتے ہیں۔
| سابق ایم ایل اے ومشہورسیاستداں چودھری محمدآفاق |
واضح رہے کہ چودھری محمدآفاق 1952سے 1955تک بہاراور 1956سے 1968تک اسلام پورمغربی بنگال کے ایم اےل اے رہ چکے ہیں۔1956میںان کے دور میں اسلام پور بہار سے الگ ہوکربنگال میں شامل ہواتھا اسی لئے بنگال کے ساتھ ساتھ بہار میں بھی چودھری محمدآفاق کی شخصیت کافی جانی پہچانی تھی۔ان کے دور میں اسلام پور بہار کے پورنیہ ضلع سے الگ ہوکر بنگال کے مغربی دیناجپورضلع کا حصہ بناتھا اور اس ضلع میں اسلام پور کو سبھی سہولیات اور رتبہ دلانے میں چودھری محمدآفاق کا بڑارول تھا۔ اسلام پور کا بنگال میں شامل ہونے کے بعدبنگال کی سیاست میں چودھری محمدآفاق کی ایک اچھی پکڑ بن گئی تھی اور اس وقت کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر بی سی رائے سے ان کی کافی قربت تھی اسی لئے انہیں کابینہ وزیرکا بھی آفردیاگیا لیکن ان کے والد چودھری محمد یوسف سے حد درجہ محبت،گھریلو اور علاقے کی ذمہ داری کی وجہ سے انہوں نے وزارت کا عہدہ لینے سے انکارکردیا ۔البتہ حکومت کا ایک اہم رکن ضرور بنے رہے اور اسلام پور کو ایک نئی پہچان دلانے میں کامیابی حاصل کی۔
اسلام پور کو محکمہ کا درجہ دلانے میں چودھری محمدآفاق کاہی ہاتھ ہے ۔انہوں نے اپنی زمین دے کر اس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر بی سی رائے سے قربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دلکولہ کی جگہ اسلام پور کو محکمہ کا درجہ دلایا۔اسلام پور محکمہ بننے کے بعد یہاں چہار طرفہ ترقی ہوئی اوراسلام پور کا چہرہ ہی بدل کیااور اس کا فائدہ آج بھی اسلام پور واطراف کے لوگ اٹھارہے ہیں۔
چودھری محمد آفاق مرحوم کے فرزند ڈاکٹر چودھری محمد عزیز حسن نے کہاکہ اسلام پورکی تعلیمی ،تعمیری اورچہار طرفہ ترقی میں والد گرامی ایم ایل اے چودھری محمد آفاق مرحوم کااہم کردر رہا ہے اور عوامی خدمت میں بھی کافی مقبول ہیں اس لئے میرا مطالبہ ہے کہ اسلام پور میںان کے نام پر یادگار (میموریل)بننا چاہئے اور جب جب بھی اسلام پور کی تاریخ کودہرائی جائے تو والد گرمی کی کاوشوں اور ان کی قربانیوں کو فراموش نہ کیاجائے۔
ڈاکٹر چودھری عزیزحسن نے کہاکہ سیاسی خدمات کے ساتھ ساتھ مذہبی طورپر بھی وہ کافی متحرک تھے۔ آخری دنوں میں انہوں نے اللہ کے راہ پر وقت گزارنا شروع کردیا اور ہمیشہ بزرگان دین اوراولیائے کرام کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دینے لگے جس وجہ سے ان کا صوفیانہ انداز سبھی کے سامنے آیا۔غریبوں کی مددکرنا،بچیوں کی شادی میں مالی معاونت دینااور مدارس اورمساجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا ان کے خاص کاموں میں تھا اور ویسے بھی اسلام پور کے سب سے زمیندار خاندان کے زمیندار شخصیت ہونے کی وجہ سے سینکڑوں خاندانوں کا گزربسر ان کی مدد پر منحصرتھا۔ان کے دور کے لوگ جو انہیں اچھی طرح جانتے ہیں آج بھی ان کو یاد کرتے ہوئے آنسو بہاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ علاقے میں صاحب کشف کے طورپر مشہور صوفی حضرت فضل ربی مستان عاشق اللہ رحمة اللہ علیہ کے وصال کے بعد 1959میں والد گرامی نے ہی مزار کی تعمیر کرائی اور باضابطہ طورپر عرس کااہتمام کیا۔آج بھی چودھری محمد آفاق مرحوم کے صاحبزادے بالخصوص ڈاکٹر چودھری عزیز حسن کی نگرانی میں ہرسا ل21اور22دسمبر کو پورے جوش وخروش کے ساتھ عرس مبارک کا اہتمام کیاجاتا ہے۔
ان کے صاحبزادے ڈاکٹر چودھری محمد عزیزحسن نے بتا یا کہ ان کے والد گرامی چودھری محمد آفاق نے بنیادی تعلیم کلکتہ کے سینٹ جیمس اسکول سے حاصل کی اور گریجویشن بھی کلکتہ میں ہی مکمل کیاجہاں انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی سے سندفراہم کیاگیا ۔اس کے بعد چودھری محمد آفاق نے اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن کا ارادہ کیا جس کے لئے فیس وغیرہ سمیت ضروری تیاریاں بھی مکمل کرلی گئی لیکن والد گرامی چودھری محمد یوسف کے ضعف اور بزرگی کی وجہ سے انہوں نے اس ارادے کو ترک کردیااور والد گرامی کے دست وبازو بن کر قوم وملت کی خدمت میںاپنی زندگی کولگادی۔ انہوںنے بتایاکہ چودھری محمد آفاق عہد طفولیت سے ہی اعلیٰ ذہانت کے مالک تھے ، انہیں تعلیم سے کافی دلچسپی تھی اور یہ دلچسپی ہمیشہ قائم رہی، یہی وجہ ہے کہ چوھری محمد آفاق اسلام پور سمیت دوردور تک ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت کی حیثیت سے بھی متعارف ہوئے ۔
چودھری محمد آفاق نے اپنی آنے والی نسلوں میں تعلیم سے محبت کی بنیاد ڈالی اسی کا نتیجہ ہے کہ چودھری خاندان کے لوگ زیور تعلیم سے آراستہ ہیں۔ ڈاکٹرچودھری محمد عزیزحسن نے کہا کہ21 جنوری 1968 کو جب ان کے والد ایم ایل اے چودھری محمد آفاق خدارسیدہ بزرگ مستان بابا رحمة اللہ علیہ کے ہمراہ سلی گوڑی سے اسلام پور لوٹ رہے تھے تبھی ایک کار حادثے میں ان کی موت ہوگئی تھی۔ انہوںنے بتایاکہ یہ کار حادثہ آج بھی شک کے دائرے میں بنا ہواہے ۔ اس واقعہ کی اس وقت اتنی گہرائی سے تفتیش نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں