| باگڈوگرا ایئرپورٹ 11 اپریل سے 25 اپریل تک بند رہے گا |
باگڈوگرا ایئرپورٹ 11 اپریل سے 25 اپریل تک بند رہے گا
بین الاقوامی معیار کا ہوائی اڈہ بنانے کے لئے باگڈوگرا ایئرپورٹ کی ترقی اور توسیع پرمرکزی اور ریاستی حکومت کی خاص توجہ
نیوزٹوڈے اردو: شمالی بنگال کے وسیع علاقوں کے ساتھ ساتھ نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش اور دیگر پڑوسی ریاستوں بشمول سکم، بہار اور آسام کے لوگ سلی گوڑی کے باگڈوگرا ایئرپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ چونکہ سلی گوڑی شمال مشرقی ہندکا گیٹ وے ہے، اس لئے باگڈوگرا ایئر پورٹ کی اہمیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
باگڈوگراائیر پورٹ سے روزانہ اوسطاً آٹھ سے نو ہزار مسافر سفر کرتے ہیں، حالانکہ حال ہی میں ایئرپورٹ اتھاریٹی آف انڈیا نے باگڈوگرا ایئرپورٹ کو 11 اپریل سے 25 اپریل تک مکمل طور پر بند رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں اور اس میں شمالی بنگال کے میڈیکل کے ساتھ ساتھ سیاحت کے لئے جانے والے لوگوں کو بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایئرپورٹ کی بندش سے سیاحوں اور مسافروں کی خدمات سے وابستہ بہت سے لوگوں کی روزی روٹی بھی متاثر ہوگی۔
واضح رہے کہ شمالی بنگال آنے والے سیاحوں کا ایک بڑا حصہ باگڈوگرا ہوائی اڈے پر منحصر ہے اور تاجروں کو خدشہ ہے کہ اس سے سیاحت کا کاروبار بھی متاثر ہوگا۔
باگڈوگرا ایئرپورٹ کی ترقی اور توسیع کی تیاریاں:
باگڈوگرا ہوائی اڈہ مغربی بنگال کے بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک، نہ صرف شمالی بنگال کے لوگوں کے لئے بلکہ دارجلنگ، نیپال، بھوٹان، سکم اور بنگلہ دیش کے لوگوں کے لئے بھی اہم ہو گیا ہے۔ پہاڑی علاقوں کا دورہ کرنے اور شمالی بنگال کی ہریالی کو دیکھنے کے لئے آنے والے سیاحوں کے لئے بھی یہ بہت ضروری ہے۔ ایسے میں ایئرپورٹ کی ترقی اور توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ جس رفتار کے ساتھ لوگوں کا طرز زندگی بدل رہا ہے اور زندگی میں وقت کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی منزل کی طرف پرواز کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ عام سے اسپیشل تک ہوائی سفر کر رہے ہیں۔باگڈوگرا ہوائی اڈہ شمالی بنگال کے لوگوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
یہ ہوائی اڈہ تجارت، سیاحت، انٹرپرائز وغیرہ جیسے مختلف پہلووں سے بھی بہت اہم ہے۔ ہوائی اڈے سے روزانہ سینکڑوں مسافر سفر کرتے ہیں۔ ریاستیں اور مرکز بھی مل کر اس ہوائی اڈے کی ترقی اور توسیع کے لئے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے پہلے ہی باگڈوگرا ہوائی اڈے کی ترقی اور توسیع کے لئے 800 کروڑ روپئے کی رقم مختص کی ہے۔ مغربی بنگال حکومت باگڈوگرا ہوائی اڈے کی توسیع کے لئے زمین بھی فراہم کرنے جا رہی ہے۔ملی جانکاری کے مطابق اس ماہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی حکومت ہوائی اڈے کی توسیع کے لئے زمین فراہم کرنے جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت زمین کی ملکیت اسی ماہ ایرپورٹ اتھارٹی کے حوالے کردے گی۔ اس کے بعد باگڈوگرا ایرپورٹ کی توسیع شروع ہوگی۔ اس کے ساتھ اس کی جدید کاری بھی تیز رفتاری سے شروع ہو جائے گی۔
ذرائع بتا رہے ہیں کہ مجوزہ نئی ٹرمینل بلڈنگ انٹرنیشنل ٹرمینل بلڈنگ جیسی عمارت ہوگی۔ اس عمارت میں بیک وقت ہزاروں مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی۔ ایسا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یہاں سے مسافر بین الاقوامی پروازیں بھی کر سکیں گے۔ بین الاقوامی مسافروں کے لئے بھی خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔
ذرائع بتا رہے ہیں کہ یہاں بیک وقت 10 طیارے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پارکنگ کا نظام بھی اچھے معیار کا ہونے جا رہا ہے۔اس کے علاوہ باگڈوگرا ایئرپورٹ کی جدید کاری کا حال ایسا ہوگا کہ لوگ دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔ تمام انفراسٹرکچر جیسے ریسٹورنٹ ، فوڈ پارک، کاو¿نٹر، وی آئی پی لاونج، آفس وغیرہ نئے روپ میں نظر آئیں گے۔ جس پر سب کو فخر ہوگا۔
مجموعی طور پر باگڈوگرا ایئر پورٹ بین الاقوامی معیار کا ہوائی اڈہ بن جائے گا، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں باگڈوگرا ایئرپورٹ 11 اپریل سے 25 اپریل تک بند رہے گا۔ اس دوران طیاروں کی نقل و حرکت نہیں ہوگی۔ دراصل اس مدت کے دوران باگڈوگرا ہوائی اڈے کے رن وے کی سطح کا کام کیا جائے گا۔ آخری تہہ میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق یہ سارا کام 26 اپریل تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد طیاروں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں