| خدمت خلق تقرب الی اللہ کا بہترین ذریعہ |
خدمت خلق تقرب الی اللہ کا بہترین ذریعہ
دین صرف چند مراسم عبودیت ادا کردینے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے بندوں کو مشکلات سے نکالنا،ان کے دکھ درد میں کام آنا ،ان کی خدمت کے ذریعہ رب کریم کو خوش کر نا بھی دین کا تقاضا ہے۔ عقائد وعبادات کے ساتھ اسلام نے اخلاق ومعاملات کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اخلاق ہی کا ایک نمایاں پہلو خدمت خلق ہے۔ یہ یاد رہے کہ اخلاق کی پستی انسان کو خدا اور خلق کی محبت سے محروم کردیتی ہے۔مومنین کی ایک اہم صفت یہ ہے کہ ”وہ اللہ تعا لیٰ کی محبت کی وجہ سے مسکین ، یتیم اور قیدی کو کھا نا کھلا تے ہیں۔“
یتیم کی کفا لت کر نے والے کو نبی کی جنت کی رفاقت نصیب ہو گی۔یتیموں کو دھتکارنااور مسکین کو کھا نا نہ کھلانا مشرکین کا عمل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں مختلف پیرایہ میں اس کا ذکر آیا ہے۔ ایک حدیث میں بڑے عجیب انداز میں بھوکے ، پیاسے اور بیمارکا ذکر آیا ہے۔
امام مسلم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :نبی اکرم نے فرما یا قیا مت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا :
اے آدم کے بیٹے!میں بیمارہوا تھا تو تونے میری عیادت نہیں کی۔بندہ کہے گا: میرے اللہ! توتو رب العالمین ہے میں کیسے تیری عیادت کرتا؟ اللہ فرمائے گا :میرا فلاں بندہ بیمار تھا تو تو نے اس کی عیادت نہیں کی۔ اگر تو اس کی مزاج پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔
اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھے کھانے کو دیا تھا لیکن میں بھو کا تھا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔بندہ کہے گا :پرور دگار! تو تو رب العالمین ہے میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا ؟ اللہ فرمائے گا :میرا فلاں بندہ بھوکا تھا، تو نے اس کو کھانا نہیں کھلایا۔ اگر تواسے کھا نا کھلاتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔
اے آدم کے بیٹے ! میں نے تجھے پا نی دیا لیکن میں پیاسا تھا، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا۔بندہ کہے گا: تو رب العالمین ہے میں کیسے تجھے پانی پلاتا ؟اللہ تعالیٰ فرمائے گا :میرا فلاں بندہ پیاسا تھا، اگر تواسے پانی پلا تا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔
کتنے ہی حسین پیرائے میں خدمت خلق کے کام کی عظمت کا احساس دلا یا گیا ہے تاکہ ہم بھی نیکی کے ان کا موں کی طرف راغب ہوں۔یتیموں اور بیواﺅں،فقرا اور مساکین سے اللہ تعالیٰ کو کس قدر محبت ہے اور کن کن طر یقوں سے اللہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔دیکھئے جتنی عبا دات اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرض کی ہیں بالخصوص روزہ ،حج اورعمرہ اورشرعی قسم تو ڑنے کا کفارہ وغیرہ۔ان عبادات میں کسی کمی یا کوتاہی کاازالہ اس جیسی کسی عبادت کے بجا ئے فقرااورمسا کین کی خدمت سے کیا جا تا ہے۔ مثلا کوئی بوڑھا شخص یا کوئی بیمار روزہ نہیں رکھ سکتا تو یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ایک روزے کے بدلے میں کچھ نفل پڑھتا یا قرآن کی تلاو ت کرتا جو خالص اللہ ہی کی عبا دت ہے، لیکن ایسا نہیں، بلکہ اللہ تعا لیٰ فرماتا ہے: روزہ نہیں رکھ سکتے ہو تو ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھا نا کھلاو۔
اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں سردی کی سخت لہریں چل رہی ہیں، بہت سے بیمار، ضعیف العمر، بیوائیں، یتیم اور کتنے ہی سفید پوش ہیں جو سردی سے ٹھٹھر رہے ہیں، جمعیة علمائے ہند کا ایک خادم ہونے کی حیثیت سے اس طرح کی کربناکیوں کا بہت اچھی طرح اندازہ ہے بلکہ کتنے ہی ایسے مواقع ایسے ہیں جہاں لوگوں کی کسمپرسی کا عالم دیکھ کر میرے ضبط کے بندھن ٹوٹ چکے ہیں ایسا ہی کل اس وقت ہوا جب دینی تعلیمی بورڈ جمعیة علمائے کشن گنج کی طرف سے کمبل تقسیم کرتے ہوئے ایک ضعیف العمر بیوہ کے پاس پہنچا ان کی حالت مجھ جیسے غافل لوگوں کے لئے نشان عبرت تھی، ایک گدڑی میں وہ ٹھٹھر رہی تھی اور اپنی حیات مستعار کے دن گن رہی تھی انہیں کمبل اوڑھایا گیا تو ان کی حالت اور بھی دیدنی تھی وہ سوئے سوئے اپنا پلو پساری اور آنچل کو اپنی دعاوں سے زیادہ اشکوں کی لڑیوں سے بھردی کہ رہی تھی بیٹا اللہ تمہیں دنیا جہان کی خوشیاں عطا کرے، تمہاری آنکھوں میں کبھی غم کے آنسو نہ آئے، یہ ان کی دعائیں نہیں بلکہ ان کی فریادیں تھیں جو وہ اپنے رب عرش کریم سے کررہی تھیں جن کی قبولیت پر مجھے کوئی شک نہیں۔
حدیث شریف میں تو مخلوق کو اللہ کا کنبہ کہا گیا ہے اور ان کے ساتھ بھلائی وہمدردی کو محبت الٰہی کے حصول کا ذریعہ بتایا ہے، الخلق عیال اللہ فاحب الخلق الی اللہ من احسن الی عیالہ (مشکوة)یعنی ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اللہ کے نزدیک وہ شخص ہے جو اللہ کی عیال کے ساتھ بھلائی کے ساتھ پیش آئے۔ اس وقت مسلسل حالات کی وجہ سے بہت سے لوگ کئی طرح کی تنگیوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں اس لئے جو لوگ وسعت رکھتے ہیں ان لے لئے تقرب الی اللہ کا بہترین اور آسان ذریعہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے کام آئیں اور ضرورت مندوں کی خبر گیری کریں۔ محمد مناظر نعمانی۔ترجمان وسکریٹری جمعیة علمائے کشن گنج


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں