تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 14 جنوری، 2022

کلیا چک کالج میں یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد

کلیا چک کالج میں یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد
 کلیا چک کالج میں یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد


 کلیا چک کالج میں یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد

اردو زبان کے مستقبل سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ پروفیسر ابن کنول 

    نیوزٹوڈے اردو: مغربی بنگال کے ضلع مالدہ کے کالیا چک کالج میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے’مغربی بنگال میں اردو میڈیم اسکولوں کی صورت حال۔مسائل اور امکانات‘ کے موضوع پر یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔کالج کے پرنسپل ڈاکٹر نجیب الرحمن نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوششوں سے تین برس قبل ہی کالج میں شعبہ اردو کا قیام عمل میں آیا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی یہاں جنرل کورس کے ساتھ ساتھ آنرس کورس بھی شروع کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ سیمینار کے افتتاحی جلسے میں کالج کی ملحقہ یونیورسٹی گوروبنگایونیورسٹی کے مدیر امتحانات نے وائس چانسلر کی نیابت میں شرکت کی اور کئی اہم امور کی جانب توجہ دلائی ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی تمام تر ضرورتوں کو مدنظر رکھیں گے اور جلد ہی بی اے آنرس ان اردو کے لیے راہیں ہموار کی جائیں گی۔ 

کلیا چک کالج میں یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد
 کلیا چک کالج میں یک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد


سیمینار کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر عمر غزالی نے کہا کہ مغربی بنگال میں اردومیڈیم اسکولوں کی صورت حال دوسری ریاستوں سے قدرے بہتر ضرور ہے تاہم ہم سب کو مل کر اپنی اپنی ذمہ داریاں اچھے ڈھنگ سے ادا کرنی چاہیے۔ ہم تمام تر ذمہ داریاں حکومتوں کے سر نہیں ڈال سکتے ۔ اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دینا اور دلانا ہماری اپنی ذمہ داری ہے اور اپنی ضرورتوں سے متعلق حکومت کو آگاہ کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ پہلے تکنیکی اجلاس میں کل آٹھ مقالے پیش کیے جس میں مغربی بنگال کے اسکولوں کی صورت حال اور ان کی ضرورتوں اور مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ مقالہ نگاروں نے اردو اسکولوں ، اردو نصاب، اردو ٹیچرس ٹریننگ کالجوں کے سلسلے میں تفصیل سے گفتگو کی۔اس سیشن میں ڈاکٹر تسلیم عارف، ڈاکٹر رضی شہاب، ڈاکٹر عبدالواحد مخلص، طارق عزیز ، جناب نورالہدی وغیرہ نے اپنے مقالے پیش کیے۔


 ڈاکٹر عزیر احمد نے اس سیشن کی نظامت فرمائی اور دوران گفتگو کئی اہم مسئلوں کی جانب توجہ دلائی۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے سیمینار کا ایک سیشن آن لائن بھی رکھا گیا تھا جس میں کئی اہم مقالہ نگاروں نے شرکت کی۔ اس محفل کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر ابن کنول نے انجام دی ۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمیں اردو کے مستقبل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بس ہمیں اپنے طور پر لوگوں کو اردو پڑھنے کی جانب راغب کرنا چاہیے۔ اردو اخبار، اردو رسالے اور کتابیں خریدنے اور پڑھنے کی طرف نئی نسل کو راغب کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر پڑھنے والے نہیں رہیں تو ہمارا عظیم سرمایہ جو کتابوں کی صورت میں موجود ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ پروفیسر فاروق انصاری نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے اردو اسکولوں کی قومی سطح پر موجودہ صورت حال اور مسائل کی تفصیل پیش کی ۔


 انہوں نے آج کے حالات میں اردو اساتذہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں ہے اس لیے ان کو اپنی ذمے داریوں کو پورے طور پر ادا کرنا چاہئے۔پروفیسرمحمد کاظم، شعبہ اردو دہلی یونی ورسٹی نے اپنے خطاب مغربی بنگال کے اردو میڈیم اسکولوں کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ میں نے خود مغربی بنگال کے اردو میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ یہاں پر اردو میڈیم اسکولوں کی حالت ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں قدرے بہتر ہے۔ اس اجلاس میں چند غیر ملکی مقالہ نگاروں نے بھی شرکت کی ۔محمد صابر گودڑ سابق صدر مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ موریشس نے پوریشس کے اسکولوں میں اردو کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے موریشس میں اردو کے بجائے عربی کے انتخاب کارجحان بڑھا ہے جس وجہ سے اردو کی تعلیم پر فرق آیا ہے۔


 عین شمس یونی ورسٹی قاہرہ سے تعلق رکھنے والی ولا جمال العسیلی نے مصر میں اردو کی تعلیم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برصغیر کے بعد اردو کا سب سے بڑا مرکز مصر بن گیا ہے۔ یہاں کی مادری زبان اردو نہ ہوتے ہوئے بھی لوگ اردو سیکھنا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر فرزانہ لطفی ، اسسٹنٹ پروفیسر تہران یونی ورسٹی ایران نے ایران میں اردو تعلیم کی صورت حال پر روشنی ڈالی۔ تمنا نسیم اور ڈاکٹر محمد شہنواز عالم نے بھی اس آن لائن نشست میں اپنے مقالے پیش کیے ۔اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر رضی شہاب نے شکریے کی رسم پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر مجتبی جمال نے ادا کی۔ اجلاس میں کووڈ سے متعلق حکومت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر کو دھیان میں رکھ کر طلبہ ، اساتذہ اور مہمانان نے شرکت کی ۔ سیمینار کو آف لائن کے ساتھ ساتھ گوگل میٹ پرآن لائن موڈ میں نشر کیا گیا۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad