| جلپائی گوڑی ٹرین حادثہ میں 9لوگوں کی موت اور 40 سے زائد لوگ زخمی |
جلپائی گوڑی ٹرین حادثہ میں 9لوگوں کی موت اور 40 سے زائد لوگ زخمی
وزیرریل اشونی ویشنونے جائے حادثہ کادورہ کرکے زخمیوں سے کی ملاقات
ریلوے کی جانب سے مرنے والوں اور زخمیوں کے لئے معاوضے کا اعلان،یہ ٹرین حادثہ کیوں پیش آیا؟تفتیش جاری
نیوزٹوڈے اردو:جلپائی گوڑی ضلع کے میناگوڑی اور دوموہانی کے درمیان گزشتہ کل شام 5 بجے پیش آنے والا ٹرین حادثہ سرخیوں میں ہے، جس میں 9 لوگوں کی موت اور 40 سے زیادہ لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ ریلوے کی جانب سے مرنے والوں اور زخمیوں کے لئے معاوضے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ مرنے والوں کے لواحقین کو 500000 روپئے دئے جائیں گے، جب کہ بری طرح زخمی ہونے والوں کو 100000 روپئے اور معمولی زخمی ہونے والوں کو 25000 روپئے دئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جلپائی گوڑی میں خوفناک ٹرین حادثہ، گواہاٹی بیکانیر اکسپریس کی 12 بوگیاں پٹری سے اتریں
صدرجمہوریہ، وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ،وزراءاور سیاسی وسماجی لیڈران سبھی نے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔سلی گوڑی سے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سابق وزیر سیاحت گوتم دیب اور دیگر لیڈران بھی موقع پر پہنچ گئے اور اپنی سطح پر انتظامات کئے تاکہ زخمیوں کا اچھا علاج کیا جاسکے۔ آج ترنمول کانگریس اور دیگر سماجی تنظیموں کے لوگوں نے زخمیوں کے علاج کے لئے خون کی ضرورت کے پیش نظر خون عطیہ کیمپ بھی منعقد کیا ہے تاکہ کسی زخمی کی خون کی کمی کی وجہ سے موت نہ ہو۔
سلی گوڑی اور شمالی بنگال کی کئی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور لیڈروں نے انسانیت کی مکمل مثال پیش کی ہے۔اب بات کرتے ہیں کہ یہ ٹرین حادثہ کیسے ہوا؟ سمجھا جاتا ہے کہ پہلے گیسل ٹرین حادثے کے بعد اس نوعیت کا ایک اور بڑا حادثہ ہوا ہے۔ ہر حادثے کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ یہ واقعہ دوموہنی اسٹیشن کے قریب شام 4بجکر 45منٹ پر اس وقت پیش آیا جب بیکانیر ایکسپریس 40 کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پٹریوں سے گزر رہی تھی۔ اس حادثے میں ٹرین کی 12 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ یقیناً اس وقت ٹرین کی رفتارتیز ہوگی۔ یہ بات عینی شاہدین کے بیانات سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
جائے وقوع سے جو تصویریں سامنے آئی ہےں اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حادثے کے وقت ٹرین کی رفتار تیز ہو گی۔کیونکہ حادثے میں چار سے پانچ بوگیاں بری طرح تباہ ہو گئیں۔یہ ممکنہ طور پر پہلا ٹرین حادثہ ہو گا، جہاں حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور ریلیف آپریشن جنگی بنیادوں پر شروع کر دیا گیا تھا۔ اطلاع ملتے ہی ریلوے، بی ایس ایف، مقامی ڈیزاسٹر ڈپارٹمنٹ، پولس اور انتظامیہ کے سبھی بڑے افسران، مقامی لوگ موقع پر پہنچ گئے۔
واقعہ کی تحقیقات کے لئے اعلیٰ سطح کے سیفٹی افسر بھی موقع پر پہنچ گئے اور تحقیقات شروع کردی۔ابتدائی طور پر بتایا جا رہا تھا کہ ٹرین حادثے کے پیچھے ٹریک کا مسئلہ ہو گا۔
آج وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے واضح کیا کہ ٹریک کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا ہے کہ اس کی سبھی زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہیں اور جب تک تحقیقات کا نتیجہ سامنے نہیں آتا، ٹرین حادثے کے بارے میں کچھ بتانا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تفتیش صحیح طریقے سے جاری ہے۔ جلد نتیجہ سامنے آئے گا۔ ٹرین حادثے کے کچھ ہی دیر بعد یہ افواہ بھی پھیل گئی کہ اس واقعے کے پیچھے کوئی دھماکہ بھی ہوسکتاہے لیکن وزیر ریلوے نے اس کی تردید کی اور انہوں نے تمام سوالوں کا ایک ہی جواب دیا کہ جب تک تحقیقات کا کام مکمل نہیں ہوتا اس بارے میں کچھ بتانا مناسب نہیں۔
حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پہلی بار کوئی ریلوے وزیر موقع پر پہنچ گیا اور خود واقعہ کا معائنہ کیا۔12 گھنٹے سے بھی کم وقت میں ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو دہلی سے چل کر موقع پر پہنچ گئے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریلوے حکام زخمیوں کو دیکھنے اسپتال پہنچے۔ آج وہ نارتھ بنگال میڈیکل کالج واسپتال گئے اور زخمیوں سے ملاقات کی اور ان کا حال دریافت کیا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ٹرین حادثہ کیسے پیش آیا۔
ابتدائی انکوائری حتمی رپورٹ نہیں ہے۔ ایک دو دن میں لوگوں کے درمیان باضابطہ معلومات ضرور آئیں گی لیکن اس ٹرین حادثے نے ریلوے اور پولس کے افسران، انتظامیہ، سماجی تنظیموں کے لوگوں، شہریوں اور رہنماوں کی انسانیت اور ذمہ داری کا نشان ضرور پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرین حادثے میں جان و مال کا زیادہ نقصان نہیںہوا ہے۔ راحت اور بچاو کا کام صرف 12 گھنٹے میں مکمل کر لیا گیا۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں