| جلپائی گوڑی میں خوفناک ٹرین حادثہ، بیکانیر۔گواہاٹی ایکسپریس کی 12بوگیاں پٹری سے اتریں ، کئی لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ |
جلپائی گوڑی میں خوفناک ٹرین حادثہ، بیکانیر۔گواہاٹی ایکسپریس کی 12بوگیاں پٹری سے اتریں ، کئی لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ
نیوزٹوڈے اردو:مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلع کے تحت میناگوڑی علاقے میں ایک بڑا ٹرین حادثہ پیش آیا ہے۔ بیکانیر۔گوہاٹی ایکسپریس آج شام تقریباً 5 بجے دوموہانی علاقے میں پٹری سے اتر گئی۔ اس میں کم از کم 50 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم اس بارے میں ریلوے کی جانب سے ابھی تک سرکاری اعداد و شمار نہیں دئے گئے ہیں۔ حادثے کے وقت ٹرین کی رفتار تقریباً 40 کیلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ انجن سمیت پانچ بوگیاں تیز رفتاری سے پٹری سے اتر گئیں جس کی وجہ سے کم از کم تین بوگیاں الٹ گئیں۔
| جلپائی گوڑی میں خوفناک ٹرین حادثہ، بیکانیر۔گواہاٹی ایکسپریس کی 12بوگیاں پٹری سے اتریں ، کئی لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ |
اس حادثہ میں کل 12بوگیاں متاثر ہوئی ہیں۔شام 6بجے تک جلپائی گوڑی ضلع کے ڈی ایم کے ذریعہ دئے گئے بیان کے مطابق اس حادثے میں 3لوگوں کی موت ہونے جبکہ20لوگوںکے بری طرح زخمی ہونے خبر تھی۔یہ حادثہ کتنا بھیانک ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ڈبہ پر دوسرا ڈبہ اتنی تیز رفتاری سے چڑھا اورڈبے کو نیچے دبادیا جس سے نیچے والاڈبہ مکمل طور پرتباہ ہوگیا۔ اطلاع ملنے کے فوراً بعد ریلوے حکام کی ٹیم، ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF)، گورنمنٹ ریلوے پولس (GRP) اور مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیم راحت اور بچاو کے کاموں میں لگ گئی۔
| جلپائی گوڑی میں خوفناک ٹرین حادثہ، بیکانیر۔گواہاٹی ایکسپریس کی 12بوگیاں پٹری سے اتریں ، کئی لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ |
مقامی لوگ بھی مددگار بن گئے ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ حادثہ کس وجہ سے پیش آیا۔ریلوے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ حادثے کے پیچھے سازش کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے پہلے ٹرین کا انجن الٹا ہے، تواس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ریلوے ٹریک کے کہیں سے ٹوٹنے یا کوئی فنی خرابی ہونے کاامکان ہے۔اس کی تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ فی الحال مرنے والوں اور زخمیوں کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔زخمیوںکا علاج جلپائی گوڑی ضلع اسپتال میںکیاجارہا ہے۔
| جلپائی گوڑی میں خوفناک ٹرین حادثہ، بیکانیر۔گواہاٹی ایکسپریس کی 12بوگیاں پٹری سے اتریں ، کئی لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ |
ملی جانکاری کے مطابق دہلی سے بھی ریلوے کے اعلیٰ افسران جائے حادثہ کے لئے روانہ ہوچکے ہیں۔ ادھرمغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی بھی اس حادثے پر نظر رکھی ہوئی ہیں۔وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے پورے معاملے کی گہری نگرانی اور زخمیوں کے علاج اور راحت رسانی کی ہدایت دی ہے۔ وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے محکمہ ریلوے کے افسران اور جلپائی گوڑی سینئر ترنمول لیڈران کو ہدایت دیتے ہوئے کہاکہ جائے حادثہ پر پہنچ کر حالات کی جانکاری لیں اور زخمیوں کی مدد کریں۔اس ٹرین حادثہ سے پورے ملک میں گہماگہمی کاماحول ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی نے باضاطہ طورپر مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی سے میناگوڑی کے دوموہانی ٹرین حادثہ کے سلسلے میں بات چیت کی ہے اور جانچ کی ہدایت دی۔ملی جانکاری کے مطابق بیکانیر۔گواہاٹی اکسپریس راجستھان سے 1100مسافروںکولیکر چلی تھی ،جس میں 700راجستھان کے ہی رہنے والے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں