| پانچ ریاستی اسمبلیوں کے لئے انتخابی پروگرام کا اعلان |
پانچ ریاستی اسمبلیوں کے لئے انتخابی پروگرام کا اعلان
یوپی میں آدتیہ ناتھ کو سب سے بڑا چیلنج
یوپی میں مسلم ووٹروں کا رول اہم
الیکشن کمیشن نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا ۔ اُتر پردیش اسمبلی کے انتخابات 10؍فروری تا 7؍مارچ سات مرحلوں میں ہوں گے ۔ ووٹوں کی گنتی 10؍مارچ کو ہوگی ۔ منی پور میں دو مرحلوں میں اور پنجاب اُترا کھنڈ اور گوا میں ایک مرحلہ میں انتخابات انجام پائیں گے۔ سوائے پنجاب کے جہاں کانگریس برسر اقتدار ہے باقیماندہ ساری ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ پانچوں ریاستوں میں 15 جنوری تک تمام ریلیوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق 15 جنوری تک روڈ شو ، پدیاترا ، سائیکل ، بائیک اور گاڑی پر مشتمل ریلیوں اور جلوسوں پر پابندی لگادی گئی ہے۔ نُکّر میٹنگوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ رات 8 بجے سے صبح 8؍ بجے تک کسی قسم کی انتخابی مہم کی اجازت نہیں ہوگی۔ پانچ ریاستوں میں کُل 690سیٹوں کے لئے ووٹروں کی مجموعی تعداد 18؍کروڑ 3لاکھ ہے۔ پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد 215368ہے۔ خواتین ووٹروں کی تعداد 8.5 کروڑ ہے جبکہ 24.9لاکھ افراد پہلی مرتبہ ووٹ دینے کے اہل ہوں گے ۔ کووڈ مریض ، 80سال سے زیادہ عمر کے لوگ اور معذور افراد ڈاک کے ذریعہ ووٹ دے سکیں گے۔ سب سے زیادہ اہمیت اُتر پردیش کے انتخابات کی ہے۔ 1985 کے بعد کوئی بھی پارٹی دوبارہ اقتدار پر قبضہ نہیں جماسکی ہے۔ اگر اس انتخابات میں بی جے پی کامیاب ہوگئی تو 2024کے لوک سبھا انتخابات کے لئے اس کی اُمیدیں مہیمز ہوجائیں گی لیکن اُتر پردیش میں بی جے پی اتنی آسانی سے کامیاب نہیں ہو پائے گی کیونکہ اسکی حریف پارٹیاں بھی ہر طرح سے تیار ہیں۔
بی جے پی کا سب سے بڑا ہتھیار ہندتو ہے لیکن یہ غیر یادو دیگر پچھڑی ہوئی ذاتوں اور غیر جاٹ دلتوں کو بھی لے کر چلنے کی کوشش کرے گی۔ کسی قسم کی بدعنوانی سے پاک یوگی آدتیہ ناتھ کا چہرہ بی جے پی کے لئے فائدہ کاموجب ہوسکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس عرصہ میں عام لوگ بی جے پی سے بڑی حد تک اُکتا گئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور اُن کے چچا شیو پال نے اپنے اختلافات مٹا لئے ہیں،بہو جن سماج پارٹی ا ور کانگریس کے بہت سے لیڈروں نے سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیاہے اور اُوپی راج بھر کی SBSPاور جینت چودھری کی RLDسے سماجوادی پارٹی کا اتحاد قائم ہوگیا ہے ، اس کے باوجود سماجوادی پارٹی کی جیت کے لئے ضروری ہے کہ عوام بی جے پی سے بیزاری کا اظہار کریں اور مسلمانوں کے سارے ووٹ سماجوادی پارٹی کی جھولی میں پڑیں۔ مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی روبہ زوال ہے اور 2012کے بعد اس کی مقبولیت کو گہن لگ گیا ہے تاہم وہ دلتوں اور برہمنوں کو ملاکر سر ابھارنے کی کوشش کرے گی۔
کانگریس کو 2017 کے اسمبلی انتخابات میں صرف 7؍ سیٹیں ملی تھیں۔ جنرل سکریٹری پرنیکا گاندھی نے اس بار بہت زور لگایا ہے اور ساری ریاست میں گھوم کر وہ پارٹی کو سرگرم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ عورتوں کو 40فی صد ٹکٹ دینے کا اُنہوںنے وعدہ کیا ہے۔ ان حالات میں اس کی مقبولیت کے گراف میں اضافہ ہونا ضروری ہے۔ اُتر پردیش اسمبلی انتخاب ان معنوں میں وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کے لئے اہم ہے کیونکہ بی جے پی کی کامیابی زعفرانی میدان میں اُن کے وجود کی برقراری کی ضمانت ہوگی۔ وزیر اعلیٰ کے لئے یہ ایک ذاتی چیلنج بھی ہے کیونکہ 1985 کے بعد کبھی کوئی وزیر اعلیٰ دوبارہ نہیں منتخب ہوسکا۔
اُتر پردیش کے انتخابات عام آدمی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے عزائم کے لئے بھی امتحان کا باعث ہوں گے جو دہلی اور بنگال سے باہر اپنے نقوش جمانے کی کوشش کررہی ہیں۔ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کے لئے یہ دوسرا موقع ہے جہاں اس کی مقبولیت عروج پر ہے۔ ترنمول کانگریس ، کانگریس اور بی جے پی دونوں کو نشانہ بنائے گی کیونکہ اس کی نظریں اپوزیشن کی لیڈر شپ پر ہیں۔ پنجاب میں شورش سے کانگریس پر دبائو بڑھ گیاہے۔ اس کے لئے پنجاب اور اُتراکھنڈ میں دوبارہ اقتدار میں آنا اوردیگر ریاستوں میں مستحکم ہوکر ابھرنا ضروری ہے ۔ یوپی کی فرقہ وارانہ جنگ میں مسلمانوں کا ووٹ اہم رول اداکرسکتاہے۔
٭٭٭


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں