تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 7 فروری، 2022

باغ ہند کی بہار:”سلطان الہند سیدنا خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ“

باغ ہند کی بہار:”سلطان الہند سیدنا خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ“
 باغ ہند کی بہار:”سلطان الہند سیدنا خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ“


 باغ ہند کی بہار:”سلطان الہند سیدنا خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ“

     آج سے آٹھ صدی پہلے کی بات ہے کہ غیر منقسم ہندوستان میں کفر و ظلمت ظلم و انصافی جرائم و بدکرداری سے انسانیت کراہ رہی تھی‘وحشت و بربریت نخوت و غرور کی مسموم فضا قائم تھی عناصر اربعہ اس پر مستزاد خود ساختہ اصنام شمس و قمر اور اپنے محور ومرکز پر گردش کرتے ہوئے سیاروں کی پرستش کی جارہی تھی ۔معبود برحق صانع عالم خالق کائنات عزوجل کی معرفت کا شراب پلانے والے کامل ساقی کا دور دور تک سایہ نظر نہیں آتا تھا اگر چہ اسلام کی آمد ابتدائی دور ہی میں ہو چکی تھی لیکن کلمہ پڑھنے والے فرزندان توحید کا وجود بہت مختصر تھا شاذ ونادر تھے۔

    زمین ہند تڑپ رہی تھی کہ کوئی ایسا کامل ہادی مبلغ و مصلح ہو کہ ان کے قدموں کو بوسہ دوں اور ان کے دم قدم سے مجھے اور میرے ساکنان کے کرب کا ازالہ ہو اور سیرابی ملے ۔اسی پرفتن ماحول میں اجمیر کو معلیٰ اور پورے ہند کو مصفیٰ انسانی قلوب کو مزکیٰ فرمانے کے لئے اجمیر کی دھرتی پر ایک درویش کامل قدم رنجا ہوئے۔

    ہمراہ صوفی وصافی کی ایک مختصر سی جماعت بھی تھی بعض بزرگوں نے صراحت کی ہے کہ وہ چالیس تھے۔

    بہر حال اس صحرا نورد جماعت کے حوالے سے مورخین نے تصویر کشی کی ہے کہ ان کے ہاتھوں میں تسبیح کے دانے اور سینوں میں قرآن سروں پر عمامہ چہروں پر مکی مدنی غازہ جبین ناز پر تجلیات ربانی کے جلوے آنکھوں میں خاک مدینہ کا سرمہ لسان وقلب سے اللہ اللہ کی صدائے دل آویز مصطفائی کردار اور حال یہ تھا کہ جدھر چل دیے نور ہدایت کا چشمہ پھوٹ رہا ہے لگتا ہے بہاریں اتر آئیں ہیں زمین ہند اپنی قسمت پر نازاں اپنی تمناوں کے برآنے پر رقصاں ہیں مرجھائے ہوئے قلوب اور صحرا وبیاباں کی مرجھائی پتیاں خوشی کے گل بوٹے کھلارہی ہیں

     اس لئے بھی کہ زمین ہند کو وہ شرف حاصل ہے جو کسی اور کو نہیں بقول ڈاکٹر اقبال 

                            میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے

 ماشاءاللہ اس کے آغوش میں توحید ورسالت کی صدائیں بلند کرنے والی ایک مبارک جماعت سحاب رحمت بن کر آباد ہوچکی ہے فلک بوس پہاڑوں کے دامن میں آباد شہر اجمیر نازاں ہے کہ تاریک شہر مضطرب روح مردہ انسانیت کو زندگی اور ایمان واخلاص محبت و پیار کی سوغات عطا کرنے والے سلطان الہند عطائے رسول سیدنا خواجہ معین الدین چشتی کی قیادت میں ایک فرشتہ صفت گروہ اجمیر معلیٰ کے دامن میں طلوع ہوچکا ہے۔

    تاریخی روایت کے مطابق آنے والی جماعت نے اناساگر کے قریب ایک درخت کے سایہ میں پڑاو ڈالا یہ خبر پرتھوی راج چوہان اور کفروشرک کے سرغناوں تک پہونچی ان تمام پر ان کا قیام ناگوار گذرا چوہان کے نوکر نے کہا یہاں راجہ کے اونٹ بیٹھا کرتے ہیں لہذا یہاں سے رفع ہو جاو نووارد جماعت اور ہم سب کے سلطان خواجہ نے کہا اب یہاں راجہ کے اونٹ ہی بیٹھیں گے یہ کہ کر راہ دیگر کی جانب اپنے قدموں کو بڑھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے نگاہوں سے اوجھل ہوگیے اب اونٹ بیٹھے تو بیٹھے رہ گیے ہزار جتن کوشش کے باوجود اونٹ کھڑے نہ ہوسکے لوگ تھک ہار کر خواجہ کی تلاش میں نکل پڑے ملاقات ہوئی اور راجہ معذرت خواہ ہوا خواجہ نے اس کی منت وسماجت فریاد پر معاف کر دیا معاف کرتے ہی اونٹ کھڑے ہوگئے

                     دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

                     پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے 

       اب کیا تھا پورے شہر میں بجلی بن کر یہ خبر نشرہوگئی لوگ ذوق وشوق کے ساتھ آپ کے دامن عقیدت سے منسلک ہونے لگے راجہ اپنے نفرتی جذبات پر بے قابو ہوگیا اور اپنے تمام حمایتی شعبدہ باز جادوگر کو لیکر بارگاہ خواجہ میں پہونچ گیا اور چیلینج کر بیٹھا لیکن کہتے ہیں نا کہ راجہ تو میرے خواجہ ہیں۔

    خواجہ نے ان تمام شعبدہ باز جادو گروں چاند وسورج اور گوبر پرستوں کے نخوت وتکبر کو تار عنکبوت کی طرح بکھیر دیا اور جاہلانہ رسم ورواج کفر و شرک اور ظلم و جبر کی آماجگاہ اور نفرت کی زمین پر اپنے اخلاق اور نبوی کردار سے محبت کی کاشت کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ایسا انقلاب آیا کہ پرتھوی راج جے پال جوگی رام دیو جیسے مشہور زمانہ کفار عرفان الٰہی اور دولت ایمان سے محظوظ ہوئے علمائ مورخین لکھتے ہیں کہ آنے والے درویش ہمارے خواجہ کی زبان میں وہ سحر بیانی تھی اور وہ ہنر تھا کہ بغیر کسی اسلحہ تلوار و ہتھیار کے لوگ آپ سے متاثر ہوکر داخل اسلام ہوتے چلے گیے یہی وجہ ہے کہ آج آٹھ صدیاں گذرجانے کے بعد بھی بلا تفریق مذہب وملت آپ سب کے دلوں میں زندہ ہیں اور پہاڑوں کے دامن میں بسا ہوا شہر اجمیر نعمتوں کا خزانہ غریبوں سائلوں کا ٹھکانہ بن گیا ہے وہاں کی خوبصورت جھیلیں ندیاں پہاڑیاں قدرت کے انمول نظارے پیش کررہے ہیں اور آج شہر اجمیر تصوف و روحانیت کا عظیم راجدھانی بن چکا ہے میرے خواجہ کا آستانہ ہندو مسلم سکھ عیسائی ہر قسم کی ذات و برادری کا مرجع ہے ۔قارئین: آئیے میں خواجہ غریب نواز کی زندگی کا مختصر اجمالی خاکہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں 

    آپ 537 ہجری بہ مطابق 1142 عیسوی کو ایران کے علاقہ سیستان گاوں سجز میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام حضرت خواجہ سید غیاث الدین حسن اور والدہ کانام بی بی ام الورع نور تھا والدین بڑے نیک تھے والدین کی طرف سے آپ نجیب الطرفین سید ہیں ۔

    آپ کا خاندان شریف اور اہل ثروت میں سے تھا پندرہ15سال کی عمر میں 551ھ کو والد کا انتقال ہوگیا اور ابھی ایک سال بھی نہیں گذر پایا تھا کہ والدہ مشفقہ بھی خالق کائنات کو پیاری ہوگئیں ۔

    ایک باغ اور آٹا پیسنے کی چکی آپ کو وراثت میں ملی حصول علم کا شوق تھے اور آپ اسی راہ کے مسافر تھے لیکن والدین کے انتقال کے بعد شدت غم اور باغبانی کی مشغولیات نے تعلیمی سلسلہ منقطع کردیا تھا ایک دن آپ باغبانی میں مصروف تھے کہ ایک مشہور صوفی بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی علیہ الرحمہ کا باغ کی جانب سے گذر ہوا آپ نے جوش محبت اور وفور عقیدت میں تیز قدموں سے اس بزرگ کے قریب پہونچ کر ان کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور انگور کا ایک تازہ خوشہ ان کی خدمت میں پیش کیا حضرت قندوزی علیہ الرحمہ نے متاثر ہوکر اپنے جیب سے ایک خشک روٹی کا ٹکڑا نکالا اور خواجہ کے دہن میں ڈال دیا چبانا ہی تھا کہ دل کی دنیا بدل گئی نورانیت اور روحانیت ٹھاٹھیں مارنے لگی اب کیا تھا اپنا سارا اثاثہ فروخت کرکے غریبوں یتیموں میں تقسیم فرمادیا اور راہ علم و سلوک میں نکل پڑےبخارا پہونچے 

    حضرت شیخ حسام الدین علیہ الرحمہ کی درسگاہ سے علوم عقلیہ ونقلیہ کی فراغت حاصل کی اور نیشاپور جاکر حضرت سیدنا خواجہ عثمان ہارونی رضی تعالیٰ عنہ کے دامن ارادت میں آگیے ایک عرصہ تک پیرومرشد کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے اور مرشد ہی کی معیت میں حج بیت بھی ادا کئے مرشد برحق نے دعائیں کی اور مرشد کی دعائیں مستجاب بارگاہ الٰہی ہوئیں

     اور انعام یہ ملا کہ عالم رویا میں سرکار کائنات ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی حضور رحمت عالم ﷺ نے ہندوستان کی جانب رہنمائی فرمائی ۔”اے معین الدین تو میرے دین کا معین ہے میں نے تجھے ہندوستان کی ولایت عطا کی وہاں کفر کی ظلمت پھیلی ہوئی ہے تو اجمیر جا تیرے وجود سے کفر کا اندھیرا دور ہوگا اور اسلام کا نور ہر سو پھیلے گا (سیر الاقطاب )اور آپ علیہ الرحمہ سلطان الہند‘عطائے رسول‘غریب نواز‘ ٹھرے‘ ولایت وقطبیت عظمیٰ کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے“

    بارگاہ رسالت مآب ﷺ سے اجازت ملتے ہی 586ھ کو غیر منقسم بھارت کی جانب عازم سفر ہوئے مختلف دیار وامصار خانقاہوں آستانوں اور علمی روحانی مراکز سے ہوتے ہوئے لاہور حضرت داتاگنج بخش لاہوری علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے چلہ فرمایا مراقبہ ریاضت کیے اور یہ کہتے ہوئے لوٹے 

                        گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا

                        ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما

    پھر ملتان میں ۵سال تک قیام رہا ملتان کے بعد دہلی قیام پذیر ہوئے دہلی کی روحانی سلطنت کے منصب پر اپنے خلیفہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کو بٹھایا پھر 1191/587ء میں اجمیر معلیٰ کو اپنا مسکن بنایا اور سلسلہ چشتیہ تصوف و روحانیت کا عظیم مرکز بنایا اور وہیں سے ہر چہار سو اسلام و حقانیت کی شعائیں نشر ہونے لگی انسانیت کی صلاح وفلاح کی غرض سے کتابیں تحریر فرمائیں آپ کی تصنیفات میں انیس الارواح‘ گنج الاسرار‘ کشف الاسرار مشہور ہیں۔

    بالآخر آپ علیہ الرحمہ خدمت خلق کرتے کرتے۶ رجب المرجب 633ھ بہ مطابق 16مارچ1236ءکو عبادت کرتے کرتے اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔

    محقق علی الاطلاق حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی روایت کے مطابق انتقال کے بعد جبین ناز پر موٹے موٹے حروف میں یہ کلمات لکھے تھے 

    ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ 

    سبحان اللہ کیا شان تھی میرے خواجہ سلطان الہند کی مولیٰ ان کے غلاموں میں قبول فرمائے 

    قارئین: باغ ہند میں جو بہار آپ دیکھ رہے ہیں یہ سیکڑوں ہزاروں اولیاءکے دم قدم سے ہے لیکن ان تمام میں سرکارِ خواجہ غریب نواز کو سلطان ہونے کا شرف حاصل ہے اور ان کی ذات نمایاں ہے آج ان ہی کا فیضان اور رہین منت ہے کہ یہ جمہوری نظام قائم ہے اور ان کی چوکھٹ سے تمام ادیان وملل کے لوگوں کی وابستگی ہے اور ہر سائل کی تمنائیں ان کی بارگاہ میں باذن الٰہی برآتی ہیں ۔

    مجدد اعظم امام احمد رضا علیہ الرحمہ کے بقول دعاوں کی قبولیت کے لئے خواجہ کی بارگاہ معتبر بھی ہے اور معتمد بھی ہے دعاوں کی قبولیت کے مقامات میں سے ایک مقام بارگاہ غریب نواز ہے ۔

    استاذ زمن علامہ حسن رضا بریلوی علیہ الرحمہ کی زبان میں 

                خواجہ ہند ہے وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

                کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا

    حضور محدث اعظم ہند علامہ سید محمد اشرفی کچھوچھوی علیہ الرحمہ کی زبان میں 

                غریب آئے ہیں درپر تیرے غریب نواز

                کرو غریب نوازی میرے غریب نواز

    یقینا سرکار غریب نواز ہند کے سلطان عطائے رسول اور غریب نواز ہیں ہندوستان کے شرق وغرب میں آپ کا خصوصی فیضان جاری ہے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب اور آپسی محبت و بھائی چارہ کے آپ بانی ہیں اور آج بھی آپ کا آستانہ آپسی محبت و خیر سگالی کا پیغام دے رہا ہے آپ کی تعلیمات و ارشادات میں نفرت اور بغض و عداوت کا دور دور تک کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔

    ان کے عرس کے پرنور موقع سے ہم سب بھارت کے رہنے والوں کو ان کی تعلیمات کو اپنانے کا عزم کرنا چاہئیے اور ہماری نجات دنیوی و اخروی کا انحصار بھی قرآن وحدیث کے ساتھ ساتھ بزرگوں اولیا صوفیا کی تعلیمات پر عمل کرنے ہی میں ہے ۔اللہ جل شانہ ان کے درجات کو فزوں کرے ہم سب کو ان کے روحانی فیضان سے نوازے ہماری عقیدت کا رشتہ مستحکم فرمائے اور وطن عزیز سے بدامنی اسلام دشمنی ذات برادری کی تمام عصبیتوں کا خاتمہ فرمائے مسلمانوں کو قوت یقین وعمل اور حوصلہ بخشے ہمارے ملک کو شرپسند عناصر سے بچائے ۔

    آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ 

    (مفتی ) محمد صابر رضا محب القادری نعیمی کشن گنجوی سورجاپور اتردیناجپور بنگال


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad