| 3 فروری سے بنگال کے سبھی اسکول اور کالج کھل رہے ہیں |
بنگال کے سبھی اسکول اور کالج 3 فروری سے کھل رہے ہیں
نیوزٹوڈے اردو:بالآخر مغربی بنگال حکومت اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاست بھر میں طلبہ وطالبات ، والدین اور دیگر سماجی تنظیموں اور کلکتہ ہائی کورٹ کی طرف سے اس معاملے میں براہ راست مداخلت کرنے کے دباو¿ میں اضافے کے بعد ریاست میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھولنے کا اعلان کردیا۔
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ 3 فروری سے ریاست میں کالج، یونیورسٹیاں سبھی کھل جائیں گی۔اسکولوں کے بارے میں وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے کہا کہ آٹھویں سے بارہویں جماعت تک اسکول کھولے جائیں گے۔ اسکول انتظامیہ کو کووڈ-19 کے طریقہ کار پر چلنا پڑے گا۔واضح رہے کہ کچھ عرصے سے مختلف تنظیموں کی جانب سے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک ہر کونے سے اسکول کالج کھولنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ریاست کے یہاں تک کہ کئی سیاسی جماعتیں حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہی تھیں۔اسکول کالج کھولنے کے لئے مختلف علاقوں میں مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے پروگرام کئے گئے اور جب کلکتہ ہائی کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے جواب طلب کیاتو جواب میں حکومت نے کہا تھا کہ اس تناظر میں ایک ہفتے کے اندر فیصلہ کر لیا جائے گا، تب سے ایسا لگ رہا تھا کہ حکومت ریاست میں بند اسکول اور کالج کھولنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ لے سکتی ہے۔ 2 دن قبل ایک خبر شائع کی تھی۔ اس تناظر میں جس میں فروری میں اسکول کالج کھولنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ مختلف میڈیا ذرائع سے یہ خبر عام ہوئی تھی۔
آخرکار وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ریاست میں بند اسکولوں اور کالجوں کو کھولنے کا فیصلہ کیاہے۔ ان کے اس فیصلے کے بعد سلی گوڑی سمیت پورے بنگال میں طلبہ اور والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس کے ساتھ اساتذہ تنظیم اور اسکولوں کے پرنسپل بھی کافی خوش ہیں۔ وہ اللہ سے دعاگو ہیں کہ اب ان کے اسکول کو مستقبل میں ایسے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق وزیراعلیٰ ممتابنرجی نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی تھی جس میں وزیرعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ آٹھویں سے دسویں جماعت تک کی کلاسیں 3 فروری سے شروع ہوں گی، جب کہ پولی ٹیکنک، یونیورسٹی، کالج اور آئی ٹی آئی ادارے بھی 3 فروری سے کھلیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اسکول اور کالج 4 اور 5 تاریخ کو سرسوتی پوجا کے لئے بند رہیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ تقریباً تمام تعلیمی اداروں میں سرسوتی پوجا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ فی الحال چھوٹے بچوں کے لئے پرائمری اسکول کھولنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس وقت اول تا پنجم جماعت کے بچے محلہ پاٹھ شالہ میں تعلیم حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر علاقے میں جگہوں کا انتخاب کیا جائے گا جہاں عارضی بنیادوں پر کلاسز کا انعقاد کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ کورونا کی وجہ سے مغربی بنگال میں تعلیمی اداروں کی بندش کے خلاف مسلسل مظاہرے ہو رہے تھے۔ کئی طلبہ تنظیموں نے متحد ہو کر ہنگامہ اور احتجاج کیا۔ پیر کو بھی ایس ایف آئی کے طلبہ نے باراسات اور ہوائی اڈے کے قریب احتجاج کیا اور پوچھا کہ جب شراب خانے اور شراب کی دکانیں کھلی رہ سکتی ہیں تو اسکول کیوں بند ہوں گے۔ اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیگر پارٹیاں مسلسل اسکول کالج کھولنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اس کے بعد ریاستی وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ اسکول کھولنے کے بارے میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی فیصلہ کریں گی۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں