| دارالعلوم چشتیہ نظامیہ دلکولہ میں عرس خواجہ غریب نواز کا انعقاد |
دارالعلوم چشتیہ نظامیہ دلکولہ میں عرس خواجہ غریب نواز کا انعقاد
نیوزٹوڈے اردو:درالعلوم چشتیہ نظامیہ مناٹولی دلکولہ بنگال میں سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی قدس سرہ کے نام عرس غریب نواز کا انعقاد کیا گیا ۔ بانی ادارہ ناظم اعلیٰ مولانا حافظ وقاری محمد مظہر الحق اشرفی کی صدارت اور مولانا حافظ وقاری محمد تحسین رضا رضوی سمستی پور استاذ دارالعلوم ہٰذا کی قیادت میں یہ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا ۔
مقرر خصوصی مفتی محمد صابر رضا محب القادری نعیمی نے اپنے خطاب میں خواجہ غریب نواز کی تعلیمات ان کی حیات و کارنامے اور ملک کے موجودہ حالات پر گفتگو کی ۔کرناٹک میں ایک مسلم بیٹی کے ساتھ غنڈہ گردی کرنے والے بھگوا دھاریوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ یہ ملک میرے خواجہ ،اولیا اورصوفیا کا ہے یہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں ۔
گنگنا جمنی تہذیب آپسی بھائی چارہ محبت و پیار کا پیغام ہمارے بزرگوں نے دیا اور ہمارے ملک کی خوبصورتی اسی میں ہے یہاں صدیوں سے سب محبت کی زندگی گذار رہے ہیں اور تمام مذاہب کے لوگ اپنے مذہبی حقوق کی ادائیگی میں آزاد ہیں‘ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ ایک دوسرے کی عزت نفس کے ساتھ کھلواڑ کرے ۔الحمد للہ ہماری بہن نے اس بھیڑ میں اپنا دفاع کرکے تکبیر کی آواز لگاکر ہمارے سروں کو فخر سے بلند کردیا اگر میں ان کو رول ماڈل اور میری بہن بیٹیوں کے لئے مشعل راہ کہوں تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا ۔
| دارالعلوم چشتیہ نظامیہ دلکولہ میں عرس خواجہ غریب نواز کا انعقاد |
قدیم نعت گو شاعر مولانا جابر اختر سلطان پوری، مولانا دلکش رضا پورنوی، مولانا نعیم رشیدی پورنوی ،قاری دانش رضا کانپوری اور حافظ دانش رضا بریلوی نے یکے بعد دیگرے نعت و منقبت کے نذرانے پیش کئے۔ ہلچل بنگالی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔مولانا آفاق ، مولانا غلام غوث ، مولانا مختار عالم نعیمی، مولانا ضیاءالرحمن کثیر علما ، حفاظ دارالعلوم کے اساتذہ اور طلبہ شریک رہے۔درمیان میں عشا کی نماز ادا کی گئی اور تقریباً گیارہ بجے صلاة وسلام قل شریف اور مفتی محب القادری صاحب کی دعا پر محفل کا اختتام ہوا ۔ملک کی سالمیت اور اپنے اپنے دینی اغراض ومقاصد کی بارآوری امت مسلمہ کی مغفرت کے لئے اجتماعی دعا کی گئیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں