تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 10 فروری، 2022

تقریباً تین سال تعلیمی ادارے بندرہنے کی وجہ سے کئی طلبہ نے پڑھائی بھی چھوڑ دی

تقریباً تین سال تعلیمی ادارے بندرہنے کی وجہ سے کئی طلبہ نے پڑھائی بھی چھوڑ دی
 تقریباً تین سال تعلیمی ادارے بندرہنے کی وجہ سے کئی طلبہ نے پڑھائی بھی چھوڑ دی 


 تقریباً تین سال تعلیمی ادارے بندرہنے کی وجہ سے کئی طلبہ نے پڑھائی بھی چھوڑ دی 

اسکول کھلنے کے بعد گھر گھرجاکر اساتذہ بچوں کو اسکول بھیجنے کے لئے کررہے ہیں بیدار

    نیوزٹوڈے اردو: کورونا انفیکشن کی وجہ سے اسکول کے بچے تقریباً تین سال سے تعلیم سے دور ہیں۔ لمبے عرصے سے سرکاری اسکولوں کی بندش کی وجہ سے دیہی علاقوں کے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے بچوں نے اب اسکولوں سے منہ موڑ لیا ہے۔ اولڈ مالدہ کالا چند ہائی اسکول کے اساتذہ یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ا سکول کے کچھ طلبہ کچھ دھوپکی اور کچھ مچھلی پکڑنے کا جال بنانے میں مصروف ہیں۔ کورونا کی وجہ سے سبھی نے پڑھائی بھی چھوڑ دی ہے، لیکن آہستہ آہستہ حالات معمول پر آنے پر اسکول کھل گئے ہیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں کے کئی گھرانوں کے طلبہ کو اس کا علم نہیں ہے۔

    اسی وجہ سے کراچند ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر راہل رنجن داس، اسسٹنٹ ٹیچر کمل کرشنا داس اور دیگر اساتذہ اولڈ مالدہ کے کچھ علاقوں میں گھر گھر جا کر بچوں کو اسکول آنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ آج صبح اولڈ مالدہ کے کالا چند ہائی اسکول انتظامیہ کے ارکان کئی علاقوں میں گئے اور وہاں ان کی حالت دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ جیسا کہ اولڈمالدہ کے پال پاڑہ علاقے کے چھٹی جماعت کے طالب علم آکاش ہلدار کے گھر والے اگربتی بنانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ 

    دوسری جانب جوراکلستان علاقے کے ساتویں جماعت کے طالب علم وویک ہلدار کے اہل خانہ نے مچھلی پکڑنے کے جال بنانا شروع کر دئے ہیں۔ اسکول کے طلبہ کے اہل خانہ کی ایسی حالت دیکھ کر اسکول انتظامیہ کے لوگ دنگ رہ گئے۔ یہاں حکومت کی ہدایت کے بعد اسکول کھل گئے ہیں اور اساتذہ نے ان کے والدین کو اس بارے میں بتایا اور اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کو کہا۔اگرچہ مالی طور پر کمزور گھرانوں کے بچوں کا کہنا ہے کہ کورونا کا بحران تین کے قریب ہوچکا ہے، لیکن اسکول بند تھے۔ اسکول کب کھلے اس کا انہیں علم نہیں۔

     اس صورت حال میں پڑھنااور لکھنا چھوڑ کر ہم گھر والوں کے روزگار میں ہاتھ بڑھا رہے تھے۔ اب اساتذہ نے اسکول آنے کو کہا تو ہم اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔کالا چند ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر راہول رنجن داس نے بتایا کہ تقریباً تین سال کی بات ہے جب کورونا کی وجہ سے تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوا تھا۔ تاہم اب ریاستی حکومت نے تعلیمی نظام کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لئے اسکول کھولنے کی ہدایت جاری کی ہیں اور اسکول کھل گئے ہیں۔ لیکن اسکول میں طلبہ کی تعداد بہت کم ہے۔ جب میں نے گھر جاتے ہوئے کئی طلبہ کی حالت دیکھی تو ہلکی سی گھبراہٹ ہوئی۔ تاہم ہم نے والدین کو اسکول بھیجنے کے لئے درخواست دی ہے۔ طلبہ نے بھی اسکول آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad