![]() |
| دوروزہ ملک گیر ہڑتال کا شمالی بنگال میں دکھاملاجلااثر |
دوروزہ ملک گیر ہڑتال کا شمالی بنگال میں دکھاملاجلااثر
نیوزٹوڈے اردو: بڑھتی ہوئی مہنگائی کو لیکر مرکزی حکومت کے خلاف ملک گیر بند کا اثر آج اتردیناجپور ضلع کے مختلف علاقوں میں ملا جلا اثردیکھنے کو ملا جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹریڈ یونین نے اس ملک گیر بند کی حمایت کی۔ آ ج صبح سے بایاں محاذ کی مختلف ذیلی تنظیموں نے ریلی نکال کر سڑک جام کرنے کی کوشش کی ۔بند کے حامی دکانوں کو بند کراتے نظر آئے،لیکن دن چڑھتے ہی حالات معمول پر لوٹ گئے۔ اسلام پور کی قلب سے گزرنے والی قومی شاہراہ کو کچھ دیر کے لئے بند حامیوں نے جام کردیا بعدمیں پولس کی مداخلت کے بعد سڑک جام ختم ہوا۔
![]() |
| دوروزہ ملک گیر ہڑتال کا شمالی بنگال میں دکھاملاجلااثر |
وہیں دوسری طرف گوالپوکھر کے پانجی پاڑہ میں جہاں ایک طرف بایاں محاذ نے قومی شاہراہ 31 پر اتر کر مرکزی حکومت اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا تو وہیں دوسری طرف ترنمول کانگریس نے بھی اس بڑھتی مہنگائی کے خلاف گوالپوکھر کے گوا گاوں بازار میں احتجاجی ریلی نکالی اور مرکزی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔یہی نہیں ترنمول کانگریس کے اس احتجاجی ریلی میں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کا پتلا بھی نظر آتش کیا گیا۔بایاں محاذ کے مختلف ٹریڈ یونینوں کے کارکنان نے قومی شاہراہ 31 پر ہاتوں میں لال جھنڈوں کو لیکر کافی دیر تک احتجاج کیا جس سے آمد ورفت کچھ دیر کیلئے بری طرح متاثر رہی۔
بایاں محاذ کے اس احتجاجی پروگرام میں کئی مقامی لیڈران و کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی جن میں سی پی آئی ایم ضلعی ممبر پنکج کمار، حبیب الرحمن، فارواڈ بلاک عالم پانجی پاڑہ انچل، سکریٹری شہراب عالم، پوکھریا انچل سکریٹری محمد عمران وغیرہ شامل ہیں-
سی پی آئی ایم کے ضلعی ممبر پنکج کمار نے کہا کہ ملک میں مہنگائی آسمان چھو رہی ہے جس سے عام انسان کی زندگیاں بے حد متاثر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ملک کے مختلف سرکاری کمپنیوں کو پرائیوٹائزیشن کرنے جارہی ہے جس کے خلاف آج کا یہ بند رکھا گیا ہے، ہم سبھی لوگ مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بڑھتی مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے تاکہ عام انسان آرام سے زندگی گزار سکے۔وہیں گوالپوکھر کے گوا گاوں میں ترنمول کانگریس یوتھ کی جانب سے نکالی گئی احتجاجی ریلی کی قیادت ترنمول یوتھ لیڈر نافع حبیب، راہل داس ، گوا گاوں ترنمول کانگریس انچل صدر ظفیر احمد، پر دھان پون سنگھ کے علاوہ درجنوں ترنمول کانگریس یوتھ لیڈران و کارکنان نے شرکت کی
اس موقع پر ترنمول یوتھ لیڈر نافع حبیب نے کہا کہ پیٹرول ، ڈیزل اور رسوئی گیس کے بڑھتے قیمتوں سے عام انسان سے لیکر کسان مزدور سب پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی اس بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے گی، اور ہم لوگوں کا مطالبہ ہے کہ اس بڑھتی مہنگائی کو جلد سے جلد کنٹرول کیا جائے۔
مالدہ میں ہڑتال کا ملا جلا اثر، سی پی ایم کارکنوں نے نکالی ریلی
![]() |
| مالدہ میں ہڑتال کا ملا جلا اثر، سی پی ایم کارکنوں نے نکالی ریلی |
مالدہ:بایاں محاذ کی مزدور یونین کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال کے پہلے دن اولڈمالدہ میں ملا جلا اثر دیکھا گیا۔ صبح سے سڑکوں پر پرائیویٹ گاڑیاں کم ہی نظر آئیں لیکن بازار کھلے رہے۔ بعض علاقوں میں دکانیں، شاپنگ مالس بند رہے۔ تاہم ہڑتال کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لئے اولڈ مالدہ کی پولس آج صبح سے ہی مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آئی۔ بایاں محاذ کی مختلف مزدور تنظیموں کی پہل پر آج صبح اولڈ مالدہ کے بلبلی موڑ سے ایک ریلی نکالی گئی۔ منگل باڑی کے چورنگی چوک پر قومی شاہراہ پر بایاں محاذ کی ورکرس آرگنائزیشن کے لیڈران اور کارکنان نے ہڑتال کی حمایت میں دھرنا دیا۔ بایاں محاذ کے دیگر لیڈران بشمول سی پی ایم ورکرس سنگٹھن (سی آئی ٹی یو) کے کچھ لیڈران نے بھی ریلی کی حمایت کی۔
جلپائی گوڑی میںہڑتال کے حامیوں نے سڑک پر ٹائر جلا کرکیا احتجاج
![]() |
| جلپائی گوڑی میںہڑتال کے حامیوں نے سڑک پر ٹائر جلا کرکیا احتجاج |
جلپائی گوڑی۔جلپائی گوڑی ضلع کے ڈی بی سی روڈ علاقے میں ہڑتال کے حامیوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔ سی پی ایم کی طرف سے بلائی گئی 48 گھنٹے کی ہڑتال کے پہلے دن جلپائی گوڑی ضلع کی سڑکوں پر دھرنا اور ریلی کی تصویریں دیکھی گئی۔ آج صبح سے پرائیویٹ منی بسیں سڑک پر نظر نہیں آئیں۔ حالانکہ کچھ سرکاری بسیں اور ٹوٹو چلتے دیکھے گئے ۔
ہڑتال کے حامیوں نے جلپائی گوڑی کے نیتا جی پاڑہ بس اسٹینڈ چوراہے پر سرکاری بسوں کو روک دیا، لیکن سرکاری بسیں پولس کی حفاظت میں چلتی رہیں۔ تاہم سڑکیں صبح سے ہی خالی ہیں۔ دکانیں بازار نہیں کھلے۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، ہڑتال کے حامیوں نے ناموافق موسم کو نظر انداز کیا۔ جلپائی گوڑی شہر میں ہڑتال کے حامیوں نے مختلف پبلک سیکٹر بینکوں کے سامنے دھرنا دیا اور بینکوں کو کھولنے کی اجازت نہیں دی۔ ہڑتال کے بارے میں سی پی ایم کے مزدورلیڈر کرشنا سین نے کہاکہ لوگ براہ راست اور بالواسطہ طور پر ہڑتال کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس ریاست میں زیادہ تر لوگ کھل کر احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔اس کے ساتھ ہی ہڑتال کے حامیوں کو جلپائی گوڑی ڈسٹرکٹ کورٹ کے گیٹ کے سامنے کھڑے دیکھا گیا۔
ایس این ٹی پر ہڑتال بے اثر، گاڑیاں عام دنوں کی طرح چلتی رہی
![]() |
| ایس این ٹی پر ہڑتال بے اثر، گاڑیاں عام دنوں کی طرح چلتی رہی |
سلی گوڑی۔سکم کے پبلک ٹرانسپورٹ کارپوریشن پر 2 دن کی ہڑتال کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ جہاں ریاست کے دیگر اضلاع میں ہڑتال زوروں پر ہے۔ گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ہڑتال کے پہلے دن آج سلی گوڑی کے سکم بس اسٹینڈ سے سرکاری اور نجی بسیں صبح سیاحوں کے ساتھ سکم کے لئے روانہ ہوئیں۔
سلی گوڑی شہر میں ہڑتال کا ملا جلا اثر، حامیوں نے نکالی ریلی
![]() |
| سلی گوڑی شہر میں ہڑتال کا ملا جلا اثر، حامیوں نے نکالی ریلی |
سلی گوڑی۔سنٹرل ٹریڈ یونین کی جانب سے ہڑتال کا سلی گوڑی میں ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا۔ ایک طرف جہاں صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ دوسری جانب بارش کو نظر انداز کرتے ہوئے ہڑتالی حامی سڑک پر آگئے۔ انہوں نے سلی گوڑی کے نکسل باڑی میں دھرنا شروع کر دیا۔ پرائیویٹ بسوں اور کاروں کو سڑک پر چلنے سے روک دیا گیا، وہی سرکاری بسیں سڑک پر چلتی نظر آئیں۔ ہڑتال کی حمایت میں ریلی نکالی گئی۔
دوسری طرف سلی گوڑی کے پھولباڑی علاقے میں ایس یو سی آئی کے حامیوں نے کھلی دکانوں کو زبردستی بند کرنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ایس یو سی آئی کے دس کارکنوں کو کھلی دکانوں کو زبردستی بند کرانے پر گرفتار کیا گیا۔
علی پور دوار ضلع میں ملک گیر ہڑتال کا ملا جلا اثر
![]() |
علی پور دوار ضلع میں ملک گیر ہڑتال کا ملا جلا اثر |
علی پوردوار۔ سینٹرل ٹریڈ یونین کی جانب سے علی پور دوار ضلع میں ہڑتال کا ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا۔ ایک طرف جہاں صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ دوسری طرف بارش کو نظر انداز کرتے ہوئے ہڑتالی حامی سڑک پر اتر آئے، انہوں نے علی پور دوار ضلع کے چوپاٹی علاقے میں دھرنا شروع کر دیا۔ پرائیویٹ بسوں کو سڑک پر چلنے سے روک دیا گیا، وہی سرکاری بسیں سڑک پر چلتی نظر آئیں۔ علی پور دوار ضلع کے پھالاکاٹا علاقے میں ہڑتال کی حمایت میں ریلی نکالی گئی۔ علی پور دوار ضلع کے تمام حصوں بشمول ہملٹن گنج، کال چینی، مداری ہاٹ میں ہڑتال کا ملا جلا اثر رہا اور بیشتر علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں۔ تاہم ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
وہیں علی پور دوار میں صبح سے بارش کی وجہ سے عام زندگی درہم برہم ہوگئی۔ علی پور دوار میں ہڑتال کے پہلے دن آج حامیوں نے علی پور دوار میں ٹرافک کو روک دیا۔ راستے میں سرکاری بسوں کی آمدورفت پر پابندی لگا دی گئی۔ ہڑتال کے حامی شمالی بنگال نیشنل ٹرانسپورٹ بس کو راستے میں چلنے سے روکتے دیکھے گئے۔ تاہم ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔









کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں