تازہ ترین

Post Top Ad

اتوار، 10 اپریل، 2022

”رمضان منعم حقیقی کو پانے کا مہینہ“

”رمضان منعم حقیقی کو پانے کا مہینہ“
”رمضان منعم حقیقی کو پانے کا مہینہ“


”رمضان منعم حقیقی کو پانے کا مہینہ“

    منقول ہے کہ رجب کاشت کاری شعبان آپ پاشی اور رمضان فصل یابی ظفر یابی فتح یابی کا مہینہ ہے،   ﷲ تعالیٰ عزوجل کا کس قدر بڑا احسان ہے،کہ اس نے ہمیں انسان بنایا اور تاج شرف وکرامت سے نوازاامام الانبیاء ﷺ کی امت میں پیدا فرماکر بہتر افضل امت بننے کا شرف بخشا،اور پھر قرآن رمضان کی شکل میں ہمیں دین فہمی تلاوت عبادت اور بندگی کے مواقع فراہم کیے، خیر اس کی نعمتیں احسانات ہمارے آپ کے شمار سے باہر ہیں،
    بس یہ کہ حتی المقدور ہم شکر بجالائیں،رمضان کی اہمیت اور نبی پاک ﷺ کی اپنی امت سے محبت دیکھیں، حضور صلی ﷲ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں،رجب شہر اللہ وشعبان شہری ورمضان امتی(مسند الفردوس ٢/ ٢٧٥)
    ترجمہ: رجب ﷲ کا شعبان میرا اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے“یہ امر مسلم ہے کہ دنیا جہاں کا سارا کچھ ﷲ عزوجل اور اس کی عطا سے مصطفیٰ ﷺ کا ہے لیکن بنایا گیا ہے سب اپنے بندوں کے لیے، حدیث پاک پر غور کریں یقینا یہ ماہ وسال سب خدا کے ہیں لیکن یہاں رجب کی نسبت باری تعالیٰ کی جانب اور شعبان کی نسبت حضور ﷺ نے اپنی جانب فرمائی، اور امت کی جھولی میں تمام مہینوں کے سردار رمضان کریم کو ڈال دیا، صرف اس لیے کہ ہم اس ماہ کریم میں اپنے خالق ومالک اور مصطفیٰ مرتضیٰ آقا کو راضی کرلیں اور راضی کرنے کا سب سے بہتر موقع رمضان المبارک ہے،
    حضرت علامہ عبدالرحمن صفوری علیہ الرحمہ رجب، شعبان،رمضان ان تین مہینوں کے حوالے سے فرماتے ہیں، رجب بیج بونے کا مہینہ شعبان المعظم آب پاشی کا مہینہ اور رمضان المبارک فصل کاٹنے کا مہینہ ہے، لہذا جو رجب  میں  عبادت کا بیج نہیں بوتا اور شعبان المعظم میں آنسوؤں سے سیراب نہیں کرتا وہ رمضان المبارک میں فصل رحمت کیوں کر کاٹ سکےگا مزید فرماتے ہیں کہ رجب المرجب جسم کو اور شعبان المعظم دل کو اور رمضان المبارک روح کو پاک کرتا ہے(نزہتہ المجالس جلد١ ص ١٥٥)
     یہ دونوں روایات رمضان کی اہمیت سمجھانے کے لیے کافی ہیں،بایں طور کہ اس کی شان یہ ہے کہ اس کی تیاری استقبال  کا آغاز رجب ہی سے ہوجائے، اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ کثیر منافع کا سودا کرتے ہیں دونوں جہاں میں ان کے لیے بہتری ہے،لہذا رجب ہی سے امت مسلمہ کو مستعد ہوجانا چاہیئے، اور رمضان میں روزہ کے ساتھ ساتھ خوب عبادت تلاوت ذکر و اذکار تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے، رمضان کو رب کا خاص احسان جاننا چاہئیے، 
    اس ماہ کریم میں نماز تراویح ایک اضافی نماز ہے،اس کے ذریعہ قیام اللیل اور قرآن کی تلاوت و سماعت کا سنہرا موقع ملتا ہے، اور پھر اس کے آخری عشرہ میں ایک رات ایسی ہے جس کی فضیلت ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو بندہ تمام پابندیوں کے ساتھ روزہ کا اہتمام کرتا ہے،اس کے لیے خصوصی بشارت حدیث قدسی میں یہ ہے کہ الصوم لی وانا اجزی بہ رب فرماتا ہے روزہ میرے لیے ہے اور اس کا بدلہ میں خود دونگا یا پھر اس کا بدلہ میں خود ہی ہوں، سبحان ﷲ کیا شان ہے روزہ رکھنے والوں کی بدلے میں مالک روز جزا خالق و معبود کی ذات مل رہی ہے،جب کسی کو رب مل جائے تو پھر جنت نعمت برکت رحمت مغفرت سب اسی بندے کا مقدر ہے، یاد رکھیں،مہینوں اور دنوں کے بنسبت اس ماہ مبارک میں رحمتوں کی خاص موسلا دھار بارش ہوتی ہے،
     اس ماہ مبارک میں اپنا خالی دامن پھیلا دیں، دین و دنیا کی کامیابی اور کامرانی کا طالب بن جائیں، ایک ایک ساعت کو قابل صد احترام اور لایق تعظیم و تکریم جانیں،خوب احترام کریں کذب بیانی اور فحش گوئی غیبت چغلی سے بچیں، نہیں معلوم اس مبارک مہینے کی سہانی راتیں یہ دلکش سویرا پھر ہمیں میسر ہوں نہ ہوں، اس کی مبارک راتوں میں اپنے رب کے حضور خشوع وخضوع کی چادر تان کر سراپا نیاز بن کر دو زانو بیٹھ جائیں،اپنے رب سے اپنے دل کی باتیں سنائیں،فریاد کریں ، 
    ان شاء ﷲ صبح انقلاب کی کرنیں نمودار ہوگی، گناہوں کا داغ دھلے گا، نوازشات دامن فکر ونظر کو معطر معطر کریگی،ایمان میں تازگی اور روحانیت محسوس کرینگے، ان تمام بدنی عبادات کے ساتھ مالی عبادات کی طرف بھی توجہ دیں، پڑوسی غریب یتیم لاچار بیکس مزدور کی مدد کریں، ساتھ میں اپنے دینی مدارس مساجد اور علماء حفاظ کا بھی خیال کریں، تو سونے پر سہاگہ ہے، اگر ہم ایسا کرتے ہیں اور خدائی اصولوں پر قائم عامل رہ کر رمضان المبارک گذارتے ہیں، تو منعم حقیقی کی رضا اور اس کے انعامات واکرامات کے مستحق ہونے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا، بس ﷲ کریم ہمیں عمل کی توفیق دے 
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ 
مولانا محمد نوشاد عالم نعیمی 
 محمد پور سورجاپور کشنگنج بہارحال مقام سورت گجرات

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad