![]() |
| صدقہ الفطر:احکام ومسائل |
صدقہ الفطر:احکام ومسائل
از: قاضی محمدفیا ض عالم قاسمی
ناگپاڑہ، ممبئی
8080697348
صدقة الفطرکی تعریف:صدقہ کے معنیٰ خیرات کے ہیں،فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں۔ شریعت کی اصطلاح میں صدقة الفطر اس خیرات کو کہتے ہیں جو رمضان کے روزے مکمل ہونے کی خوشی میں عید الفطر کے موقع پر ادا کیا جاتا ہے۔
صدقة الفطر کامقصد:
دراصل شریعت اسلامی کا مزاج یہ ہے کہ جب بھی کوئی خوشی کا موقع آئے تو صرف امیروں کے گھروں میں خوشی کا چراغ نہ جلے ؛ بلکہ غریبوں اور ناداروں کے گھروں میں بھی اس کی روشنی پہنچے ؛ اسی لئے خوشی کے موقع پر سماج کے غریب افراد کو یاد رکھنے کی تلقین کی گئی ہے ، چنانچہ اسی وجہ سے بقرعید کی قربانی میں ایک تہائی غریبوں کا حق قرار دیا گیا ، ولیمہ کے بارے میں آپ ﷺنے فرمایا کہ بدترین ولیمہ وہ ہے ، جس میں سماج کے امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نظر انداز کردیا جائے ، اسی طرح عید الفطر کی خوشی میں غرباءکو شریک کرنے کے لئے صدقةالفطر کا نظام مقرر کیا گیا۔
اس کا دوسرا مقصد یہ بھی ہے کہ روزوں میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہے، اِس صدقہ کے ذریعہ ا±س کی تلافی ہوجائے۔چنانچہ نبی کریمﷺ نے ان دونوں مقاصدکی وضاحت ایک حدیث میں کی ہے، حضرت ابن عباس رضی ا للہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے مسکینوں کے کھانے اورروزوں کو لغواورگناہوں سے پاک کرنے کے لئے صدقة الفطر کو ضرور قراردیا ہے۔(مشکاة المصابیح:1818)
صدقة الفطر کن پر واجب ہے؟
صدقة الفطرہر ایسے بالغ مردوعورت پر واجب ہے جو غنی اورمالدار ہو، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے پاس دولت نہ ہو اس پر صدقہ واجب نہیں : '' لا صدقة الا عن ظھر غنی'' ( نصب الرایہ :411.2) اور شریعت نے دولت مندی کا معیار نصابِ زکوٰة کے بقدر مال کو قرار دیا ہے۔یعنی جن کے پاس اپنی بنیادی ضروریات - مکان ، کپڑے ، گھر کے ضروری ساز وسامان ، استعمال کے سواری،گاڑی، موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ - کے علاوہ آدمی ساڑھے باون تولہ چاندی یعنی آج کے حساب سے چھ سوبارہ گرام، تین سو ساٹھ ملی گرام چاندی یا اس کی مالیت کا مالک ہو،اس پر صدقة الفطر واجب ہوجائے گا ؛ ( فتح القدیر )
اگرکچھ سامان ایسے ہیں جو ضرورت و حاجت کی نہیں ہیں، بلکہ محض نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں اورسال بھر استعمال میں نہیں آتے ہیں توصاحب نصاب ہونے میں ان کو بھی شامل کیاجائے گا۔ (بدائع الصنائع: ج2ص،158)
صدقةالفطر اپنی طرف سے اور اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے ؛ بالغ لڑکے ، لڑکیاں ، بیوی ، اپنے زیر پرورش چھوٹے بھائی بہن اور والدین کی طرف سے صدقة الفطر ادا کرنا واجب نہیں ہے ؛ لیکن ہندوستانی سماج میں بیوی اور شوہر کا مال عام طورپرملا جلا ہوتا ہے اوربالغ لڑکے جب تک ماں باپ کی کفالت میں ہوتے ہیں ، اور تعلیم وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں ، تو ان کی بھی ساری ذمہ داریاں گھر کا فرد اعلیٰ انجام دیتا ہے ، یہی حال چھوٹے بھائی ، بہن اور والدین کا ہے ، جن کی کفالت گھر کا کوئی مرد انجام دیتا ہو ؛ اس لئے بہتر ہے کہ ان سب کی طرف سے بھی صدقة الفطر ادا کردیا جائے۔
صدقة الفطر ہر اس شخص کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے ، جو عید الفطر کی صبح میں موجود ہو ، اگر اسی رات میں بچہ پیدا ہواتو اس کا بھی صدقة الفطرنکالنا واجب ہوگا۔اس کے برعکس اگر کوئی عیدالفطر کی شب میں انتقال کرجائے تو اس کی طر ف سے صدقة الفطر اداکرناواجب نہیں ہوگا۔
مقدار صدقة الفطر:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع کھجور، یاجَویانصف صاع گیہوں صدقة الفطر کے طورپراداکرنے کاحکم دیا۔(مشکاة المصابیح:1718) ( مصنف ابن ابی شیبہ ، عن ابن عباس رضی اللہ عنہما، حدیث نمبر : 10334)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع کھجور، جَو، پنیر یاکشمش اداکرنے کاحکم دیا۔(مشکاة المصابیح:1816، بخاری ، حدیث نمبر :1506)
نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں صاع ایک پیمانہ تھا،موجودہ اوزان کے اعتبارسے ایک صاع کی مقدارتقریباساڑھے تین کلوہے، اورنصف صاع کی مقدارپونے دوکلو ہے۔چوں کہ عہد نبوی میں ان تمام چیزوں میں سب سے قیمتی شئی گیہوں تھی ؛اس لئے دوسری چیزیں ایک صاع کی مقدار میں واجب قرار دی گئیں اور گیہوں نصف صاع ،حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اسی کے قائل ہیں؛لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ کشمش اورکھجورکی قیمت گیہوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔
اس لئے حضرت الاستاذفقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب فرماتے ہیں کہ جن لوگوں پر صدقة الفطر واجب ہے، ان میں جو بڑے تاجر اور اصحابِ ثروت ہیں ،اوراللہ تعالیٰ نے کافی مال سے نوازاہے، تو ان کو کھجور اور کشمش کی قیمت سے صدقة الفطر ادا کرنا چاہئے ، جو لوگ معاشی لحاظ سے ان سے کم درجے کے ہیں، یعنی متوسط درجہ کے مالدارہوں، ان کوایک صاع یعنی ساڑھے تین کیلو گیہوں کے لحاظ سے صدقة الفطر ادا کرنا چاہئے ؛کیوں کہ بعض روایتوں سے گیہوں بھی ایک صاع دیاجانا معلوم ہوتاہے،جیساکہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت ہے کہ آپ نے عید الفطر سے دو دن پہلے ہی صدقة الفطر ادا کرنے کی تلقین فرمائی اور اس میں ایک صاع گیہوں کا تذکرہ کیا ، ( نصب الرایہ ) اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ کوئی بھی کھانے کی چیز ہو ، ہم لوگ اس میں ایک صاع صدقة الفطر کے طورپر نکالا کرتے تھے۔ ( بخاری ، حدیث نمبر :1506)
اس لئے امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد رضی اللہ عنہم کے نزدیک گیہوں میں بھی صدقة الفطر ایک صاع ہی واجب ہوتا ہے۔لہذامتوسط مالداروں کوساڑھے تین کلو گیہوں کے حساب سے صدقة الفطر نکالناچاہئے، اس میں غرباءکا فائدہ ہے، اورثواب بھی زیادہ ہے،نیزاس طرح رسول اللہ ﷺ سے منقول ساری روایتوں پر عمل ہوجائے گا۔البتہ جو لوگ معاشی اعتبار سے سے بھی کم درجہ کے ہیں ، تو وہ پونے دو کیلو گیہوں کے لحاظ سے صدقة الفطر ادا کریں۔
صدقة الفطر کی ادائیگی کا وقت:
صدقہ الفطر کی ادائیگی کا اصل وقت عید الفطر کے دن نماز عید سے پہلے ہے، البتہ رمضان کامہینہ شروع ہوجانے کے بعد بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ (نور الانوار: ص56)
مصارفِ صدقة الفطر:
صدقة الفطر کے مصارف تقریباً وہی ہیں جو زکوٰة کے مصارف ہیں ، جن لوگوں کو زکوٰة نہیں دی جاسکتی ، ان کو صدقة الفطر بھی نہیں دیا جاسکتا ہے۔ مثلاغریب، مسکین، محتاج مسافرجو نصاب کامالک نہ ہو، خود جس پر صدقة الفطر واجب نہ ہواہے۔اس کو صدقة الفطر دیاجاسکتاہے۔البتہ ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اسی طرح بیٹا بیٹی، پوتا پوتی اور نواسہ نواسی کو ان کے غریب ہونے کے باوجودصدقة الفطر دینا درست نہیں ہے۔ ایسے ہی بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو اپنا صدقہ فطر نہیں دے سکتا۔ (تحفة الفقہ : ج1 ص303 باب من یوضع فیہ الصدقہ)
ان رشتہ داروں کے علاوہ مثلاً بھائی، بہن، بھتیجا بھتیجی، بھانجا، بھانجی، چچا، چاچی، پھوپا پھوپی، خالہ خالو، ماموں ممانی، ساس،سسر، داماد، سالہ، سالی، بہنوئی، سوتیلی ماں سوتیلا باپ ان سب کو صدقہ فطر دینا درست ہے، بشرطیکہ یہ غریب اور مستحق ہو،یعنی خود ان پر صدقة الفطر واجب نہ ہواہے۔ (البحر الرائق: ج2 ص425 کتاب الزکوٰة- باب مصرف الزکوٰة)
غیرمسلموں کو صدقة الفطردیاجاسکتاہے یانہیں؟
زکوٰة تو غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی ہے ،لیکن کیا صدقہ الفطر غیرمسلموں کی دی جاسکتی ہے یانہیں؟ اس سلسلے میں فقہا احنا ف کے یہاں اختلاف ہے،حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اوران کے شاگرد امام محمد فرماتے ہیں کہ ذمی کو صدقة الفطر دیاجاسکتاہے جب کہ امام ابویوسف رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نہیں دیاجاسکتاہے۔ (بدائع الصنائع ، کتاب الزکوٰة )
ہمارے ملک کے موجودہ حالات کے پس منظر میں یہاں کے غریب ہندوبھائیوں کی صدقة الفطر کی مدسے تعاون کیاجاسکتاہے، یہی بعض دیگراکابر کی بھی رائے ہے۔اس سے یہ پیغام بھی جائے گا کہ مسلمان نہ صرف سماجی جذبہ سے ؛ بلکہ اپنے مذہبی حکم کے تحت بھی برادرانِ وطن کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور بلا امتیازِ مذہب تمام لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا رویہ اختیار کرتا ہے۔فقط



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں