تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 5 اپریل، 2022

یوگی کے وزیر نے مدرسوں اور وقف بورڈ کی زمینوں کے تعلق سے کہی بڑی بات

یوگی کے وزیر نے مدرسوں اور وقف بورڈ کی زمینوں کے تعلق سے کہی بڑی بات
 یوگی کے وزیر نے مدرسوں اور وقف بورڈ کی زمینوں کے تعلق سے کہی بڑی بات


 یوگی کے وزیر نے مدرسوں اور وقف بورڈ کی زمینوں کے تعلق سے کہی بڑی بات

نیوزٹوڈے اردو: اترپردیش بلڈوزر مسلسل خبروں میں ہے، اسی درمیان ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب ریاست میں وقف بورڈ کی کئی زیر قبضہ زمینوں پر بلڈوزر چلانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یہ جانکاری یوگی حکومت کے وزیر نے دی ہے۔ 

    یوگی حکومت کے اقلیتی بہبود کے وزیر دھرم پال سنگھ نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت وقف بورڈ کی زمینوں سے غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کے لئے بلڈوزر چلانے جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عہدیداروں کے ساتھ حالیہ میٹنگ میں انہوں نے بورڈ کی جائیدادوں کے بارے میں بھی جانکاری مانگی ہے۔

یہ شرط مدارس کے حوالے سے رکھی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی وزیر نے مدرسہ کو لے کر بڑا تبصرہ بھی کیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ اب ریاست میں ایسے مدرسے چلائے جائیں گے، جن میں دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی ہے۔دھرم پال سنگھ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ وقف بورڈ کی کئی زمینوں پر مافیا نے قبضہ کر رکھا ہے، اسے آزاد کرانے کے لئے حکومت کام کرے گی اور بلڈوزر بھی چلائے گی ۔

    دوسری جانب دھرم پال نے مدرسے کے بارے میں کہا کہ مدارس میں کچھ قومی تعلیم (راشٹرکی پڑھائی )دینی پڑے گی اور قومی مفاد کی بات کی جائے گی۔ دہشت اور خوف بڑھاوادینے والی تعلیم نہیں دی جائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کمرشل تعلیم دی گئی تو ہم اس پر غور کریں گے۔ 

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اب مدارس میں ٹیکنیکل تعلیم بھی دی جاسکتی ہے، اب یہاں کے طلبہ کو حب الوطنی اور قوم پرستی کی تعلیم دی جائے گی۔حالانکہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد شعبے ہیں۔ یعنی گائے کی بھی حفاظت کرنی ہوگی اور اقلیتوں کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔

    مویشیوں کے لئے گوشالا بنایاجائے گااس کے ساتھ ہی میوشیوں کے تعلق سے دھرم پال سنگھ نے کہا کہ یوپی کے کسان اور سڑکوں پر چلنے والے عام لوگ آوارہ جانوروں سے پریشان ہیں۔ لیکن مسئلہ ان دونوں کے سامنے ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ گایوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ کسانوں کے کھیتوں میں نہیں جاتیں تو وہ کہاں جائیں۔ جبکہ کسان اپنے کھیت کی حفاظت نہیں کرے گا تو اس کے بچے کیا کھائیں گے۔ ہم دونوں کے مسئلے کو حل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔مویشی، دودھ کی ترقی اور اقلیتی بہبود کے وزیر نے کہا کہ گایوں کے لئے پنچایت سطح پر ایک گوشالا بنا کر وہاں گایوں کو کھونٹی سے باندھا جائے گا۔ یہاں اچھی نسل کی گائے بھی پالی جائیں گی، تاکہ ہر گائے خانہ اپنے وسائل سے چل سکے۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad