| ”روزہ انسانی کردار میں تبدیلی کا ذریعہ ہے“ |
”روزہ انسانی کردار میں تبدیلی کا ذریعہ ہے“
مکرمی --قرآن و احادیث کے ارشادات اس پر واضح ثبوت ہیں، کہ روزہ صرف کھانے پینے اور خواہشات نفس سے رکنے کا نام نہیں، بلکہ روزہ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ انسان حالات روزہ میں اپنے اعضا و جوارح سے کوئی ایسی حرکت نہ کرے،جو کسی کے لئے باعث اذیت ہو، ہماری زبان سب وشتم اور فحش کلامی اور کردار نفرت و حقارت سے پاک ہو، کسی کو اذیت نہ پہنچائیں،کسی کے جذبات واحساسات کو مجروح نہ کریں، آنکھ کان کا غلط استعمال نہ ہو، غلط دیکھنے اور سننے سے باز رہیں،
خدائے تعالیٰ کے دیے ہوئے دونوں ہاتھ اور پیر کسی پر ظلم و جبر اور غلط روی کی سمت نہ بہکے، رزق حلال ہمارا غذا ہو اگر چہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اسی پر ہم صابر وقانع رہیں،اور بہتری کے لئے اپنے رب پر توکل کرتے ہوئے اس کا شکر بجالائیں، حرام کی جانب ہمارا نفس نہ لپکے، یہ تمام چیزیں اگرچہ رمضان کے علاوہ دنوں میں بھی ہمارے لئے ضروری ہے۔ لیکن رمضان میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، اس لیے بھی کہ رمضان میں اگر ہم نے خود پر گرفت بنالی اور شریعت کے تابع فرمان ہوگئے تو غیر رمضان میں بھی اس کی پاسداری آسانی کے ساتھ ہوجائے گی، اگر روزہ رکھتے ہوئے انسان کا نفس ہر طرح کے شر و فساد میں مبتلا ہو، اور اس کی ذات سے معاشرہ کے لوگ تنگ ہوں تو سیدھا مطلب ہے کہ روزہ اپنے ثمرات نہیں دکھا رہا ہے،اور ایسے انسان کے بھوک و پیاس سے رہنا لاحاصل ہے،
حدیث پاک سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ رمضان المبارک لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا کر نے کے لئے اتا ہے انہیں حیات نو عطا کر نے کے لئے آتا ہے،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ حقیقت میں یہ تبدیلی انہیں لوگوں کی زندگی میں آتی ہے،جو شعوری طور پر پورے ایمان اور اخلاص کے ساتھ اسے انجام دیتے ہیں اور روزہ کا احترام کرتے ہیں، یہ سبھی جانتے ہیں کہ یہ رمضان رحمت برکت و عظمت والا مہینہ آیا ہے، اس مہینے میں جو نیکی کرے گا اس کو عام دنوں کے فرض کے برابر ثواب ملے گا اور جو رمضان المبارک میں فرض ادا کر یگا اسے عام دنوں سے ستر 70 گنا ثواب ملے گا رمضان المبارک میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے جو شخص کسی کو روزہ افطار کرائگا اس کو روزہ رکھنے والے کے برابر ثواب ملے گا ۔اللہ تعالیٰ عزوجل ہم سب کو ماہ رمضان المبارک کی قدر اس میں کثرت بندگی کی توفیق عطا فرمائے،آمین
حافظ شہادت حسین برکاتی
رکن المحب فاونڈیشن ڈمراہ ضلع پورنیہ بہار


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں