![]() |
| ”یہ کیسی تصویر بنادی تم نے ہندوستان کی:“ |
”یہ کیسی تصویر بنادی تم نے ہندوستان کی:“
ازقلم:مفتی صابررضامحب القادری
بھارت ایک جمہوری Democratic ملک ہے اور اسے ڈیموکریٹک بنانے میں ہندو مسلم سکھ عیسائی دیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں کی قربانیاں شامل رہی ہیں،یہاں کے ہر naagrik کو سوندھانک آزادی رائے کا اختیار ہے اور سب کو اپنے مذہبی ذاتی مسائل میں یکساں حقوق ومراعات حاصل ہیں،ہمارا آئین کسی کے بھی مقدسات اور مذہبی شخصیات کی توہین اورمن گھڑت الزامات عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتا،لیکن گذشتہ چندبرسوں سے ملک کہ دوسری بڑی اکثریت کے مذہبی شعار ان کے مذہبی شخصیات و مقدسات پرسنل لا اور ذاتیات پر جو جارحانہ حملے ہورہے ہیں یقیناً وہ بڑے دلخراش اور جمہوریت کے منافی ہیں.
ابھی حالیہ تنازع اور توہین رسالت نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مضطرب کردیا ہے ملک بیرون ملک احتجاج پر درشن protest ہورہے ہیں ملعونہ نپور شرما اور ملعون نوین جندل کے گرفتاری کی مانگ ہورہی ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ فوری طور پر ان دونوں کی گرفتاری عمل میں آتی، لیکن بجائے اس کے ان دونوں کو سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے، اور ملک عزیز میں احتجاج کرنے والوں پر لاٹھی چارج اور گولیاں داغے جارہے ہیں، اپنے آئینی جائز حقوق مانگے جانے پر مسلم نوجوانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جارہاہے.
ابھی کانپور رانچی پریاگ راج اور ملک کے دیگر گوشوں سے جانبدارانہ معاندانہ کاروائی کرتے ہوئے سیکڑوں نوجوانوں پر شکنجہ کسا گیا، اور حد تویہ ہے کہ رانچی پولس دو نوجوانوں پر ایسا جارحانہ حملہ کیا کہ دونوں جاں بحق ہوگئے، عالمی سطح پر ملک کی چھبی خراب ہوئی، اور احتجاج کا سلسلہ زوروں پر ہے،لیکن برسر اقتدار حکومت کو اس سے کیا مطلب اس کو تو اپنی حکومت کی پڑی ہے اگر حکومت چاہا لے تو حالات پر قابو پانا کوئی مشکل نہیں پرامن ماحول بن سکتا ہے لیکن یہ کب اور کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ ان کو تو اپنے اکثریتی حلقہ کو خوش کرکے حکومت میں بنے رہنا ہے، چاہے اقلیت کے جسموں پر کھیل کے اپنی سیاست بچانی پڑے.
اب ایسا لگتا ہے کہ ملک عزیز میں اقلیت کے کوئی ادھیکار نہیں ان کے جذبات اور جان و مال کی کوئی قیمت نہیں۔ حکومت کا نظریہ ہے کہ اگر وہ اپنے حقوق کی آواز بلند کرے تو اپنی طاقت وقوت کے بل پر انہیں کچل دو ان کے مکانات پر بلڈوزر چلا دو ان کے سر سے چھت اور پاوں سے زمین چھین لو عرصہ حیات تنگ کردو ان کے مساجد اور مدارس تعلیم گاہوں کو مسمار کر دو تاکہ یہ قوم یا تو مر جائے یا پھر زندہ رہے تو غربت وافلاس اور بے چارگی میں غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے، ان سنگین حالات میں شومی قسمت !کہ ہمارے یہاں بغیر تلاش وجستجو کے قیادت کے نام پراپنی روٹیاں سیکنے والے ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ مل جاتے ہیں لیکن اس نازک صورتحال میں تلاش بسیار کے بعد بھی کوئی منظم قیادت نظر نہیں آتی.
مسلمانوں کی قیادت اور نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی تنظیم جمیعة علمائے کے سربراہ مولانا محمود مدنی صاحب کو میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا لیڈر سمجھتا تھا لیکن ان کے حالیہ بیانات اور انٹرویوز سے جو کاری ضرب رسید ہوا ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔ مولانا مدنی صاحب ملعونہ نپور شرما اور نوین کے پارٹی سے برخاست کئے جانے پر خوش ہوجاتے ہیں،اور اس کے اچھی پارٹی ہونے کی سرٹیفکیٹ بھی دے دیتے ہیں ملت پر وطن کو ترجیح دی جارہی ہے گورنمنٹ سے ایڈ مدارس کی منظوری ختم کرنے کی مانگ کی جارہی ہے نہیں معلوم یہ کس فکر و ذہنیت کے عکاس ہیں،مدنی صاحب کو ایک بار اپنے کہے گیے جملوں پر غور کرنا چاہیے.
بی جے پی کا اعلامیہ جاری ہوتا ہے کہ ہماری پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرتی ہے،اس میں کتنی صداقت ہے اور وہ کتنا احترام کرتی ہے یہ تو جگ ظاہر ہے مسلمانوں کے آئینی مطالبات پر حکومت کی خاموشی اور زخم خوردہ مجروح مسلمانوں پر یکطرفہ کارروائی ان کے ساتھ بدسلوکی پولس انتظامیہ کی غنڈہ گردی کے مناظر دیکھ کر انسانیت کانپ رہی ہے.
پارٹی کے اعلامیہ جاری کرنے کے باوجود اسی پارٹی کے بہت سے افراد ملعونہ نپور اور ملعون نوین کی حمایت کا کھلے بندوں اعلان کرتے ہیں ملعونہ پرگیہ ٹھاکر کہتی ہے نپور شرما نے کچھ غلط نہیں کہا ملعون نر سنگھا نند جس نے سب سے پہلے دھرم سنسد سے ملک میں بدامنی کا صور پھونکا جذبات کو مشتعل کیا اسلام اور اس کے مقدسات پر گھٹیا اور بھدا قسم کے مغلظات اگل کر مسلمانوں کو ٹھیس پہنچایا غیر مسلم بھائیوں کو مسلمانوں کے مارنے کاٹنے پر ابھارا آج پھر سے وہ نطفہ ناتحقیق کھلے عام بدتمیزی اور بدزبانی کررہا ہے۔
ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی
درد بیچارہ پریشان ہے کہاں کہاں سے اٹھے
ان حالات میں فرض ہے کہ مخلصین کی ایک جماعت مجاہد قائدانہ عزم وحوصلہ کے ساتھ اٹھے نبی کریم ﷺ کے ناموس اور ان کی امت کے دین وایمان جسم وجان پر پہرہ دے ناموس رسالتﷺ پر پہرہ دینا ہر کلمہ گو کا فریضہ ہے اور لوگ دے بھی رہے ہیں لیکن اگر یہی کام کسی موثر منظم قیادت میں ہوتو اس کے نتائج مثبت حوصلہ بخش عزت و افتخار اور طمانیت سے بھر پور ہوںگے۔
حکومت شرپسند عناصر کو یہ بتایا جائے کہ یہاں جس طرح تمہارے ادھیکار ہیں اور یہ تمہارا ملک ہے ایسے ہی ہمارے ادھیکار ہیں اور یہ ہمارا ملک ہے یہاں کی مٹی میں ہمارے پرکھوں کا خون جگر شامل ہے ہم کسی بھی طرح کا ظلم و استحصال جانی مالی اور قومی نقصان برداشت نہیں کرسکتے چہ جائیکہ ہمارے پیغمبر ﷺ کی توہین ان کی مقدس ذات پر جاہلانہ بے بنیاد الزام تراشی ہو یہ کب اور کیسے ہم برداشت کرسکتے ہیں، جبکہ ذات رسالت ﷺ ہماری جان اور ہمارا ایمان ہے۔
اہل ایمان کی ترجیحات میں اول حیثیت اللہ عزوجل رسولﷺاور ان کے مقدسات کی ہیں پھر ثانوی درجہ ہماری جان مال متاع والدین خاندان رشتہ دار کا ہے، کچھ لوگ جذبات میں یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ ہم اپنی ذات خاندان مال زمین جائداد پر حملہ برداشت کرلیںگے میں متفق نہیں بلکہ اب کہا جائے کہ ہم نے بہت سارا ظلم برداشت کرلیا اب ہم مزید ظلم برداشت نہیں کرسکتے ہمیں کوئی بھی نقصان گوارہ نہیں نہ ہم کسی ہر حملہ کریںگے اور نہ کوئی ہم ہر حملہ کرے اور ہمارا مذہب اس کی اجازت بھی نہیں دیتا ہمارا دین اور رسولﷺ کے پیغامات میں صرف اور صرف امن و آشتی peace ہے یہ ملک ہمارا مکان ہے ہم اس کے مکیں ہیں ہر مکیں کو مکان سے محبت ہوتی ہے کوئی سرپھرا یہ نہ کہے کہ ہمیں یہاں سے محبت نہیں ہے ہمیں کسی سے محبت کی سرٹیفکیٹ نہیں چاہئے ،اگر کوئی منظم قیادت سامنے نہیں آتی ہے تو پھر مسلمانوں کے مرنے کٹنے اور ان پر وحشیانہ بہیمانہ قاتلانہ ظالمانہ جابرانہ حرکتوں کا سلسلہ مزید دراز ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں