![]() |
| گوالپوکھر کے ادارہ فیض القرآن ٹھیکری باڑی میں کمپیوٹر کی تعلیم کاآغاز |
گوالپوکھر کے ادارہ فیض القرآن ٹھیکری باڑی میں کمپیوٹر کی تعلیم کاآغاز
مدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم کا انتظام وقت کا اہم تقاضہ ہے: کابینی وزیر غلام ربانی
نیوزٹوڈے اردو: شمالی دیناج پور کے مشہور دینی تعلیمی درسگاہ ادارہ فیض القرآن ٹھیکری باڑی میں آج کمپیوٹر کی تعلیم کا آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر ایک افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں ریاست مغربی بنگال کے کابینی وزیر غلام ربانی کے ہاتھوں کمپیوٹر کی تعلیم کا آغاز کیا گیا۔
اس افتتاحی تقریب میں کابینی وزیر غلام ربانی کے علاوہ جمعیة علمائے ہند بہار کے ریاستی صدر مفتی جاوید اقبال، ادارہ فیض القرآن ٹھیکری باڑی کے مہتمم مولانا ممتاز عالم، مفتی جشیر الدین،مفتی واعظ الحق، سیاسی و سماجی لیڈر شفیع الرحمن ، الحاج اسلام الدین، ضلع پریشد رکن ماسٹر وزیر، گوالپوکھر بی ڈی او ساتینو گھوش، پنچایت سمیتی کرمدھک احمد رضا و دیگر شخصیات موجود تھے۔
![]() |
| گوالپوکھر کے ادارہ فیض القرآن ٹھیکری باڑی میں کمپیوٹر کی تعلیم کاآغاز |
اس موقع پر ادارہ فیض القرآن ٹھیکری باڑی میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں وزیر غلام ربانی نے مدرسہ انتظامیہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شمالی بنگال کا دینی درسگاہ اب عصری تعلیم کی جانب اپنے قدم کو بڑھا رہا ہے جس سے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے فیضیاب ہوںگے اورمدرسہ کے طلبہ ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا تعاون پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مدرسہ کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرنا وقت کا اہم تقاضہ ہے ،آج کے ترقی یافتہ دور میں کمپیوٹر کی تعلیم کا حاصل کرنا مدارس کے بچوں کو بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے اس تقریب سے علاقہ کے دیگر مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ سبھی مدارس کے انتظامیہ مدارس کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم پر بھی توجہ دلایں۔
اس موقع پر جیعتہ علمائے ہند بہار کے ریاستی صدر مفتی جاوید اقبال،گوالپوکھر بی ڈی او نے بھی اپنی باتیں رکھیں۔وہیں ادارہ فیض القرآن ٹھیکری باڑی کے مہتمم مولانا ممتاز عالم نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ آج سے اس ادارے میں کمپیوٹر کی تعلیم کا آغاز ہوا جہاں اعلیٰ درجہ کے طلبہ کو کمپیوٹر کی تعلیم دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ادارہ اب دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم پر توجہ دینے جارہی ہے جس سے مدارس کے طلبہ فیضیاب ہوں گے۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں