![]() |
| اسلام پورکوضلع بنانے کی مانگ کولیکر160کیلومیٹرپیدل چل کر رائے گنج ڈی ایم آفس پہنچ کردیا ڈیپوٹیشن |
اسلام پورکوضلع بنانے کی مانگ کولیکر160کیلومیٹرپیدل چل کر رائے گنج ڈی ایم آفس پہنچ کردیا ڈیپوٹیشن
نیوزٹوڈے اردو:مغربی بنگال کے اتردیناجپور ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 120کیلومیٹر دوری پرواقع اسلام پورسب ڈیویژن اور160کیلومیٹرپر واقع ضلع کاآخری علاقہ نل باڑی (سوناپور) جیسے علاقے کے شہریوں کوہورہی مسلسل پریشانیوں، مصیبتوں اورہراسانی کے پیش نظرسماجی وغیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے گزشتہ 23اگست تا26اگست کو ”احتجاجی پیدل سفر“ کیا گیا۔
سماجی غیرسرکاری تنظیموں میں نمایاں طورپر رضا کمیٹی کے علاوہ انقلاب فاﺅنڈیشن،الہندفاﺅنڈیشن، سوشل امپاورمنٹ،گوالپوکھر 2کی آواز، دی ہیلپنگ ہینڈ وغیرہ جیسی کئی تنظیموں نے حصہ لیااور اسلام پور کو الگ ضلع Islampur District بنانے کی پرزور مانگ کی۔
اس ”احتجاجی پیدل سفر“ کے سربراہ رضا کمیٹی کے صدر مسرورعالم نے ضلع اتردیناجپور کے رائے گنج ڈی ایم آفس میں تمام تنظیموں کے ساتھ احتجاجی عرضی جمع کرتے ہوئے کہا کہ ضلع اتردیناج پور کے سب سے آخری گاﺅں سے ہم نے اس احتجاجی پیدل سفر کا آغاز کیاتاکہ سرکارکو ہم یہ بتا سکیں کہ ایک غریب ضرورتمند کو اگررائے گنج میں کسی سرکاری کام کیلئے آناپڑجائے تو ان کو بہت ساری دشواریوں اور مصیبتوں کا سامناکرتے ہوئے تقریباً 4سے 5دن رائے گنج پہنچنے میں لگ جائیں گے۔

اسلام پورکوضلع بنانے کی مانگ کولیکر160کیلومیٹرپیدل چل کر رائے گنج ڈی ایم آفس پہنچ کردیا ڈیپوٹیشن
انہوں نے کہا کہ احتجاجی پیدل سفر کے پہلے دن نل باڑی سے اسلام پور پہنچنے کے دوران کافی زیادہ بارش ہوئی ، دوسرے دن اس کے برعکس تپتی دھوپ کے باجود ہم ان ساری تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے اپنے احتجاجی پیدل سفرکو مسلسل جاری رکھ کرچوتھے دن رائے گنج ڈی ایم آفس پہنچے۔
انقلاب فاﺅنڈیشن کے چیئرمین و اسلام پور بلاک کانگریس پارٹی کے صدرڈاکٹر صادق الاسلام نے بھی ”احتجاجی پیدل سفر“ میں شرکت کی۔اس دوران انہوں نے کہا کہ ترنمول حکومت نے ریاست کے کئی ضلعوں کو بغیر کسی مانگ اور احتجاج کے تقسیم کردیا۔ مگر ہماری طرف انہوںنے بالکل بھی توجہ نہیں دی جبکہ کچھ ہی سال پہلے رائے گنج ایڈمنسٹریشن میٹنگ میں مغربی بنگال کے وزیر اعلی ممتابنرجی کے سامنے اسلام پور کے سینئر ایم ایل اے چودھری عبدالکریم نے برجستہ اسلام پور کو الگ ضلع بنانے کی مانگ کی تھی، مگر وزیراعلیٰ کی طرف سے اس بات کو فنڈنگ اورآفیسرس کی قلت بتاکرنظر انداز کردیا تھا اس کے باوجود کچھ روز قبل جب سات نئے اضلاع بنانے کا اعلان کیا گیا تو اسلام پور کوضلع نہیں بنایا گیا۔
ڈاکٹر صادق الاسلام نے کہا کہ اس احتجاجی پیدل سفر کے بعد بھی اگر حکومت کی طرف سے اسلام کو ضلع بنانے کا اعلان نہ کیا گیا تو ہمارااحتجاج مسلسل جاری رہے گا۔
اس کے علاوہ الہند فاﺅنڈیشن کے صدر مبارک علمی نے کہا کہ ہم باشندگان اسلام پور سب ڈویژن جب بسوں میں سفر کرکے کسی بھی ادنیٰ سرکاری کام کیلئے رائے گنج جاتے ہیں تو پورا دن ختم ہوجاتا ہے ، سرکاری آفسوں میں آفیسر کی غیرحاضری پر ہمیں ہوٹل میں رکنا پڑجاتا ہے جو کہ ایک غریب مزدور کسان کیلئے کافی زیادہ مالی اور جانی خسارے کا باعث بنتا ہے اس لئے اسلام کو ضلع بنانا کافی ضروری ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پیدل احتجاجی سفرکرنے والوں کے پیروں میں چھالے پڑگئے ہیں مگر پھربھی ہم نے طویل ترین سفر کرکے یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام پور کو ضلع بنانے کیلئے علاقائی لوگ اس سے بھی زیادہ اور سخت مصیبتوں کا سامناکرکے احتجاج کرتے رہیں گے۔
اس موقع پر ”احتجاجی پیدل سفر“ میں شرکت کرنے والے سماجی کارکن محمد انجم راہی چیئرمین ( سوشل امپاورمنٹ مشن) نے کہا کہ علاقائی سماجی وغیرسرکاری تنظیموں کی طرف سے اسلام پور کو ضلع بنانے کی مانگ، عوامی پریشانیوں اورعوامی مفاد کے مد نظرکی جارہی ہے، جس کا منشا کسی بھی طرح کی کوئی سیاسی وذاتی مفادپرستی نہیں ہے ،مگر اس کے باوجود سیاسی لیڈروں کے ذریعہ عوامی پریشانیوں کومدنظر رکھ کر اسمبلی میں ایسے مسائل کو اُجاگر نہ کرنا کافی افسوسناک بات ہے۔علاقے کے عوامی نمائندے اگرایسے اہم مسائل کو مسلسل نظرانداز کرتے رہیں گے توسرکاری نمائندوں سے عوام کا بھروسہ اُٹھ جائے گا۔سیاسی لیڈروں کو چاہئے کہ عوامی بنیادی مسائل پرسیاسی فرقہ پرستی کو بالائے طاق رکھ کر اسمبلی میں ہو یا پھر سرکاری پروگراموں میں عوامی مسائل پربات کرکے اس کی تکمیل کرانے کی کوشش ہو۔
محمد انجم راہی نے کہا کہ رضا کمیٹی کی سربراہی میں تقریباً علاقے کے اس احتجاجی پیدل سفر میں شریک سبھی غیرسرکاری تنظیموں کی مانگ پر ریاستی حکومت خصوصی طورپر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو توجہ دینی چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ جب رائے گنج ایڈمنسٹریشن میٹنگ میں وزیر اعلیٰ ممتابنرجی کے سامنے اسلام پور کے رکن اسمبلی عبدالکریم چودھری نے اسلام پور کو ضلع بنانے کی مانگ کی تھی تو ان کے آس پاس بیٹھے ضلع صدرکنہیالال اگروال، چاکولیہ کے رکن اسمبلی منہاج العارفین آزاد، گوالپوکھر کے ایم ایل اے ووزیرغلام ربانی، چوپڑہ کے رکن اسمبلی حمید الرحمن اور کرندیگھی کے ایم ایل اے وغیرہ نے اگر اسی وقت چودھری عبدالکریم کی مانگ پر لبیک کہتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے سامنے رکن اسمبلی چودھری عبدالکریم کی مانگ کی تائید کردیتے تووزیراعلیٰ ممتا بنرجی اسلام پور کو الگ ضلع بنانے کا اعلان ضرورکردیتیں۔
آج علاقائی سماجی غیرسرکاری تنظیموں کو عوامی پریشانیوں اور مفادوں کالحاظ کرتے ہوئے طویل ترین دشوار گزاراحتجاجی پیدل سفرکی ضرورت نہیں پڑتی۔آخر میں رضا کمیٹی کے صدر مسرور عالم نے ہمراہ چلنے والے اور اس احتجاجی پیدل سفر کرنے والے سبھی تنظیموں کے کارکنان وعوام کا شکریہ اداکرتے ہوئے اس احتجاجی پیدل سفر کا اختتام کیا۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں