![]() |
| مہر کی ادائیگی بیوی کا اہم ترین حق ہے |
مہر کی ادائیگی بیوی کا اہم ترین حق ہے
از : محمدفیاض عالم قاسمی
خادم دارالقضا آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈناگپاڑہ ممبئی۔
میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں شریعت مطہرہ نے دونوں کو ان کی ذمہ داریاں اورحقوق بتادیئے ہیں۔ شوہر کو بتادیا کہ تمہارے فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں اور بیوی کو بتا دیا کہ تمہاری ذمہ داریاں کیا ہیں، ہر ایک اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کرے،دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی فکر اپنے حقوق حاصل کرنے کی فکر سے زیادہ ہو۔اگر یہ جذبہ پیدا ہوجائے تو پھر زندگی بہت عمدہ اورخوشگوارگزرے گی۔بیوی کے حقوق میں سب سے پہلا اوراہم ترین حق اس کا مہرہے۔ جو شوہر کی اولین ذمہ داری ہے۔
بیوی کا پہلا حق :
مہر:
مہر وہ مال ہے جو بیوی کااپنے خاوند پر حق ہے جوعقد نکاح یا پھر دخول کی وجہ سے لازم ہوجاتا ہے ،مہر کی مشروعیت دراصل عورت کی عزت و تکریم اوراس کے لیے اعزاز ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشادہے:اللہ نے تم پر یہ فرض کیا ہے ، اور ان کے سوا تمام عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں ؛ بشرطیکہ تم ( انھیں ) اپنے مال کے ذریعہ نکاح میں لاتے ہوئے حاصل کرو ، (۲)نہ کہ بدکاری کرو ، پھر تم ان ( بیویوں ) میں سے جس سے نفع اٹھاوﺅ ، (۳)تو ان کو ان کا طے شدہ مہر دے دو اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں کہ مہر طے ہونے کے بعد تم آپس میں ( مہر میں اضافہ یا کمی کی ) کسی بات پر رضامند ہوجاوﺅ ، (۴) بے شک اللہ علم والے اور حکمت والے ہیں۔ (سورة النسا )
نکاح میں مہر کی حیثیت فرض کی ہے۔
شریعت نے مہر کو عورت کا لازمی حق قرار دے کر ازدواجی زندگی کی اہمیت، قدروقیمت کو بڑھا کر یہ احساس دلایا ہے کہ نکاح یہ ایک سنجیدہ و لازمی عمل ہے۔اللہ تعالیٰ کاارشادہے: بوییوں کو خوش دلی کے ساتھ ان کا مہر ادا کردو ، پھر اگر وہ خوش دلی سے اپنے مہر مںب سے کچھ تمہارے لئے چھوڑ دیں ، تو اس کو ہنسی خوشی کھاسکتے ہو۔(سورة النسا )
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ’نحلہ‘ کا ترجمہ ’ فریضہ ‘ سے کیا ہے۔ (دیکھئے ، تفسیر ابن کثیر ،) اس لئے مہر کا مقرر کرنا اور اس کا ادا کرنا واجب ہے۔اگر کوئی شخص مہر نہ دینے کی شرط پر نکاح کرلے ، تب بھی عورت کا خاندانی مہر ( مہر مثل) واجب ہوگا اور امام مالک کے یہاں تو ایسی صورت میں نکاح ہی منعقد نہیں ہوگا۔
مہرمثل سے مراد یہ ہے کہ عورت کے آبائی خاندان میں اس جیسی لڑکی کاجتنامہر ہوتاہے اتنااس کابھی ہوگا۔نیزآبائی خاندان کےلڑکیوں کاشوہراوراس شوہرمیں قابل ذکرمناسبت بھی ہو۔(مجموعہ قوانین اسلامی:دفعہ )
مہر کی تعیین:
مہرکی تعیین لڑکا اورلڑکی دونوں کی حالت کے لحاظ سے ہونی چاہئے نہ بہت زیادہ ہو کہ لڑکے ادا نہ کرسکے اور وہ معاف کروانے پر مجبورہواور اتنا کم بھی نہ ہو کہ خود اس کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہ ہو۔یا لڑکی لحاظ سے وہ بہت کم ہو۔حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا لوگو!سنو عورتوں کے مہر کو ذیادہ نہ رکھو کیونکہ یہ اگر دنیا میں عزت کی بات ہوتی تو تم سب میں سے ذیادہ مستحق اللہ کے نبی ہوتے اور مہر ذیادہ رکھتے۔,میں نہیں جانتا کہ اللہ کے نبی نے اپنی ازواج میں سے کسی سے نکاح کیا ہوا یا اپنی بیٹی کا نکاح /اوقیہ چاندی سے زیادہ پر کیاہو۔(سنن ترمذی)
مطلب یہ ہے کہ مہر کو مرد کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہئے۔ محض نام ونمود کے لئے بڑی بڑی رقمیں طے کرلی جاتی ہیں۔ اگر یہ نقد ادا کردی جائے تو افضل ہے اور اگرادھار ہے اور نیت دینے کی نہ ہوتو دونوں صورتوں میں وہ گنہگار ہوگا۔ چنانچہ روایت میں آتاہےکہ ”جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور نیت یہ رکھی کہ وہ مہر نہیں دے گا تووہ زانی مرے گا“ کنزالعمال)مندرجہ بالا باتوں سے شریعت میں مہر کی اہمیت، حیثیت اور ضرورت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ عدم ادائیگی کی صورت میں انجام بھی معلوم ہوجاتا ہے۔
مسنون مہر:
مہر ام سلمیٰ رضی اللہ عناا:
حضرت ام سلیٰل رضی اللہ عنہا کا مہر10 درہم کا کوئی سامان تھا۔ اس لئے دس درہم یااس کی قیمت کم سے کم مہر ہے،اور10درہم کا وزن2تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہے، اور موجودہ وزن کےاعتبارسے اس کی مقدار 30 گرام618/ملی گرام چاندی ہوتی ہے۔یہ مہر معاشی اعتبار سے کمزورطبقہ کے لئے مسنون ہے۔
مہرِفاطمی:
آ پ ﷺ کی صاحبزادیوں اور اَکثر اَزواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی مہریں پانچ سو درہم تھیں، جس کی مقدار ڈیڑھ کیلو 30گرام900ملی گرام چاندی ہے۔یہ مہر معاشی اعتبارسے متوسط طبقہ کے لئے مسنون ہے۔
مہرِ ام حبیبہ:
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا مہر چار ہزار درہم یاچارسودینارتھا، جسے نجاشی بادشاہ نے اپنی طرف سے ادا کیا تھا، اس کی مقدار12کلو 244گرام944ملی گرام چاندی ہے۔یہ مہر مالدارترین لوگوں یعنی کروڑپتیوں کے لئےمسنون ہے۔ اوران لوگوں کے لئے بھی جو جہیز کی ڈمانڈ کرتے ہیں۔ یانقدروپئے لیتے ہیں۔تو ایسے لوگوں کے لئے مہر ام حبیبہ متعین کردیاجائے۔
مہر ِامِ کلثوم:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام کلثوم سے نکاح کیااورچالیس ہزاردرہم مہر متعین کیا۔ جو مہر فاطمی سے اسی گنازیادہ اورمہر ام حبیبہ سے دس گنا زیادہ ہوتاہے،جو تقریباایک سو بیالیس کیلوچار سو بہتر گرام 122.472چاندی ہوتاہے۔یہ مہربادشاہ، صدرملک، وزیراعظم وزیراعلیٰ گورنراور ارب پتی و کھرب پتیوں کے لئے مسنون ہے۔
مہر کی کم سے کم مقدار:
مہر کی کم سے کم مقدار حنفیہ کے نزدیک دس درہم ہے ، ( بدائع الصنائع )کیوں کہ حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا کا مہر دس درہم کے برابر تھا، اوراس سے کم آپ ﷺ کی کسی بیوی یا بیٹی کا مہر مقررنہیں کیاگیاہے۔اگر کسی شخص نے دس درہم سے بھی کم مہر مقرر کیا ، تو اس کا اعتبار نہیں ، ایسی صورت میں بھی کم سے کم دس درہم کے بقدر مہر واجب ہوگا ، (درمختار) کیوںکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ مہر دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہئے۔ ( سنن بیہقی )
مہر کی زیادہ سے زیادہ مقدار:
علمائے کرام کااس پر اتفاق ہے کہ زیادہ سے زیادہ مہر کی کوئی مقدار متعین نہیں ؛ کیوںکہ قرآن مجید میں ہے:اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو اور تم ان میں سے ایک کو ڈھیر سارا مال دے چکے ہوتب بھی اس میں سے کچھ واپس نہ لو ، کیا تم بہتان رکھ کر اور کھلا ہوا گناہ کرکے اسے واپس لے لینا چاہتے ہو ؟ (سورةالنسا)
اس آیت کریمہ میں مہر کے لئے ’ قنطار ‘ کا لفظ وارد ہوا ہے ، جس کے معنی بہت زیادہ مال کے ہیں۔( تفسیربغوی )حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے دورِ حکومت میں 40اوقیہ چاندی (تقریباً 450تولہ چاندی) کی حد مقرر کرنا چاہتے تھے کہ اس سے زائد کوئی مہر طے نہ کرے؛ لیکن اس نشست میں ایک عورت نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ٹوک دیا اور کہا کہ اللہ کی تعلیمات کے خلاف فیصلہ کرنے کا آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے؟ جب کہ اللہ کا ارشاداس کے خلاف ہے، اوراس نے قرآن کریم کی اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔اس دلیل کو سن کر حضرت عمر نے فرمایا: ایک عورت نے صحیح بات کہی اور مرد غلطی کرگیا۔
آپ ﷺ نے اپنی ایک بیوی یعنی ام سلمیٰ رضی اللہ کامہر دس درہم کے برابربھی مقررفرمایا اور ایک دوسری بیوی یعنی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مہر چارہزاردرہم بھی مقررہوا۔تاہم آپ کی ازواج مطہرات اوراپنی بیٹیوں کا مہر عام طورپر پانچ سو درہم تھا۔ (مسلم عن ابی سلمہ ) اسی طرح راجح یہی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر بھی پانچ سو درہم ہی تھا ، (موسوعة حیاة الصحابیات ) مشکوٰة شریف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے بارہ اَوقیہ (تقریباً 500 درہم) سے زیادہ مہر پر نہ خود نکاح کیا اور نہ اپنی صاحبزادیوں کا کرایا۔ (مظاہر حق / کتاب النکاح،سنن ابی داو¿د، سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ ، مشکاة المصابیح )لیکن جب اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو فراخی عطا فرمائی اور معاشی حالات بہتر ہوئے تو انھوں نے بھی زیادہ مہر مقرر کئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چار ہزاردیناریاچالیس ہزاردرہم پر حضرت ام کلثوم سے نکاح کیا، اوران کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی صاحب زادیوں کا مہر ایک ہزار دینار رکھتے تھے ، (دیکھئے : سنن بیہقی )۔
غرض کہ مہرعورت کاحق ہے، اس کااداکرناضروری ہے،اوراس کو مقرر کرنے میں اعتدال ہونا چاہئے ، مہر بالکل بے حیثیت بھی نہ ہو اوراتنا زیادہ بھی نہ ہوکہ شوہر کے لئے ادا کرنا ممکن نہ رہے۔
مہرکی ادائیگی:
نکاح کے وقت جو مہر طے کیاگیاہو اس کی ادائیگی مرد پر لازمی ہے۔ اس کو نکاح کے وقت ہی ادا کردینا چاہئے۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں ”معجل“ (عجلت سے) کہتے ہیں یعنی فوراً ادا کردیں۔ اور اگر مرد اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ فوری ادا کرے تو پھر یہ بات طے کرلی جائے کہ وہ کب، کیسے اور کس طرح ادا کرے گا۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں موجّل (ادھار) کہتے ہیں۔
مہر کی معافی:
اگر عورت خوشدلی سے مہر معاف کردے تومرد کے ذمہ سے مہر کی ادائیگی ساقط ہوجائے گی، البتہ اگروہ شرم کی وجہ سے یاشوہر کے رعب ودبدبہ یا رسم ورواج کی وجہ سے معاف کردے تو معافی نہیں ہوگی۔ اداکرناضروری ہے۔اگرمہر ادانہیں کیاگیا اور بیوی کاانتقال ہوگیا تو بیوی کے وارثین اس مہر کے مستحق ہوں گے۔اگرمہر ادانہیں کیاگیااورشوہر کاانتقال ہوگیا تو اس کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے حق مہر کو اداکیاجائے گا۔فقط



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں