تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 15 ستمبر، 2022

 کتابوں کا تاج محل صولت پبلک لائبریری!

کتابوں کا تاج محل صولت پبلک لائبریری!
کتابوں کا تاج محل صولت پبلک لائبریری!


88ویں یوم تاسیس پرخصوصی پیشکش!

    ازقلم۔۔۔۔۔۔۔محمدمحفوظ قادری،رامپوریو۔پی 9759824259

   مکرمی!اللہ رب العزت قرآن عظیم میں ارشادفرماتا ہے کہ’’بینااورنابینابرابرنہیں ہوسکتے،اندھیرااوراجالابرابرنہیں ہوسکتے،سایہ اوردھوپ برابرنہیں ہوسکتے ‘‘۔(سورئہ فاطرآیت۔19تا21)

  اسی طرح پڑھا لکھاانسان اورانپڑھ انسان برابرنہیں ہو سکتے۔جس طرح بینا نابیناانسان سے بڑا ہوا کرتا ہے اسی طرح اجالااندھیرے سے بڑا ہوا کرتا ہے اورسایہ دھوپ سے۔اسی طرح پڑھا لکھاانسان انپڑھ انسان سے بڑاہوا کرتا ہے۔اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے دوسرے مقام پرارشاد فرمایا’’کہ اہل علم سے سوال کرو جس بات کا تم کو علم نہیں ہے‘‘۔اسی لئے تعلیم حاصل کرنا ہرقوم ومذہب کے تمام لوگوں کی سب سے پہلی ذمہ داری ہے خاص طور سے قوم مسلم کی،اورقوم مسلم کا تو آغاز ہی اقراء سے ہوا ہے۔

   اب اس تعلیم کےحصول کے مختلف ذرائع ہو سکتے ہیں سب سے پہلا ذریعہ مدارس اسلامیہ ہیں پھراسکول،کالج اور یونیورسیٹیاں ہیں۔جب بچہ ان جگہوں پر تعلیم حاصل کر لیتا ہے اوراس کےاندر اپنی بات کو کہنے وسمجھانے اوردوسرے کی بات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے تواس کومطالعہ کا شوق بھی مزید بڑھنے لگتا ہے،اوروہ مطالعہ کیلئے لائبریریوں و کتب خانوں کی طرف رخ کرتا ہے جہاں وہ مختلف موضوعات وفن پر کتب کامطالعہ کرکے اپنی قوم ومعاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خاتمہ کی پرزور کوشش کرتا ہے۔کیونکہ تعلیم کو عام کرنے کاجوراستہ تعلیمی اداروں سے نکلتا ہے وہ کتب خانوں میں آکرمل جاتا ہے اوران دونوں کے باہمی تعاون سے ہی ملک اورمعاشرے میں علم کا اجالا پھیلتا ہے۔اورتاریکیاں چھٹنے لگتی ہیں۔

   علم کے ذریعہ ہے معاشرے سے پھیلی ہوئی برائیوں کاخاتمہ کیاجا سکتاہے۔لائبریریاں علوم وفنون اورمعلومات کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں ۔

   لائبریری’’لاطینی‘‘زبان کا لفظ ہے جو’’لائبر‘‘ سے بنا ہے۔لائبر کے معنیٰ کتاب کےآتے ہیں اور اس کو آسان جملہ میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ لائبریری اس جگہ کو کہتے ہیں کہ جہاں احکام الٰہی،فرمان رسول،کتابوں،اخباروں،رسالوں اور دیگر معلومات کا مواد فراہم کیا جاتا ہے۔اردو اورفارسی میں لائبریری کو ’’کتب خانہ‘‘ کہا جاتا ہے۔لائبریری ایک ایسی جگہ ہوتی ہے کہ جہاں کلام الٰہی کے نادرونایاب نسخے،احادیث رسول، محدثین،مفسرین کی تفاسیر۔ہزاروں سال کا علمی وفکری اثاثہ اورہزار ہا علم وادب سے تعلق رکھنے والوں کی قلمی کا وشوں کو جمع کیا جاتا ہے ساتھ ہی محققین کی تحقیقات،مصنفین ومترجمین کی کتب وتراجم،قلم کاروں کی تحریرکا سرمایہ،شاعروں،نثرنگاروں،ادیبوں اور خطیبوں کی قلمی محنتوں کا ثمرہ ایک چہاردیواری’’لائبریری‘‘میں دستیاب ہوتا ہے۔

    لائبریری ایک ایسی جگہ ہے جو جہالت سےعلم اوراندھیرے سے نور کی طرف نکال کر لےجاتی ہے۔یوں تو ہمارے وطن عزیز ہندوستان میں بہت سی لائبریر یاں و کتب خانے ہیں۔لیکن ہمارا یہ شہررامپور(یو۔پی)علم وادب کا گہوارہ کہلاتا ہے جسے غالب نے دارالسروربھی کہاہے یہ برصغیر کا وہ مردم خیز خطہ ہے جہاں محلہ محلہ عالم،صوفی،شاعراورطبیب علوم وفنون کی بے انتہا خدمت کرتے پائے گئے۔رامپور ریاست کا قیام 1774ء۔1188ھ۔میں عمل میں آیا اسی وقت سے یہاں علماء،صوفیاء،ادباءاورشعراء کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔1857ء تحریک آزادی کا سال جو پورے ملک کیلئے بے چینی وبےقراری کا تھالیکن رامپور کیلئے ترقی کا ضامن ثابت ہوا۔اُس وقت کے صاحبان علم وفن جن کو برصغیر میں کہیں بھی سر چھپانے کیلئے جگہ میسر نہیں تھی رامپور ان کیلئے جائے پناہ بنا امیر مینائی،غالب،داغ،تسلیم،منیر جیسے باکمال لوگ شمالی ہند سےسمٹ کررامپور میں جمع ہوئے۔اوررامپور(یو۔پی)’’بخارائے ہند‘‘کہلانے لگابقول امتیاز علی خاں عرشی ماہر غالبیات۔مشرقی علوم کی دانش گاہ مدرسہ عالیہ عالمی شہرت کا حامل تھا۔بانیان ریاست(رامپور)کا ذاتی کتب خانہ جوآج’’رامپوررضا لائبریری‘‘ کے نام سے جاناجاتا ہے ان کے علمی ذوق و شوق کی زندہ جاوید یاد گارہے اسی شہر میں مدارس،اسکول،کالج،یونیورسٹی کی موجودگی کے ساتھ ایک اور’’صولت پبلک لائبریری‘‘ہے اس لائبریری کو صولت علی خاں مرحوم نے ایثاروقربانی،خلوص اورقوم مسلم کا درد اپنے دل میں لئے ہوئے ساتھ ہی قوم مسلم کی ترقی وبقا کو پیش نظر رکھتے ہوئے 1934ء۔میں قائم کیا تھا۔

     صولت علی خاں کے والد کا نام عظمت علی خاں تھا۔آپ(صولت علی خاں)1894ء۔ میں رامپور میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اردو،فارسی اورقرآن شریف گھر پررہ کر پڑھا۔آگے کی تعلیم اسٹیٹ ہائی اسکول جواب(حامدانٹر کالج) کے نام سے جانا تاہے میں حاصل کی۔پھر کالونس تعلقدارکالج لکھنؤ میں تعلیم حاصل کی۔آپ کو شروع سے ہی مطالعہ کا شوق تھا اورقوم کی اصلاح کاجذبہ آپ کے دل میں موجزن تھا آپ نے تمام علوم وفنون پر کثیر کتب جمع کیں اسی دوران آپ رامپور مونسپل بورڈ کے1934ء۔ میں پہلے چیرمین منتخب ہوئے اوراسی سال باقاعدہ عوامی کتب خانہ کی بنیاد ڈالی جو آج ’’صولت پبلک لائبریری‘‘کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔یہ کتب خانہ ابتدا میں محلہ راجدوارہ میں افسر اعلیٰ کی کوٹھی پرقائم ہوا تھا۔اُس وقت کتب خانہ کا نام’’کتب خانہ عام‘‘ریاست رامپوررکھا گیا تھا۔لائبریری کی کثیر کتابوں پر آج بھی ’’کتب خانہ عام‘‘ کی مہریں دیکھنے کوملتی ہیں۔

    صولت علی خاں کا ذاتی کتابوں کا ذخیرہ جوانہوں نے’’کتب خانہ عام“ کو دیا تھا اس میں مذہبی،سیاسی،تاریخی،جدیدعلوم،اردو،فارسی،عربی،انگریزی ہر فن کی کتابیں موجودتھیں۔اِس کتب خانہ کی سرپرستی اُس وقت نواب رضا علی خاں کو دی گئی انہوں نےخوشی سے اس ذمہ داری کو قبو ل کیااورساتھ ہی آپ نے کتب خانہ کیلئے گرانٹ بھی ماہانہ پچاس روپے کےحساب سے چھہ سوروپےسالانہ مقرر کی۔لائبریری کے نام میں تبدیلی : 19/مارچ 1935ء۔ کو اتفاق رائے سے کتب خانہ سے بدل کر’’صولت پبلک لائبریری‘‘نام رکھ دیا گیا۔عمارت کی منتقلی:دن بدن کتابوں کی تعداد بڑھنے لگی شائقین علم وادب لائبریری کی طرف رجوع ہونے لگے تو جگہ کی تنگی کومحسوس کرتے ہوئے ذمہ دارافراد نے اتفاق رائے سے لائبریری کوراجدوارہ سے منتقل کر کے شاداب مارکیٹ کے برابر وَجّن خاں کے مکان پر منتقل کیا۔کچھ عرصہ کے بعد یہ مکان بھی لائبریری کیلئے چھوٹا محسوس کیاجانے لگا۔جیسا کہ نواب رضاعلی خاں لائبریری کی سرپرستی پہلے ہی قبول کرچکے تھے۔ 

    مولوی ضیاء اللہ خاں اورامتیاز علی خاعرشی کی دعوت پرپہلی بار6/نومبر 1935ء کو نواب رضا علی خاں لائبریری تشریف لائے۔اورلائبریری میں کتب علوم وفنون کے ذخیرہ کو دیکھ کر جناب صولت علی خاں صاحب اور آپ کے ساتھ دانشواران رامپور کے اس قدم کی تعریف کی جو آج بھی لائبریری کے رکارڈ میں محفوظ ہےاور جامع مسجد کے برابرحضورتحصیل کی بالائی منزل جس میں اس وقت لائبریری قائم ہے،لائبریری کیلئے وقف کی۔اوراپنے ذاتی کتب خانہ سے دوہزار پچیس مکررات صولت پبلک لائبریری کو دئے۔ان نوازشات کے ساتھ لائبریری نے دن بدن تیزی سے ترقی کی منازل طے کرنا شروع کردیں۔کتابوں کے ذخیرہ میں خاطرخواہ اضافہ ہونا شروع ہو گیاحافظ احمدعلی خاں شوق(مصنف تذکرہ کاملان رامپور) جو پہلے کتب خانہ سرکاری کے ناظم تھے ان کا ذاتی کتب خانہ بھی صولت پبلک لائبریری کو دےدیا گیا۔

     آج بھی صولت پبلک کی لائبریری کی کتابوں پر’’کتب خانہ خاص حافظ احمدعلی شوق‘‘عبارت تحریری ہے۔31/مارچ 1936ء۔تک کتابوں کی تعدادنوہزار تھی اُس وقت انتالیس اخبارات اورچودہ رسائل لائبریری آتے تھے لائبریری سے شائع روداد کےمطابق جن کا پچیس ہزارافرادنے مطالعہ کیا تھااس سے اہل رامپورکےعلمی ذوق ومطالعہ کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

    31/مارچ 1938ء۔اور24/مارچ 1939ء۔کے جلسہ عام کی رپورٹ کےمطابق مولوی خلیق احمدکے معتمدرہتے ہوئے عوام میں مطالعہ کا شوق تیزی سے بڑھ رہاتھا کیونکہ لائبریری ایک بڑی عمارت میں منتقل ہوچکی تھی۔1938ء۔میں آٹھ ہزار کتابوں کو عوام کے مطالعہ کیلئے جاری کردیاگیا تھا۔اُس وقت شہر ومقامی سرکردہ شخصیات کے علاوہ ملک وعالم گیر شخصیتوں کی لائبریری میں آمد ہورہی تھی۔ہر کسی نے اہل رامپورکےاس عظیم علمی کارمامہ’’صولت پبلک لائبریری‘‘کوخوب سراہا تھا۔

      خالد شیلڈرک(نومسلم مبلغ اسلام،باشندئہ لندن )مولانا سید ہاشمی فریدآبادی،خواجہ حسن نظامی،سرآغاں خاں،سیدسلمان ندوی،نیازفتحپوری،مولانا عبدالماجددریا بادی اورجوش ملیح آبادی۔قرۃ العین حیدر،پروفیسرغضنفرعلی وغیرہ جیسی علمی دوست شخصیات لائبریری کا معائنہ کر چکیں ہیں۔

      24/مارچ 1939ء۔کے اجلاس میں اُس وقت کےمعتمدمولوی خلیق احمد نے کہا تھا کہ آپ بہت جلد اس کتب خانہ کو ملک کے سب سے بڑے کتب خانہ کی شکل میں دیکھیں گے شرکائے اجلاس نے بیک زبان ’’آمین‘‘کی صدائیں بلند کی تھیں۔آپ کی یہ دعا قبول ہوئی بلاشبہ آج یہ لائبریری ملک کے بڑے کتب خانوں میں شمار کی جاتی ہے۔

     ستمبر1950ء۔میں اسٹوڈینٹس پبلک لائبریری(راجدوارہ)کا ذخیرئہ کتب بھی صولت پبلک لائبریری کو منتقل کردیا گیاجس کو اخلاق احمد نے قائم کیا تھا۔لائبریری میں کتابوں کی تعداد کا تعین مشکل ترین کام ہے یہاں تقریباًاَسّی(80)ہزارسے زائد کتب ہیں سب سے زیادہ کلکشن اردومطبوعات کا ہے،اس کے بعد انگریزی مطبوعات،اس کے بعد ہندی مطبوعات،پھر فارسی وعربی مطبوعات،عربی اورفارسی کے پانچ سو پچپن مخطوطات بھی ہیں۔

    یہ لائبریری صرف کتب خانہ ہی نہیں ہے بلکہ رامپور کی علمی،ادبی،ثقافی،سیاسی سر گرمیوں کا مرکزبھی ہے۔جس کے ذریعہ ادبی نشستوں کاباقاعدہ اہتمام ہوتاہے۔لائبریری کی یہ تاریخ رہی ہے کہ ادبی،تاریخی،معاشرتی،اخلاقی مضامین پڑھنے والوں کوان کی بہتر کارگردگی پرہمت افزائی کرکے لائبریری کی طرف سےان کوانعامات سے نوازہ جاتاہے۔21/ستمبر 2022ء۔کو لائبریری کوقائم ہوئے اٹھاسی(88)سال پورہے ہیں اوراٹھاسی ویں یوم تاسیس کی سرگرمیاں لائبریری میں نادرونایاب مخطوطات کی نمائش کے ساتھ شروع ہو چکی ہیں۔جدیدٹکنالوجی کےدورمیں آنے والوں کی تعداد میں افسوس ناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے اس کےباوجود کتب خانہ ملت کا علمی اثاثہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad