![]() |
| ”جلوس محمدی ﷺ کے آداب اور ہماری بے احتیاطیاں“ |
”جلوس محمدی ﷺ کے آداب اور ہماری بے احتیاطیاں“
مفتی غلام محمد ہاشمی مصباحی
نائب مدیر سہ ماہی پیغام مصطفیٰ اتر دیناج پور
اس میں کوئی دوراے نہیں کہ سرکار ابد قرارصلی اللہ تعالی علیہ وسلم تمام کائنات کے لیے سراپا رافت و رحمت اور عظیم نعمت ہیں۔جتنی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ساری کائنات کے لیے پیدا کی ہیں وہ آپ ہی کا صدقہ ہیں۔آپ ہی کے طفیل کائنات کی یہ بہاریں ہیں ۔ آپ نہ تھے تو کچھ نہ تھا ،آپ نہ ہوں تو کچھ نہ ہو، جان ہیں آپ جہان کی آپ ہیں تو جہان ہے۔ اور آپ کی ذات طیبہ دنیاو آخرت کی تمام دولت وثروت اور نعمتوں میں سب سے انمول ،انوکھی ،عظیم اور بے مثل و بے مثال ہے ۔
ولادت طیبہ کے پر بہار اور بابرکت موقع پر دنیا بھر کے لوگ اپنی اپنی بساط اور وسعت کے مطابق خوشیاں مناتے اور مسرتوں کا اظہار کیا کرتے ہیں ،عید میلاد مناتے ہیں،گھروں ،دکانوں ،اور مکانوں کو برقی قمقموں اور بجلی کے بلبوں سے سجاتے ہیں اور غریبوں ،یتیموں اور مسکینوں کو کھانا بھی کھلاتے ہیں ۔مسرتوں کے اظہار اور ان کے اعلان کے ہمارے دیار میں یہ جتنے طریقے پاے جارہے ہیں نہ صرف یہ کہ جائز و مستحسن ہیں بلکہ باعث سعادت اخروی اور نجات کا سبب بھی ہیں۔ جلوس محمدی بھی اسی سلسلے کی ایک اہم اور مضبوط کڑی ہے جو تقریبات میلاد نبوی کا ایک انوکھا اورعمدہ حصہ بن چکا ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا یہ عمل بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی بہت میٹھی اور محبوب سنت ہے۔یہ اس صدی کا ایجاد کردہ نہیں ہے۔عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی جلوس نکالے جاتے تھے ،جن میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین شریک ہوا کرتے تھے ۔
کتب سیر واحادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لے جانے کا حال بڑے پیارے اور انوکھے انداز میں لکھا ہوا ہے:
مورخین لکھتے ہیں کہ جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی توقع ہوتی مدینہ کے مرد وعورت اور بچے وبوڑھے سب استقبال کے لیے مقام قبا میں جمع ہوجاتے،یہاں تک کہ جس روز ہجرت کی مسافتیں طے کرکے سچ مچ آپ اپنا میٹھا مدینہ تشریف لے آئے تو اس دن اہالیان مدینہ کی مسرتیں اور شادمانیاںقابل دید تھیں۔ہر چہار جانب چہل پہل تھا۔اس وقت مدینہ منورہ کے کیف و سماں کا حال ہی کچھ اور تھا ۔
صحیح مسلم میں ہے :
فیصعد الرجال والنساء فوق البیوت،وتفرق الغلمان والخدم فی الطرق،ینادون:یا محمد!یا رسول اللہ !یا محمد! یا رسول اللہ!
مرد وزن گھروں پر چڑھ گئے،بچے اورخدام راستوں میں پھیل گئے،اور سب بآواز بلند یا محمد ! یا رسول اللہ!یا محمد ! یا رسول اللہ! کہ رہے تھے۔[صحیح مسلم،کتاب الزھد ،باب فی حدیث الھجرۃ،ج:2،ص:419]
مسند الصحابۃ للرویانی میں ہے:مدینہ کے لوگ جلوس کی شکل میںــ جاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،،[یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاچکے ]کا نعرہ لگا رہے تھے ۔[مسند الصحابہ ،ج :1،ص :138،حدیث:329]
المواھب اللدنیہ میں ہے: معصوم بچیاں اور اوس وخزرج کی عفت شعار دوشیزائیں دف بجا رہی تھیں ،اور طلع البدر علینا کی صدائیں بلند کررہی تھیں [المواھب اللدنیہ للقسطلانی ،ج:۱،ص:634]
مذکورہ عبارات سے واضح ہے کہ جلوس محمدی کی جو ایک خوب صورت اور حسین شکل آج کے زمانے میں پائی جارہی ہے یہ آج کی نئی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس کا سلسلۃ الذہب اہالیان مدینہ منورہ کے اس تاریخی سلسلے سے جا ملتا ہے جو صدیوں پرانا ہے ۔جلوس محمدی کی افضلیت و اہمیت بہت نمایاں ہے اور اس کے فوائد ومنافع حد شمار سے باہر ۔کلام مجید میں بھی اس کا ثبوت موجود ہے اور احادیث نبویہ بھی اس کے ذکر سے مالا مال ہیں ؛اس لیے ہم مسلمانان عالم بڑے اخلاص و للہیت اور خوش دلی کے ساتھ ہرسال جلوس محمدی بڑے آن بان کے ساتھ نکالا کرتے ہیں ۔اس کے فیوض وبرکات سے اپنے آپ کو شادکام کرنے اور اس میں شریک ہوکر اپنا خوابیدہ مقدر جگانے کی کوشش کرتے ہیں،اس سے جہاں ہمارا ظاہر سجتا اور سنورتا ہے وہیں ہمارے باطن کو بھی روشنی ملتی ہے اور ہمارے ایمان و ایقان میں مزید مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔
جلوس میں شرکت کے آداب :
چوں کہ یہ جلوس وجہ تخلیق کائنات جان موجودات صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی جانب منسوب ہوتا ہے،اس سے آپ کی رفعت وعظمت اور ہمالیائی شان دنیا کو بتانا مقصود ہوتا ہے ،یہ عام جلوس نہیں، اس کا مقام دنیاوی تمام جلوس سے ممتاز اور منفرد ہے ؛اس لیے اس میں شرکت حاصل کرنے کے لیے ہمیں اس کی شایان شان اہتمام کرنا چاہیے اور اس کے آداب اور تقاضوں کا خصوصی لحاظ رکھنا چاہیے۔اس کے کچھ آداب اور تقاضے ہیں جن کی رعایت ہر شریک کے اوپر بہت ضروری ہے ۔
ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
[۱]جلوس میں شامل ہونے والے تمام اسلامی بھائی پہلے غسل کرلیں پھر نئے یاصاف ستھرے خوب صورت کپڑے زیب تن کریں ۔عمامہ ہو تو عمامہ اور آنکھوں میں سرمہ لگالیں اور خوش بوو عطر ہو تو اسے بھی بدن اور کپڑے میں مل لیں ۔
[۲]ظاہری تعطر اور عطر بیزی کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی معطر اور خوش بودار بناے رکھیں تو اچھا ہے۔
[۳]جہاں تک ہوسکے پورے جلوس میں باوضو رہیں اگر بیچ میں وضو ٹوٹ بھی جاے تو موقع ملتے ہی وضو کرلیا کریں۔
[۴]جلوس نام ونمود اور دکھاوا کے لیے نہ ہو بلکہ اس معاملے میں صرف اور صرف محبت رسول کا جذبہ کار فرما ہو۔[۵]دل کی پاکیزگی اور صفائیِ قلب کے ساتھ شرکت کریں۔ شرکت سے مقصود جلوس اور صاحبِ جلوس کی روحانیت اور ان کے فیوض وبرکات کی تحصیل ہو اس سے ہٹ کر کوئی دوسرا لایعنی مقصدنہ ہو۔
[۶]جلوس کشادہ اور بڑے سڑکوں پر نکالے جائیں تاکہ راہ گیروں کو کسی طرح کی کوئی تکلیف نہ ہو ،ہاں اگر چھوٹے راستوں اور گلیوں سے گزارنا ہی ہو تو راستہ بالکل جام نہ کریں گزرنے والوں کو گزرنے کا موقع دے دیں ۔
[۷]چھوٹوں پر شفقت کریں اور بزرگوں کا بے حد احترام کریں ۔
[۸]دوران جلوس سگریٹ نوشی اور دیگر منشیات سے اجتناب کریں ۔
[۹]اپنی زبان ذکر واذکار اور بالخصوص نعت نبوی میں مصروف رکھیں ۔
[۱۰]نعرہ متوسط آواز میں ہو بتکلف بلند آواز نکالنے کی ضرورت نہیں ۔
[۱۱]دوران جلوس اگر نماز کا وقت آجاے تو پہلے نماز ادا کرلیں ،اس میں ہر گز غفلت نہ برتیں ؛کیوں کہ نماز فرض ہے اور جلوس نکالنا کار مستحسن اور امر ثواب۔ ایک مستحسن کام کی وجہ سے فرض کو ترک کرنا ہوش مندی نہیں ہے ،یہ نہ تو شرعا جائز ہے اور نہ ہی عقلا روا۔
[۱۲]مٹھائی اور تبرکات کی تقسیم کے وقت ادب واحترام کا خاصا لحاظ رکھیں ۔
[۱۳]جلوس کو ذکر رسول کی بنا پر عبادت سمجھیں ،ہنسی مذاق،گالی گلوج اور بیہودہ حرکات سے پرہیز کریں ،نیز اگر کسی سے کوئی تکلیف پہنچے تو عفو درگزر اور صبرسے کام لیں ۔
[۱۴]راستے میں بڑے سلیقے اور ترتیب کے ساتھ ہلکے ہلکے قدموں پر باوقار چلتے رہیں ۔ہماری سلیقہ مندی ،یگانگت وہم آہنگی اور طرز روش ایسا دیدہ زیب اور دلکش ہو کہ دیکھنے والا دیکھ کر اسلام اور بانی اسلام کا گرویدہ ہوجاے اور اس بات کے اعتراف پر مجبور ہوجاے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے عام ہے۔
جلوس محمدی میں غیر شرعی حرکات اوربے احتیاطیاں:
یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ اس وقت جلوس محمدی کے حوالے سے ہم میں جو بیداری آئی ہے وہ ماضی قریب کی بنسبت کئی فی صد زیادہ ہے یہ بہت ہی سعادت اور فیروز مندی کی بات ہے ۔مگر اس حقیقت سے بھی انکارنہیں کیا جاسکتاکہ جذبات و شوق کی اس بیداری اور حوصلوں کے اس عروج وارتقاکے ساتھ ساتھ کچھ ایسی بے احتیاطیاں اور غیر شرعی حرکات اس میں پائی جارہی ہیں جس کی بنا پر جلوس کا تقدس پامال ہورہا ہے ،اس کی روحانیت رخصت ہورہی ہے اور ہم بہت کچھ کرنے کے باوجود بے فیض اور محروم ہوکر واپس لوٹ رہے ہیں ،بد قسمتی سے یہ کچھ نازیبا اور غیر مناسب افعال ہمارے موجودہ جلوس میں در آے ہیں۔ ان غیر شرعی اور نامناسب کاموں سے جلوس کو پاک کرناہمارے لیے بہت ضروری ہے ورنہ ہم اپنے مقصد میں سرخرو نہ ہوسکیں گے،جلوس کی بے ادبی کا وبال بھی ہمارے سر آے گاساتھ ہی جلوس محمدی کے زریعے جو پیغام عالم اسلام کو پہنچانا ہے وہ ان تک نہ پہنچ سکے گا۔
مختلف دیار وبلاد میں جو نازیبا اور غیر شرعی افعال جلوس کا حصہ بنتے جارہے ہیں ان کی کچھ تفصیل اس طرح ہے:
[۱]آلات لہو ولعب خصوصا ڈی جے کا استعمال،جب کہ ڈی جے کی آوازکی تندی اور اس کا دھرتی ہلادینے والا مکروہ شور ہی جلوس کے وقار کو پامال کرنے لیے کافی ہے ۔
[۲]جدید ٹیکنا لوجی اور ذرائع ابلاغ کے توسط سے یہ خبر بھی آے سال ملتی رہتی ہے کہ بعض علاقوں میں ڈھول اور باجے بھی شامل کیے جارہے ہیں ۔
[۳]بعض مقامات میں جلوس کی گاڑیوں میں فلمی ریکارڈنگ ہوتی ہے نوجوان لڑکے اس کے دھن میں ناچتے اور رقص کرتے ہیں ۔
[۴]نعرہ لگاتے وقت اچھل کود کرتے اور غیر مناسب انداز میں اعضا ےجوارح کو حرکت دیتے ہیں ۔
[۵]راستوں کو جام کرکے راہ گیروں کو روکے رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمارے وقاراور عظمت شان میں اضافہ ہوگا حالاں کہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۔
[۶]بعض شہروں اور قصبوں میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ جلوس گلیوں اور تنگ راستوں سے گزررہا ہوتا ہے نوجوان عورتیں اور لڑکیاں گھروں کی کھڑکیوں اور چھتوں سے جلوس کے شرکا پر پھول نچھاور کرتی اس سے نوجوان لڑکے خلافِ اخلاق حرکتیں کرتے ہیں جو جلوس کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
[۷]دوران جلوس غیر مہذب انداز میں تبرکات اور مٹھا ئیوں کاتقسیم کرنا بھی ہماری بے احتیاطیوں کا ایک حصہ ہے۔ مٹھا ئیاں تقسیم نہیں کی جاتیں بلکہ لوگوں کے سروں پر مٹی کے ڈھیلوں کی طرح پھینک دی جاتی ہیں،لوگ انھیں لینے کے لیے بے انتہا شور و غوغا کرتے ہیں ،ہنگامہ آرائی ہوتی ہے اور نہ جانے کتنی مٹھائیاں اور تبرکات ہاتھوں سے چھوٹ کرپیروں کے نیچے آجاتی ہیں۔
[۸]سب سے بڑی بے احتیاطی اس باب میں اس میں ہوتی ہے کہ دوران جلوس نماز کا وقت آجاتا ہے اور ختم بھی ہوجاتا ہے اس کے باوجود جلوس روکا نہیں جاتاچلتا رہتا ہے ۔اوربعض علاقوں میں تو ایسا ہے کہ صبح سے لے کر عصر یا مغرب تک جلوس جاری رہتا ہے واپسی پراگر ان سے پوچھیے کہ ظہر وعصرآپ نے پڑھی ہے یا نہیں ؟تو جواب ملتا ہے کہ نہیں پڑھی ہے ،یا یہ کہ وقت ہی نہیں مل پایا۔ اس طرح کے بہت سارے غیر موزوں اور نامناسب اعمال ہیں جو ہماری عدم توجہی اوربے احتیاطیوں کا نتیجہ ہے۔
اصلاح کا طریقہ :
ان غیر شرعی کاموں اور خرافات کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو جلوس کے آداب بتاے جائیں۔اس میں پائی جانے والی موجودہ خامیوں کی نشان دہی کی جائے ۔جلوس کے آداب پر مشتمل پمفلٹ ،لیٹریچرس اور اشتہارات لوگوں کے مابین تقسیم کیے جائیں ۔ربیع النور کی بارہویں تاریخ سے پہلے علما وخطبا اور ارباب فکرو نظراکثر اسی کو عنوان خطاب بنائیں ۔
ہر گاؤں اور محلے میں کچھ افراد اگر تبلیغ کے لیے پہنچ جائیں یا ہر محلے سے کچھ باذوق اور حساس نوجوانوں کو جلوس کی حفاظت کی ذمہ داری دے دی جاے،اور وہ نوجوان اپنے اپنے محلے کی ذمہ داری سنبھال لیں تو کامیابی بہت حد تک متوقع ہے۔اللہ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو توفیق خیر سے نوازے،اور تمام خرافات و واہیات سے بچنے کی قوت عطا کرے۔آمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوات واکمل التسلیم۔



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں