تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 4 اکتوبر، 2022

میلادکیاہےاوردورحاضرمیں محفل_میلادکیسےمنعقدکریں

میلادکیاہےاوردورحاضرمیں محفل_میلادکیسےمنعقدکریں
 میلادکیاہےاوردورحاضرمیں محفل_میلادکیسےمنعقدکریں 


 میلادکیاہےاوردورحاضرمیں محفل_میلادکیسےمنعقدکریں 

    ولادت رسول ﷺ کی محافل کا انعقاد امر مستحسن اور باعث خیر و برکت ہے. یہ اس صدی کی ایجاد اور پیداوارنہیں بلکہ صدیوں سے خوش عقیدہ مسلمانوں کے درمیان اس کے انعقادکی روایت تسلسل کے ساتھ جاری وساری ہے.

 یوں توعرب وعجم تمام بلاد اسلامیہ میں تقریبا پورا سال ولادت رسول مقبول ﷺ کی محافل،مجالس اوراجتماعات منعقدہوتے رہتے ہیں.لیکن ماہ ربیع الاول جسے محبت کی زبان میں ربیع النور بھی کہاجاتا ہے اس مقدس مہینے کی آمد پر عاشقوں اور غلاموں کی خوشیوں کی کیفیت کچھ اور ہی ہواکرتی ہے. ہرچہار جانب فرحت وانبساط کے شادیانے بجنےلگتےہیں.کیا بچےکیا جوان ؟ کیا چھوٹے کیا بڑے؟سب کے دلوں میں مسرتوں اور شادمانیوں کا ایک جہان آباد ہوجاتاہے.

      بڑےتزک واحتشام اوربہتر اہتمام وانتظام کے ساتھ جان  دوعالم ﷺ کی ولادت باسعادت کی محافل و تقریبات کا انعقاد عمل میں آتا ہے.شہر ،گاوں، گلی، کوچہ ،گھر اور آنگن وغیرہ کو خوب سجایا سنوارا جاتا ہے. 

    پیکر نوری کے شکل بشری میں جلوہ گر ہونے پر منعم حقیقی کے حضور تشکروامتنان کےحسین گلدستے پیش کیےجاتے ہیں.گھر گھر چراغاں ہوتا ہے.خاص بارہویں تاریخ جو ولادت رسول ﷺ کی تاریخ ہے بڑے شوق سےجھنڈے لہراے جاتے ہیں. مشعل بردار جلوس نکالے جاتے ہیں.درود وسلام کے لاہوتی نغمات اور مرحبا مرحبا کی صداوں میں آمد رسول ﷺ کے  پرتپاک نعرے لگاے جاتے ہیں. 

    حضور ﷺ کے فضائل ومناقب، خصائص و شمائل، اوصاف ومحامد اور اسوہ حسنہ سے پورے جہان کو متعارف کرانے کی اچھی کوششیں کی جاتی ہیں. اور اس موقع سےتقریباً دنیا بھرکےمسلمان اپنےمخصوص رنگ وڈھنگ میں شادمانیوں اور خوشیوں کا اظہار کیاکرتے ہیں اور حسب توفیق نذر ونیاز لنگر وسبیل کا اہتمام بھی کرتے ہیں. 

    ہاں ہر ملک کی تہذیب وثقافت  چوں کہ ایک جیسی نہیں بلکہ مختلف اور جداگانہ ہےاس لیےسب اپنی اپنی تہذیب وثقافت اور کلچر کے اعتبار سے ہی اپنے اپنےجذبات کا اظہار کیاکرتے ہیں. چناں چہ بلادعربیہ میں ولادت رسول ﷺ کی متبرک محافل کو زیادہ تر مولد یا پھر مولود النبی ﷺ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جب کہ ہمارےیہاں میلادالنبی، جشن عید میلادالنبی .جشن ولادت اور جشن آمدرسول وغیرہ مبارک ناموں سے منسوب کرتے ہیں.



     ولادت کا معنی:

     ولادت،میلاد،مولداورمولود یہ سب خالص عربی الفاظ ہیں جن کامادہ اشتقاق ولد ہے. 

`لغت کی مشہور کتاب تاج العروس میں ہے:

`المیلاد:وقت الولادۃ.

ترجمہ:

`میلاد ولادت وپیدائش کے وقت کو کہا جاتا ہے. (تاج العروس)

`لسان العرب میں ہے:

`میلاد الرجل:اسم الوقت الذی ولد فیہ.ترجمہ:انسان کا میلاد اس وقت کا نام ہے جس میں اس کی پیدائش ہوتی ہے. (لسان العرب) 

    `اور کتب حدیث میں تولفظ مولد کثرت سے واقع ہے لیکن بعض کتابوں میں لفظ میلاد بھی آیاہے جیساکہ امام ابوعیسی ترمذی نے اپنی"الجامع الصحیح" میں ایک باب ہی باندھا ہے جس کا عنوان باب ماجاء فی میلاد النبی ﷺ ہے.

      امام ترمذی کے اس عنوان باب سے یہ واضح ہوگیا کہ میلاد کی اصطلاح جو ہمارے یہاں ہر خاص وعام کی زبان زد ہے یہ کوئی اختراع یا پھر من گھڑت نہیں بلکہ جامع ترمذی جیسی مستنداور معتبر کتاب میں بھی  یہی معنی بیان ہواہے.اس کے باوجوداگرکو ئی اسےبدعت( بدعت سیئہ)کہے لاریب وہ بڑاجاہل، تنگ نظراور سخت متعصب ہے.جس کی سمجھ دانی مکمل فیل اور عقل ماوف ہوچکی ہے.اللہ تعالی ایسوں کوہدایت عطافرماے. 

    ہم اپنی اس مختصر سی تحریر میں میلاد کے استحسان وجواز،اس حوالے سےاسلاف کےنظریات و روایات، میلاد کے مقاصد وبرکات،اور پھر یہ کہ ولادت رسول کی محافل کا انعقاد کیسے کریں؟ ا ن کے آداب اور تقاضے کیا ہیں؟ انہی چیزوں پرتھوڑی سی روشنی بکھیرنے کی کوشش کریں گے. وماتوفیقی الا باللہ.الیہ المستعان وعلیہ التکلان.



    میلاد کا ذکر قرآن حکیم میں:

     ﷲ عزوجل نےحضرت یحییٰ علیہ السلام کی نسبت ارشاد فرمایا:

    "وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠".

    ترجمہ: اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن فوت ہوگا اورجس دن زندہ اٹھایا جائے گا. (  سورہ مریم، آیت: (15)

    وہیں دوسرے مقام پر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت ارشادفرمایا:

     "وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا".

    ترجمہ: اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گااور جس دن زندہ اٹھایا جاوں گا( مریم، آیت: 33) 

    مذکورہ آیات میں دیکھیے کہ یوم ولادت پر سلام بھیجا بھی جارہاہے اور سلامتی کی دعا بھی کی جارہی ہے.

    اس سےثابت ہورہاہے کہ انبیاےکرام علیھم الصلوۃ والسلام کی ولادت، وفات اور بعث بعد الموت غیرمحقق اور معمولی نہیں ہےبلکہ نص قطعی سے ثابت ہے اوران کی اہمیت بہت بڑی اور عظیم ہے. اورکیوں نہ ہو؛ کیوں کہ رب تعالیٰ نےان کا اکرام بیان فرمایا ہے.

    جب ان کا یہ حال ہے تو سید الانبیاو المرسلین ﷺ کے یوم ولادت کی اہمیت وافادیت اور تاریخی حیثیت کتنی عظیم اور دل نشیں ہوگی.بلاشبہ دل بینا رکھنے والا کوئی بھی فرد بشراس کا انکار نہیں کرسکتا.جب کہ آپ ﷺ کی سارے انبیا کے درمیان امتیازی خصوصیت اور نرالی شان یہ ہے کہ ارشاد ہوا:

    "اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا"

     ترجمہ: بےشک ﷲ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو(الاحزاب، آیت: 56)

    اس آیہ کریمہ میں" یصلون" مضارع کا صیغہ ہے جو دوام واستمرار کا معنی دیتا ہے.

     اس سے معلوم ہوا کہ مصطفیٰ جان رحمت ﷺ پر باری تعالیٰ ہمیشہ درود بھیجتاہے.فرشتے بھی بھیجتے ہیں اور مومنوں کو بھی بھیجنے کا حکم دیا گیانیزیہاں درود کے ساتھ سلام بھی ہے.

    جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اتنی عظیم ہے اور آپ کی ذات ستودہ صفات حضرت یحیی وعیسی بلکہ تمام انبیا سے بڑھ کر ہے تو آپ کی میلاد منانے میں بھلا کیسے اعتراض ہوسکتا ہے؟اللہ تعالی کم فہموں کو سمجھ عطافرماے.

    دن اور تاریخ متعین کرنا قرآن سے ثابت ہے:

    رہی بات خصوصیت کے ساتھ کسی دن یاتاریخ کے تعیین کی تو واضح رہے کہ یہ بھی قرآن سے ثابت ہے: 

    ارشاد رب رحمان ہے:

    "وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِؕ". 

    ترجمہ:اور انہیں اللہ کے دن یاد دلا.( ابراہیم، آیت: 5)

    بعض مفسرین وشارحین کی تفسیر کے مطابق "ایام ﷲ" سےمراد انعام باری تعالیٰ کے ایام ہیں. 

    صدرالافاضل بدرالاماثل علامہ سیدمحمدنعیم الدین مردآبادی علیہ رحمۃ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں:

    ان ایام ﷲ میں سب سے بڑی نعمت کے دن،سید عالم ﷺ کی ولادت و معراج کے دن ہیں ان کی یاد قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے.( خزائن العرفان) 

    فہم و دانش رکھنے والاہر انسان یہ جانتا ہے کہ ہم ﷲ کی نعمتوں کا احصاوشمار نہیں کرسکتے.رب تعالی نے ہمیں بے شمار نعمتوں اور رحمتوں سے نوازا ہےاس کےباوجود اس نےکسی نعمت پر احسان نہیں جتایا لیکن جب اپنے حبیب ﷺ کی بعثت کی باری آئی تو"لقد" کے ذریعےاحسان جتایااور فرمایا:

    "لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا؛ الیٰ آخرآیۃ 

    ترجمہ:بےشک ﷲ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے(آل عمران،آیت:262)

    اس آیہ کریمہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:

    منت: نعمت عظیمہ کو کہتے ہیں اور بےشک سید عالم ﷺ کی بعثت نعمت عظیمہ ہے. کیوں کہ خلق کی پیدائش جہل وعدم درایت وقلت فہم و نقصان عقل پر ہے تو ﷲ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو ان میں مبعوث فرماکر انہیں گمراہی سے رہائی دی اور حضور کے بدولت انہیں بینائی عطا فرماکر جہل سے نکالا اور آپ کے صدقے میں راہ راست کی ہدایت فرمائی اور آپ کے طفیل میں بے شمار نعمتیں عطا کیں.( خزائن العرفان)  پتہ چلا کہ ساری نعمتیں طفیلی ہیں سواے ذات رسالت ﷺ کےبلکہ درست یہ ہےکہ حضور ﷺ بنی آدم ہی نہیں جمیع مخلوق کے حق میں ﷲ عزوجل کی عطا سے فضل واحسان اورعظیم نعمت ورحمت ہیں. اورآپ کی ولادت وآمد پر خوشیاں منانا،چراغاں کرنا، محافل و مجالس کا انعقاد کرنا یہ بھی عین فرمان الٰہی کے تحت ہے: کیوں کہ خود رب کریم کا فرمان رحمت نشان ہے:

    قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕهُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ 

    ترجمہ:تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ( خوشیوں میں خرچ کرنا) ان کےان سب دھن دولت سے بہتر ہے جو ان کے پاس جمع ہیں. ( سورہ یونس، آیت: 58)

     فضل ورحمت سے جہاں دین اسلام اور قرآن کی تفسیر کی گئی ہے وہیں مفسرین عظام نے آپ ﷺ کی ذات بابرکت کوبھی مرادلیا ہے. اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن اوردین اسلام  رب کےفضل ورحمت کی شکل میں بعد میں ہیں ازیں قبل آپ ﷺ کی ذات ستودہ صفات ہیں.

     یوم ولادت منانا رسول ﷺ سے عمل مبارک سےثابت ہے

    صحابی رسول ﷺ حضرت ابوقتادہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

    کہ حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیاکہ آپ پیر کو روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:یوم ولدت فیہ ویوم بعثت او انزل علی فیہ ترجمہ: اسی روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز میری بعثت ہوئی اور اسی روز میرے اوپر قرآن نازل کیا گیا.(صحیح مسلم،کتاب الصیام)

     اس حدیث پاک میں واضح طور پر موجود ہےکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےاپنی ولادت کے دن روزہ رکھا.یوم ولادت منانے کا آپ کا یہ انوکھا اندازتھا.بہرحال ولادت رسول پرخوشی منانااس حدیث سے تو ثابت ہوچکا.اور روزہ رکھ کرکے آپ نے یہ بتادیا کہ ہرجائز ومستحسن اور نیک کام کر کے اپنی مسرت کا اظہار کیا جاسکتا ہے. 

    لیکن اس کے باوجوداگر کوئی دیدہ کور یہ کہے کہ امت کو بھی روزہ ہی رکھنا چاہیے کیوں کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے روزہ ہی رکھا تھا تو اس کم فہمی کا جواب یہ ہے:

    جماعت اہل سنت کے ایک ممتاز عالم دین حضرت علامہ مشتاق نظامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ اس سے اسی فعل کی تخصیص مقصودنہیں ہوتی بس یہی کہاجاے کہ اس سےاصول وضابطےآئین ودستور جنم لیتے ہیں بلکہ وہی فعل مقیس علیہ بنتا ہے اور دوسری چیزوں کو اسی پر قیاس کیا جاتا ہے"

    میلاد کیا ہے؟

    امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ(متوفیٰ 1505ھ) حسن المقصدفی عمل المولد میں فرماتے ہیں:

        "ان اصل عمل المولد الذی ھو اجتماع الناس وقراۃ ما تیسر من القرآن وما وقع فی مولدہ من الآیات الیٰ آخرالعبارۃ  

    ترجمہ:بلاشبہ میلاد شریف کی اصل جوکہ لوگوں کا جمع ہوکر بقدر سہولت قرآن خوانی کرنا. ان روایات کا تذکرہ کرنا جو آپ ﷺ کے بارے میں منقول ہیں (یعنی آپ کی ولادت مبارکہ کےواقعات ،آپ کے معجزات، فضائل وکمالات، اور تصرفات واختیارات وغیرہ)، لوگوں کی ضیافت کے لیے دستر خوان پھیلانااور ان کااس پر کسی زیادتی کے بغیر لوٹ جاناہے.اور یہ سب ایسی بدعات حسنہ( اچھے نئے کام) ہیں جن کے اہتمام کرنے والوں کوثواب سے نوازاجاتاہے کیوں کہ ان کاموں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ومرتبے کی تعظیم اور آپ کی ولادت طیبہ پرفرحت وانبساط کا اظہارشامل ہے.

    ذرا ادھر توجہ دیں: 

    فی زماننا  جشن میلاد کے جواجزاے تشکیلی ہیں وہ یہ ہیں:قرآن کی تلاوت. حمد ونعت. ذکر ولادت وسیرت طیبہ. قیام وسلام.ضیافت.محفل کی خوب صورتی کے لیے ڈیکوریشن. شامیانہ. قمقمے.سامعین تک پیغام کی ترسیل کے لیے الکٹرانک مشین ساونڈ سسٹم. علما اورخطباکے لیے منبر و اسٹیج کا اہتمام.یہ سب کے سب نیک نیتی اور ثواب کے لیے کیے جاتے ہیں اس لیےجائز اور مستحسن ہیں.ان میں سے کوئی بھی نا جائز یا غیر شرعی نہیں.

     اس کے علاوہ ان چیزوں کے اہتمام کے حوالے سے جامع ترمذی میں ہے:

    کان رسول ﷲ ﷺ یضع لحسان منبراً فی المسجد یقوم علیہ قائما یفاخر عن رسول ﷲ ﷺ او قالت ینافح عن رسول ﷲ ﷺ . 

    ترجمہ:حضور نبی کریم ﷺ حضرت حسان رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھواتے اور وہ اس پر کھڑے ہوکر رسول ﷲ ﷺکی شان میں مدحیہ اشعارپڑھتے یا فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کا دفاع کرتے.

    حضور ﷺ خوش ہوکر فرماتے:

    ان ﷲ تعالیٰ یویّد حسان بروح القدس مایفاخر او ینافح عن رسول ﷲ. 

     ترجمہ:بےشک ﷲ تعالیٰ روح القدس کے ذریعہ حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک وہ ﷲ کے رسول ﷺ کے متعلق فخریہ اشعار بیان کرتا ہے یا اشعار کی صورت میں ان کادفاع کرتا ہے.(جامع ترمذی کتاب الادب)

    شارع علیہ الصلوۃ والسلام کا حضرت حسان بن ثابت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کے لیے منبر لگوانا اور اپنی نعت پڑھوانامحافل ومجالس کےاہتمام اورڈیکوریشن پرمضبوط حجت ہے. اور اہتمام کا دائرہ چوں کہ بڑا وسیع ہے اس لیےجائز اصولوں کے تحت جس قدر بھی اہتمام کیا جاے وہ مذموم نہیں بلکہ مثاب ہے. ﷲ تعالی اس پر اجر و ثواب ہی عطا فرماےگا.ان شاء اللہ تعالی.

    میلاد کے برکات:

    حضرت شاہ ولی ﷲ محدث دہلوی( متوفیٰ 1172ھ )اپنا مشاہدہ بیان فرماتے ہیں:

     میں مکہ مکرمہ میں حضور ﷺ کی ولادت باسعادت کے دن ایک ایسی میلاد کی محفل میں شریک ہوا جس میں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام عرض کررہے تھے اور وہ واقعات بیان کررہے تھے جو آپ ﷺ کی ولادت کے موقع سے ظاہر ہوے اور جن کا مشاہدہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہوا اچانک میں نے دیکھا کہ اس محفل پرانوار وتجلیات کی برسات شروع ہوگئی بہرحال میں نے ان انوار میں غور و خوض کیا تو مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ یہ انوار ان ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس اور مشاہد میں شرکت پر مامور ومقرر ہوتے ہیں میں نے دیکھا کہ انوار ملائکہ کے ساتھ ساتھ انوار رحمت کا نزول بھی ہورہا تھا (از:فیوض الحرمین) 

    حضرت شاہ ولی ﷲ، حضرت شاہ عبدالرحیم قدس سرہ کے بیٹےہیں.خود حضرت عبدالرحیم کی عادت کریمہ تھی کہ ہرسال ولادت رسول ﷺ کی محفل منعقد فرماتے تھے. (تفصیل کے لیے دیکھیے: الدرالثمین)

     مندرجہ بالا واقعہ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ نے بھی اپنی کتاب تواریخ حبیب الٰہ میں  نقل فرمایا ہے. اردو زبان میں لکھی جانے والی سیرت کی یہ پہلی اور مستند کتاب بتائی جاتی ہے اس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ ہمارے یہاں مدارس میں یہ کتاب شامل نصاب بھی ہے

     اسی کتاب میں ولادت رسول ﷺ کی محفل سے متعلق حضرت کاکوروی علیہ الرحمہ کا بیان ہے:

    ماہ ربیع الاول روز دوشنبہ کو آپ ﷺکے سبب سے شرف عظیم حاصل ہوا حرمین شریفین اور اکثر بلاد اسلامیہ میں عادت ہے کہ ماہ ربیع الاول میں محفل میلاد شریف کرتے ہیں اور مسلمانوں کو مجتمع کرکے ذکر مولود شریف کرتے ہیں اور درود کی کثرت کرتے ہیں اور بطور دعوت کے کھانا یا شیرنی تقسیم کرتے ہیں سو یہ امر موجب برکات عظیمہ ہے اور سبب ہے ازدیاد محبت کا ساتھ جناب رسول ﷲ ﷺ کے.

     بارہویں ربیع الاول کو مدینہ منورہ میں یہ متبرک محفل مسجد نبوی شریف میں ہوتی ہے اور مکہ معظمہ میں مکان ولادت کےفضائل ﷺ میں.

     ذرا ادھربھی دیکھیں: 

    مذکورہ بیان سے محفل ولادت رسول ﷺ کے اجزائے ترکیبی پر کامل روشنی پڑتی ہے. ساتھ میں میلاد کی علت غائی بھی واضح ہو جاتی ہے اور اخیر کے جملے ان دریدہ دہن منکرین میلاد کے لیے بڑےاہم ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ میلاد کی روایت صرف برصغیر ہند وپاک کی ایجاد ہے.

     محفل میلاد ایسی ہونی چاہیے:

    میلاد النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی محفل کا مقصد چوں کہ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کی سیرت طیبہ سے روشنی حاصل کرنا،اپنے ایمان وایقان میں مضبوطی پیدا کرنا، اور اعمال واحوال کی اصلاح کرنا ہوتا ہے اس لیے ان اصل مقاصد کی جانب نظر کرتے ہوے دور حاضرمیں ہماری مجلسوں کا مندرجہ ذیل طریقوں پرمنعقد ہونا بہت ضروری ہے:

     (1)میلاد کی مجلس چھوٹی ہو یا بڑی، کانفرنس کی صورت میں ہو یا متوسط درجے کی. نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ منعقد ہونی چاہیے.خلوص وللہیت کے علاوہ کوئی دوسرا غرض کار فرمانہیں ہونا چاہیے. 

    ( 2) جس خطے یا علاقے میں مجلس منعقد کرنا ہوپہلے وہاں کےمتحرک وبیدار مغزاور مخلص علما اور قائدین جو گروپ بندی عصبیت و تنگ نظری اور ذاتی مفاد نہ رکھتے ہوں ان سے مشورہ کرلینا چاہئیے کیوں کہ علاقے کے حالات اور ان کے حساب سے خطبا اور مقررین کا انتخاب وہی بہتر کرسکتے ہیں.

    (3 )مخلص اور مناسب خطبا ہی کو دعوت دی جاے تاکہ فائدہ زیادہ ہو.ایک محفل میں زیادہ سے زیادہ دو خطیب اور ایک نعت خواں ہو بس. مہذب اورشائستہ انداز میں پڑھنےوالےنعت خواں ہو

    (4) خطبا کو ڈیڑھ دوماہ پہلے ہی عنوان خطاب دے دیا جاے تاکہ اچھی طرح خطاب تیارکر سکیں. 

    (5) محفل کی ٹائمنگ پہلے ہی سے فکس ہو.زیادہ سے زیادہ رات بارہ یا ایک بجے تک محفل رکھی جاےاس سے زیادہ نہیں تاکہ فجر میں بیدار ہونا سب کے لیے آسان ہو.

    (6)جلسہ یا محفل لب روڈ یا کسی شاہ راہ پر نہ ہو بلکہ کسی بڑے ہال یا عمارت کی صحن میں ہو جہاں سنجیدگی بحال رہے.اور لوگ میلہ ٹھیلا کی آفت سے بچ بچاکر سنجیدگی سے وعظ ونصیحت سنیں اور خوب محظوظ ہوں.اور کوشش کریں باوضو محفل میں شرکت ہو

    (7) مروجہ نظامت وقت کی بربادی کے سوا کچھ نہیں اس لیے کسی سنجیدہ عالم دین کا انتخاب کرلیا جاے.جو دوچارمنٹ میں حقیقی اوصاف بیان کرکے نام لے کر سامعین کے حوالے کردے. وغیرہ 

    اس طرح کے ہر وہ مناسب طریقہ اپنایا جاے جس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے اور حالات جس کا متقاضی ہے. 

    حضرت مفتی عنایت احمدکاکوروی علیہ الرحمہ اسی حوالے سےلکھتے ہیں:

    مسلمانوں کو چاہیے کہ بمقتضاے محبت آں حضرت ﷺ کی محفل شریف کیا کریں.اور اس میں شریک ہوا کریں.مگر شرط یہ ہے کہ بہ نیت خالص کیا کریں.

    ریا اور نمائش کو دخل نہ دیں.اور  احوال صحیح اور معجزات کا حسب روایات معتبرہ بیان ہو کہ اکثر لوگ جو محفل میں فقط شعر خوانی پر اکتفا کرتے ہیں یا روایات واہیہ نامعتبر سناتے ہیں خوب نہیں. مطلب شعر خوانی پر اکتفا بہتر نہیں اور روایات واہیہ نا معتبر تو یہ جائز ہی نہیں 

    ولادت رسول ﷺ کی محفل وقت کی اہم ضرورت:

    موجودہ دور میں کفر و ارتداد کی گرم بازاری ہے.ایک بڑا طبقہ دین کی صحیح تعلیم وتربیت سے نا آشنائی کے سبب الحاد وبے دینی کی کگار پر کھڑا ہے. حرمت وناموس رسالت سے بے بہرہ ہے.یہی وجہ ہےکہ حضور اکرم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر  کفار و مشرکین کو اپنا آئڈئیل بنایا جارہا ہے. اور رسول اللہ ﷺ  سے رشتہ محبت براے نام رہ گیا ہے ہر جانب سے ذلت اور خواری مقدر بنتی جارہی ہے. ایسے مذموم اورنامناسب حالات میں ضروری ہے کہ کثرت کے ساتھ ولادت رسول ﷺ کی محافل منعقد کی جائیں.  

    امت کے پیر وجواں مرد وعورت حتی کہ بچوں کو حضور ﷺ کی عظمت ورفعت،آپ کی میلاد اور ساتھ میں دین اسلام کی آفاقیت سے روشناس کرایا جائے. نبوی تعلیمات پیش کیے جائیں.اور ذہن وفکر میں یہ عقیدہ راسخ کرایا جاے:

    بمصطفیٰ  برساں خویش راکہ دین ہم اوست

     گرباونہ رسیدی تمام بولہبی است 

    تاکہ فرزندان توحید کے دلوں میں عشق رسول کا شمع فروزاں ہو.منزل سے بھٹکے ہوئے راہی کے لیے عشق رسول کی روشنی جادہ راہ ومنزل ثابت ہو. اور دیگر اقوام ومذاہب کےماننے والوں کو مسلمانوں کے ایمانی غیرت وحمیت کا پتہ چل سکے. 

    تلاوت قرآن مجید سے محفل کا آغاز کیا جاے.حمد ونعت کے بعد اصلاحی اورمفید خطاب ہوپھر درود وسلام  اور دعا پر مجلس کا خاتمہ کیا جاے. حسب استطاعت نذرونیاز تبرک لنگر وضیافت اور غربا کی اعانت کا اہتمام ہو تو بہتر.

    مفتی محمد صابررضامحب القادری نعیمی

     امین منزل سورجاپور اتردیناجپور بنگال

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad