تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 26 اکتوبر، 2021

7نومبر سے پورے بنگال میں پان مسالہ اور گٹکھا کی فروخت پر پابند

7نومبر سے پورے بنگال میں پان مسالہ اور گٹکھا کی فروخت پر پابند

7نومبر سے پورے بنگال میں پان مسالہ اور گٹکھا کی فروخت پر پابند

7نومبر سے پورے بنگال میں پان مسالہ اور گٹکھا کی فروخت پر پابند




نیوزٹوڈے اردو:شہر چاہے چھوٹاہو یابڑا ،دکان چاہے درمیان شہر ہو یا گاﺅں میں لیکن پورے بنگال میں ایک چیزایسی ہے جو سبھی دکانوںمیںدستیاب ہیں۔یہی حال شمالی بنگال کا بھی ہے۔سلی گوڑی میں چھوٹی سے لے کر بڑی تک سبھی دکانوں پر پان مسالہ اور گٹکے کی مصنوعات ملیں گی۔ سلی گوڑی کے بازار میں مختلف برانڈز کے گٹکے دستیاب ہیں۔ اب سنئے یہ سبھی 7 نومبر کے بعد مزید نظر نہیں آئے ئیں۔ ایک بار پھر پان مسالہ اور گٹکے کی فروخت پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ شمالی بنگال کے سبھی اضلاع اتردیناج پور،جنوبی دیناج پور،جلپائی گوڑی، کوچ بہار ،علی پور دوار ،مالدہ، دارجلنگ اور کالمپونگ سمیت پورے بنگال میں پان مسالہ، گٹکھا کھانے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک زیادہ تر لوگ پان مسالہ اور گٹکھا کھاتے ہیں۔ مزدوروں، تاجروں، دکانداروں سے لے کر ایک عام ملازمت پیشہ افراد تک، ہر کوئی سڑکوں، چوک چوراہوں پر کسی نہ کسی شکل میں پان مسالہ یا گٹکھا چباتے ہوئے پایا جائے گا۔ حالانکہ یہ صحت کے لئے کافی خطرناک ہے۔ اس کے باوجود ایسے لوگ ہیں جوجان بوجھ کر انجان بنتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان لڑکے یہ تو سب کو معلوم ہے کہ گٹکے کا استعمال کینسر جیسی خطرناک بیماری کا باعث بنتا ہے۔ 

7نومبر سے پورے بنگال میں پان مسالہ اور گٹکھا کی فروخت پر پابند

7نومبر سے پورے بنگال میں پان مسالہ اور گٹکھا کی فروخت پر پابند




گٹکھا اور پان مسالہ کتنے خطرناک ہیں، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں اس پر پابندی بھی لگ چکی ہے۔ ان مادوں میں تمباکو اور نیکوٹین کی آمیزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ صحت کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ مغربی بنگال میں گٹکھا اور پان مسالہ کی بڑھتی ہوئی کھپت اور اس سے ہونے والے نقصانات کے پیش نظر حکومت مغربی بنگال نے ریاستی محکمہ صحت اور ماہرین کے مشورے پر ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔کوئی بھی ایسی مصنوعات جس میں تمباکو اور نکوٹین مخلوط ہو ،سبھی نقصان دہ ہےں۔ یہ نقصان دہ مادے عام طور پر گٹکے اور پان مسالہ میں ملا دئے جاتے ہیں۔ 7 نومبر سے ایک بار پھر گٹکھا اور پان مسالہ پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ یہ پابندی 1 سال تک جاری رہے گی۔ اس دوران ریاست میں نہ تو گٹکھا اور پان مسالہ تیار کیا جائے گا اور نہ ہی فروخت کیا جائے گا۔ اسی طرح ڈسٹری بیوشن اور اسٹوریج پر پابندی بھی برقرار رہے گی۔ کچھ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اس طرح کی پابندی ریاستی حکومت نے ماضی میں بھی لگائی تھی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے برعکس یہ مادے ریاست میں چھپ کر فروخت ہونے لگے۔ دکاندار امیر ہونے لگے۔ گاہک لوٹنے لگے۔ کیا یہ صورت حال دوبارہ ہو رہی ہے؟ بازار میں لوگ ایک دوسرے سے سوال ر رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت کی طر ف سے گٹکھا اور پان مسالے پرلگائے جارہی پابندی کتنی کامیاب ہوتی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad