سواستھ ساتھی کارڈ قبول نہ کرنے والے نرسنگ ہوموں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی |
نیوزٹوڈے اردو:مغربی بنگال میں بہت کم لوگ یا خاندان رہ گئے ہیں جن کے پاس سواستھ ساتھی کارڈ نہیں ہے۔ درحقیقت یہ کارڈ علاج کے لئے 500000 کی امداد دیتا ہے، جس کی ادائیگی ریاستی حکومت کرتی ہے۔ کسی بھی سنگین بیماری میں کوئی بھی کارڈ ہولڈر اس کارڈ کے ذریعہ کسی بھی غیر سرکاری اسپتال میں اپنا علاج مفت کرا سکتا ہے۔اسمبلی چناﺅ سے قبل اور ریاست میں تیسری بار ترنمول کانگریس کی حکومت قائم ہونے کے بعد حال ہی اختتام پذیر ”دوارے سرکار “کیمپوںمیں اکثر لوگوں نے لائنوں میں کھڑے ہو کر یہ کارڈ حاصل کی لیکن سچائی یہ ہے کہ بیشتر نرسنگ ہوم والے اس سواستھ ساتھی کارڈ لینے کے قابل نہیں ہیں جس کی وجہ سے غریب لوگوں کو علاج میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نرسنگ ہوم کے لوگوں نے سواتھ ساتھی کارڈ لینے سے انکار کر دیا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اب اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔ انہوں نے غیر سرکاری اسپتالوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ سواستھ ساتھی کارڈ قبول نہیں کرتے ہیں تو ان کے اسپتال کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ شمالی بنگال کے دورے کے دوران اترکنیا میںانتظامیہ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے محکمہ کے افسران اور پولس افسران کو اس سلسلے میں توجہ دینے کو کہا اور انہیں ہدایت دی کہ اگر وہ سواستھ ساتھی کارڈ کو قبول نہیں کرتے ہیں تو کسی بھی پرائیویٹ اسپتال کے خلاف کارروائی کے لئے تیار رہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں